امریکا میں دہشت گردی

برنارڈینو میں بدھ کو معذور افراد کی بحالی کے مرکز پر مسلح افراد کے حملے سے 14 افراد ہلاک اور 14زخمی ہو گئے


Editorial December 04, 2015
برنارڈینو میں بدھ کو معذور افراد کی بحالی کے مرکز پر مسلح افراد کے حملے سے 14 افراد ہلاک اور 14زخمی ہو گئے، فوٹو: اے ایف پی

KARACHI: امریکی ریاست کیلیفورنیا کے علاقے سان برنارڈینو میں بدھ کو معذور افراد کی بحالی کے مرکز پر مسلح افراد کے حملے سے 14 افراد ہلاک اور 14زخمی ہو گئے' واقعہ مرکز کے کانفرنس ایریا میں پیش آیا جہاں فوجی وردیاں، بلٹ پروف جیکٹیں اور اسکیننگ ماسک پہنے ہوئے بھاری اسلحے سے لیس تین افراد نے گھس کر فائرنگ کر دی' فائرنگ کے وقت مرکز میں تقریب ہو رہی تھی جس میں معذور بچے شریک تھے۔

امریکی صدر بارک اوباما نے فائرنگ کے واقعے کے بعد گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ امریکیوں کو محفوظ بنانے کے لیے مزید اقدامات کیے جائیں گے' حکومت کے تمام ذمے داروں کو حملے کی تحقیقات کے لیے متحد ہونا چاہیے'انھوں نے کہا کہ فی الحال حملے کی وجوہات معلوم نہیں' تحقیقات جاری ہے۔ ڈیموکریٹک پارٹی کی صدارتی امیدوار ہلیری کلنٹن نے کہا کہ یہ معمول کی بات نہیں اسلحہ کے زور پر پھیلائے جانے والے تشدد کو روکنے کے لیے فوری اقدامات کرنا ہوں گے۔

امریکا میں ہونے والے اس حملے سے یہ عیاں ہوتا ہے کہ دہشت گردی کی جنگ اب ایشیا سے نکل کر یورپ اور امریکا تک تیزی سے پھیل رہی ہے اور آنے والے دنوں میں ان ترقی یافتہ ممالک کو دہشت گردی کے مزید واقعات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے' اس طرح دہشت گردی ایک عالمی مسئلہ بن کر سامنے آئی ہے جس سے نمٹنے کے لیے بھی عالمگیر اقدامات کی ضرورت ہے۔

پیرس میں 13نومبر کو ہونے والے دہشت گردی کے واقعے میں 130 افراد ہلاک اور درجنوں زخمی ہو گئے تھے جس کی ذمے داری داعش نے قبول کر لی تھی۔ امریکا میں ہونے والے حملے کی ذمے داری ابھی تک کسی نے قبول نہیں کی اور نہ ہی یہ سامنے آیا ہے کہ حملہ آور کون تھے اور انھوں نے کن مقاصد کے تحت یہ کارروائی کی۔ دنیا بھر میں دہشت گردی کے تیزی سے بڑھتے ہوئے واقعات اس امر پر دلالت کرتے ہیں کہ وہ ترقی یافتہ ممالک جنھیں محفوظ سمجھا جاتا تھا اب دہشت گردی کی لپیٹ میں آ کر غیر محفوظ ہوتے جا رہے ہیں اور وہاں بھی شہریوں کی جان و مال کو خطرات لاحق ہو گئے ہیں۔

اگرچہ امریکا اور یورپ کے پاس دہشت گردوں سے نمٹنے کے لیے جدید ہتھیار،ٹیکنالوجی اور تربیت یافتہ افرادی قوت بھی موجود ہے اس لیے ممکن ہے کہ وہ دہشت گردی کے واقعات میں خاطر خواہ کمی تو لے آئیں لیکن دہشت گرد جس قدر زیادہ منظم اور مضبوط ہو چکے ہیں اور ان کا دائرہ کار جس قدر زیادہ وسیع ہو چکا ہے اس سے یہ اندازہ لگانا قطعی مشکل نہیں کہ تمام تر حفاظتی اقدامات کے باوجود دہشت گردی کے واقعات کو مکمل طور پر روکنا ممکن نہیں۔ دہشت گردوں کی ایک بڑی تعداد بے چہرہ اور بے شناخت ہے جو معاشرے میں عام آدمی کی طرح گھومتے پھرتے اور ایسی اطلاعات بھی منظرعام پر آ رہی ہیں کہ دہشت گردوں کی بڑی تعداد اعلیٰ عہدوں پر بھی فائز ہے۔

اس کے علاوہ ان کے حمایتیوں کی ایک بڑی تعداد بھی اثرورسوخ کی مالک ہے' اس طرح دہشت گردوں اور ان کے سہولت کاروں پر مشتمل یہ نیٹ ورک بہت مشکل اور پیچیدہ ہو چکا ہے، ان پیچیدگیوں کے باعث دہشت گردوں کا سراغ لگانا کافی مشکل امر ہے جسے انجام تک پہنچانے میں کافی عرصہ درکار ہے۔ اس طرح دہشت گردی کی جنگ کا خاتمہ چند مہینوں اور برسوں میں ممکن نہیں یہ ایک طویل جنگ ہے جسے جیتنے کے لیے بہت سے جانی اور مالی وسائل کی قربانی دینا پڑے گی۔

سیاسی تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ دنیا بھر میں جس طرح دہشت گردوں کی مسلح تنظیمیں وجود میں آ رہی ہیں اور روز بروز ان کی تعداد میں اضافہ ہوتا چلا جا رہا ہے اس سے یہ اندازہ لگانا قطعی مشکل نہیں کہ آنے والے دنوں میں دہشت گردی کا عفریت مزید پھیلے گا اور پوری دنیا اس کی لپیٹ میں آ جائے گی' ان کا کہنا ہے کہ حیرت انگیز امر ہے کہ دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے جتنے بھی اقدامات کیے گئے ان سے بظاہر یہی معلوم ہوا کہ دہشت گردی میں کمی آئی ہے لیکن دوسری جانب نگاہ دوڑائی جائے تو یوں لگتا ہے کہ دہشت گردی کا دائرہ کار مزید پھیلا اور مضبوط ہوا ہے دہشت گردوں کی تعداد میں کمی آنے کے بجائے روز بروز ان میں اضافہ ہوتا چلا جا رہا ہے۔ آخر وہ کیا وجوہات ہیں کہ دہشت گردی کم ہونے کے بجائے پھیلتی چلی جا رہی ہے۔

تجزیہ نگار کہتے ہیں کہ دہشت گردی کو فروغ دینے میں امریکا اور یورپی ممالک کا بھی ایک بڑا ہاتھ ہے وہ سانپ جو انھوں نے دوسروں کو ڈسوانے کے لیے پالے تھے آج وہ سانپ انھیں ہی ڈس رہے ہیں۔ جب تک دہشت گردی کے پھیلاؤ کا باعث بننے والے اسباب موجود ہیں دہشت گردی کا خاتمہ ممکن نہیں۔ امریکا اور تمام ترقی یافتہ دنیا کو دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے کسی بہتر اور ایسے لائحہ عمل پر غورکرنا چاہیے جس سے دہشت گردی بڑھنے کے بجائے ختم ہو جائے۔