انجمن ترقی پسند مصنفین کا تیسرا کنونشن
28 اور 29 نومبر کو انجمن ترقی پسند مصنفین کا تیسرا دو روزہ کنونشن آرٹس کونسل میں منعقد ہوا
28 اور 29 نومبر کو انجمن ترقی پسند مصنفین کا تیسرا دو روزہ کنونشن آرٹس کونسل میں منعقد ہوا۔ کنونشن میں سندھ کے علاوہ پنجاب، بلوچستان اور پختونخوا کے مندوبین نے شرکت کی۔ اجلاس عام 28 نومبر شام 5 بجے ایک مشترکہ صدارت میں ہوا جس میں ہم بھی شامل تھے اس کنونشن سے چار دن پہلے آرٹس کونسل ہی میں میرے منتخب افسانوں کے مجموعے ''ریگ زار'' کی تقریب اجرا منعقد ہوئی تھی، جس کی صدارت پروفیسر سحر انصاری نے کی تھی۔
اس تقریب کا ذکر ہم نے اس لیے کیا کہ ان دونوں تقاریب کا مقصد ایک ہی تھا یعنی ادب کا فروغ۔ ہمارا معاشرہ عشروں سے مختلف النوع جرائم کے اڈے میں بدل کر رہ گیا ہے جنھیں روکنے کے لیے حکومتیں آپریشن پر آپریشن کر رہی ہیں اگرچہ ان لگاتار آپریشنوں سے جرائم کی شرح میں کمی آئی ہے لیکن جرائم ختم نہیں ہوئے اور جیسے ہی جرائم پیشہ عناصر پر آپریشنوں کا دباؤ کم ہوگا جرائم دوبارہ سر چڑھ کر بولنے لگیں گے ۔اس کی وجہ یہ ہے کہ معاشرے کے سدھار میں اس ہتھیار کو استعمال کرنے کی ہمارے حکمرانوں نے کوشش ہی نہیں کی جو انسانوں کے ذہن بدل دیتا ہے اور وہ ہتھیار ہے ''ترقی پسند ادب۔''
انجمن ترقی پسند مصنفین نے اسی ہتھیارکو استعمال کرکے تقسیم کے گہرے زخموں پر مرہم رکھنے کی کوشش کی اور انجمن ان کوششوں میں بڑی حد تک کامیاب رہی اور تقسیم کے نتیجے میں ہندوؤں اور مسلمانوں کے درمیان جو تلخیاں جو نفرتیں پیدا ہوئی تھیں ان میں کمی آئی۔ پاکستان میں انجمن ترقی پسند مصنفین اس طرح فعال نہیں ہے، جس طرح اسے ہونا چاہیے۔
میں نے اپنی صدارتی تقریر میں اس بات پر زور دیا کہ انجمن سمیت دوسری ادبی تنظیمیں جن سرگرمیوں میں پھنسی ہوئی ہیں وہ ایک بے کار مشق کے علاوہ کچھ نہیں۔ تقریباً تمام ادبی تنظیموں کا مرکزی کردار تنقیدی نشستوں تک محدود ہوکر رہ گیا ہے۔ ان نشستوں میں ادیب، شاعر بھی وہی ہوتے ہیں نقاد بھی وہی اور سامعین بھی وہی، جس کا نتیجہ بوریت اور وقت کا زیاں کے علاوہ کچھ نہیں ہوتا۔ حیرت ہے کہ اس لاحاصل مشق کا احساس ہمارے ادیبوں کو ہے نہ شاعروں کو جب کہ یہ سلسلہ عشروں سے یوں ہی چل رہا ہے۔
میں نے اس افسوسناک صورتحال کا تجزیہ کرتے ہوئے اس بات کی نشان دہی کرنے کی کوشش کی ہے کہ متحدہ ہندوستان میں انجمن ترقی پسند مصنفین کی کامیابی اور عوام میں مقبولیت کی وجہ یہ تھی کہ وہ اس دورکی مدر تنظیم سے جڑی ہوئی تھی۔
تقسیم کے بعد اس حوالے سے ابتری کی وجہ یہ رہی کہ پاکستان میں حکمران طبقات امریکا کے پٹھو بنے رہے اور امریکا کی ایما پر حکمرانوں نے ہر شعبے میں کام کرنے والے ترقی پسندوں اور ترقی پسند تحریکوں کو ریاستی طاقت سے کچلنے کی کامیاب کوششیں کیں، انجمن ترقی پسند مصنفین کو بھی ریاستی طاقت سے دبایا گیا۔ یہی نہیں بلکہ امریکی سرمائے سے مقامی مذہبی جماعتوں کے رہنماؤں نے یہ پروپیگنڈا شروع کیا کہ ترقی پسندی کا مطلب لادینیت ہے۔ ہمیں حیرت ہے کہ ترقی پسند تحریکوں کو ان کے ایجنڈے کے بجائے نام کے حوالے سے دیکھا گیا اور آج تک یہی سلسلہ جاری ہے۔
ترقی پسند طاقتیں روز اول ہی سے سامراجی طاقتوں خصوصاً امریکا کے خلاف رہی ہیں کیونکہ ایک تو امریکا اس سرمایہ دارانہ نظام کا سرپرست اعلیٰ ہے جس نے انسانوں کو دولت کے پیچھے بھاگنے پر مجبور کرکے حیوان بنادیا ہے اور ایک ایسا طبقاتی نظام عوام کے سروں پر مسلط کردیا ہے جس میں دنیا کی آبادی کا 90 فیصد حصہ دو وقت کی روٹی سے محتاج ہے اور دو فیصد ایلیٹ نے 80 فیصد قومی دولت پر قابض ہوکر اپنی دنیا کو روایتی جنت بنالیا ہے۔انجمن ترقی پسند مصنفین سمیت تمام ترقی پسند تنظیمیں اس استحصالی طبقاتی نظام کے خلاف 68 سالوں سے جدوجہد کررہی ہیں۔
انجمن ترقی پسند مصنفین کا 29-28 نومبر 2015 کوکراچی میں ہونے والا کنونشن اسی کی ایک کڑی تھا۔ انجمن سمیت تمام ترقی پسند طاقتوں نے ہمیشہ امریکا کی عوام دشمن سامراجی پالیسیوں اور اس کے ہاتھ پاؤں جاگیردارانہ اور سرمایہ دارانہ نظام کی سفاکیوں سے عوام کو آگاہ کرنے کی کوشش کی ماضی میں بھی میڈیا نے ترقی پسند طاقتوں کی آواز عوام تک پہنچنے کی ہر کوشش کا راستہ روکنے کی کوشش کی اور آج بھی اس کے ایجنٹ عوام میں ذہنی انقلاب برپا کرنے کی ہر کوشش کو دبانے میں لگے ہوئے ہیں۔ یہ کوششیں اب ذاتی سطح پر بھدے انداز میں کی جا رہی ہیں۔
حیرت کی بات یہ ہے کہ ماضی میں سامراج مخالفت کی وجہ سے ترقی پسند کارکنوں پر حملے کرنے والے انتہا پسند آج سب سے بڑے سامراج اور امریکا دشمن بنے ہوئے ہیں ۔ ماضی میں جب ترقی پسند کارکن سرمایہ دارانہ، جاگیردارانہ نظام کے خلاف آواز اٹھاتے تو رجعت پسند ان پر ڈنڈے برساتے تھے۔
آج یہی رجعت پسندوں کی زبانیں امریکا سرمایہ دارانہ اور جاگیردارانہ نظام کے خلاف بولتے نہیں تھک رہی ہیں۔ ماضی میں کسانوں، ہاریوں، مزدوروں کے حقوق کی بات کرنے کو طبقاتی نفرتیں پھیلانا کہا جاتا تھا، آج وہی اکابرین کسانوں، ہاریوں اور مزدوروں کے حقوق کی بڑھ چڑھ کر باتیں کر رہے ہیں۔ یہ اس لیے ہو رہا ہے کہ ماضی میں بھی ترقی پسندوں کا یہی منشور تھا، آج بھی ترقی پسندوں کا یہی منشور ہے۔حق ہمیشہ باطل پر غالب آتا ہے جس کا مشاہدہ ہم آج رجعت پسندوں کی سیاست سے کرسکتے ہیں۔
انجمن ترقی پسند مصنفین ادیبوں، شاعروں کی تنظیم ہے لیکن بعض ایسے دوست جن کا نہ ادب سے کوئی تعلق ہے نہ شاعری سے، انجمن ترقی پسند مصنفین پر قبضہ کرنے اور اس میں انتشار پھیلانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ایسے عناصرکو پیچھے دھکیلنے کا مثبت طریقہ یہ ہے کہ انجمن کو فعال بنایا جائے اور اسے تنقیدی نشستوں اورگھریلو شاعروں وغیرہ کے حصار سے نکال کر عوام میں لایا جائے۔ میں نے بارہا ان ہی کالموں میں اس حقیقت کو سامنے لانے کی کوشش کی ہے کہ دنیا کے اچھے ادب کا انتخاب کرکے اس کے سستے ایڈیشن چھاپنے اور انھیں عوام تک پہنچانے کے ایک منظم سلسلے کا آغاز کیا جائے۔
یہ درست ہے کہ انجمن کے پاس اتنے وسائل نہیں ہیں لیکن انجمن کے وفود اگر وسائل رکھنے والی ادبی تنظیموں سے ملیں اور ان پر دباؤ ڈالیں تو اس بات کا امکان ہے کہ صاحب وسائل ادبی تنظیمیں اچھے ادب کے سستے ایڈیشن نکالنے کے لیے تیار ہوجائیں۔ قیام پاکستان کے بعد دو دہائیوں تک ہندوستان اور پاکستان کے ترقی پسند ادب کی کتابیں آنہ لائبریریوں اور کیبن لائبریریوں میں کرایے پر مل جاتی تھیں اور عوام لائنیں لگا کر یہ کتابیں حاصل کرتے تھے جس کی وجہ جرائم نہ ہونے کے برابر تھے اور لوگ رات میں گھروں کے دروازے کھلے رکھ کر آرام سے سوتے تھے۔