نواز شریف مودی ملاقات

بھارت اور پاکستان کی دوستی کا نعرہ لگانے والوں کے چہروں پر سیاہی مل دی گئی۔


Dr Tauseef Ahmed Khan December 05, 2015
[email protected]

LONDON: انتہا پسندی کے معاملے میں عروج پانے کے باوجود بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کی پیرس میں پاکستانی وزیراعظم محمد نواز شریف سے ملاقات دنیا میں امن کے استحکام کی خواہش کرنے والوں کے لیے تقویت کا باعث ہے۔

اگرچہ ذرایع ابلاغ کا کہنا ہے کہ وزیر اعظم مودی اچانک اپنی نشست سے اٹھ کر نواز شریف کی نشست پر آئے اور پھر دونوں رہنما دیر تک تبادلہ خیال کرتے رہے، مگر خارجہ امور کی باریکیوں پر نظر رکھنے والے ماہرین کہتے ہیں کہ اس ملاقات کے لیے بہت سے رابطے ہوئے تھے۔ وزیر اعظم نواز شریف نے اس ملاقات کو خوشگوار قرار دیا، مگر اخلاقی قدروں کو مدنظر رکھتے ہوئے بات چیت کو افشا نہیں کیا۔

بھارتی وزارت خارجہ کے ترجمان نے اس ملاقات کو محض Exchange of Courtesies قرار دیا۔ خارجہ امور کی رپورٹنگ کرنے والے ایک صحافی نے اس ملاقات پر تبصرہ کرتے ہوئے اپنی رپورٹ میں لکھا ہے کہ وزیر اعظم مودی کے بین الاقوامی ہمدرد اس ملاقات کے خواہاں تھے۔ پاکستان کے ایک صحافی کا کہنا ہے کہ بھارت میں جنتا پارٹی کی بہار میں شکست نے مودی کو یہ ملاقات کرنے پر مجبور کیا۔ بھارتی اور پاکستانی وزیر اعظم کی یہ ملاقات ماضی میں ہونے والی ملاقاتوں سے مختلف تھی۔ بھارت میں بھارتیہ جنتا پارٹی کا ایک مضبوط ونگ شیو سینا ہے جو بھارتی ریاست کی ساخت کو تبدیل کرنا چاہتی ہے۔

یہ گروہ سیکولرازم کے بجائے بھارت کو ہندو ریاست میں تبدیل کرنا چاہتا ہے، اگرچہ شیوسینا گزشتہ صدی سے متحرک ہے، مگر بھارت کے عوام نے اس کے انتہاپسندی کے ایجنڈا کی حمایت نہیں کی، مگر بھارت کی سیکولر جماعتوں کانگریس اور کمیونسٹ پارٹیوں کی زبوں حالی اور عوام سے دور ہونے کی پالیسیوں اور نریندر مودی کی گجرات کو ترقی کے ماڈل بنانے کی بنا پر بھارت کے عوام نے انھیں مینڈیٹ دیا۔ مگر وزیر اعظم کی مفادات سے بھرپور پالیسیوں کی بنا پر شیو سینا کو اپنے عزائم کو پورا کرنے کا موقع ملا۔ شیو سینا نے مسلمانوں کی زندگی تنگ کر دی۔

بھارت اور پاکستان کی دوستی کا نعرہ لگانے والوں کے چہروں پر سیاہی مل دی گئی۔ ہندوتوا کے ایجنڈے کی زد میں صرف مسلمان پر ہی نہیں بلکہ روشن خیال سیکولر اور سیکولر ہندؤں کو بھی نشانہ بنایا جانے لگا اور یوں محسوس ہونے لگا کہ بھارت کی ریاست کا تشخص بگڑ جائے گا۔ مگر بھارت میں سیکولر قوتیں اب بھی مضبوط ہیں۔ بھارت کے ادیبوں، فنکاروں نے احتجاج کیا۔ قومی ایوارڈ واپس کرنے کی تحریک شروع ہوئی۔

بھارت کے ادیبوں، دانشوروں، سائنسدانوں، فلمی ڈائریکٹرز اور فلمی اداکاروں نے اپنے اعزازات واپس کیے۔ ایوارڈ واپس کرنے والوں میں ہندو مسلمان سب شامل تھے۔ سول سوسائٹی کا یہ احتجاج عالمی افق پر مودی حکومت کے لیے بڑا دھچکا ہے۔ بھارتی جنتا پارٹی نے ریاست بہار کے انتخابات میں یہ نعرہ لگایا کہ جنتا پارٹی کی کامیابی سے پاکستان کے عزائم ناکام ہونگے۔ مگر بہار کے ووٹروں نے پاکستان دشمنی کے نعرے کو مسترد کر دیا۔ ریاست جموں و کشمیر کو بھارتی آئین کی شق 370 کے تحت خصوصی حیثیت حاصل ہے۔ کشمیر کے عوام کو اس شق کی بنا پر بنیادی اشیا کم قیمت میں ملتی ہیں اور سرکاری ملازمتوں کے ڈھانچے میں ان کے لیے خصوصی کوٹہ مختص ہے۔

جنتا پارٹی نے اپنے انتخابی منشور میں شق 370 کو ختم کرنے کے لیے آئین میں ترمیم کا وعدہ کیا، مگر سری نگر ہائی کورٹ نے اس شق کو بھارتی آئین کا لازمی حصہ قرار دیا۔ اس لیے پہلے جموں و کشمیر کے انتخابات میں جنتا پارٹی اکثریت حاصل کرنے میں ناکام رہی ہے۔ اقتصادی ماہرین کا کہنا ہے کہ بھارت کا کارپوریٹ سیکٹر پاکستان سے دوستی کے حق میں ہے۔ یہ کارپوریٹ ہر قسم کی جنگ کو اپنی ترقی کے منافی سمجھتا ہے اور پرامن تعلقات کو اہمیت دیتا ہے۔

اس کارپوریٹ سیکٹر نے مودی کی حمایت اپنے سیکٹر کی توسیع کے لیے کی تھی۔ ماہرین نواز مودی ملاقات کا کریڈٹ میاں نواز شریف کی پالیسیوں کو دے رہے ہیں۔ وزیر اعظم نواز شریف اور صدر اوباما کی ملاقات کے بعد جاری ہونے والے اعلامیے میں اس بات پر اتفاق ہوا تھا کہ ملک میں موجود کالعدم تنظیموں کے خلاف کارروائی ہو گی اور شمالی وزیرستان میں موجود حقانی نیٹ ورک کو ختم کر دیا جائے گا۔ پاکستانی حکومت نے حافظ سعید کی کوریج پر پابندی لگا دی ۔ اسی طرح فوج کے آپریشن ضرب عضب نے حقانی نیٹ ورک کو کمزور کیا۔ بھارتی کرکٹ کنٹرول بورڈ کے مایوس کن رویے کے باوجود نواز شریف نے پاکستان کرکٹ کنٹرول بورڈ کے صدر شہریار خان کو ہدایت کی کہ بھارتی بورڈ کے صدر سے رابطے جاری رکھے جائیں۔

اور اگر بھارت میں کرکٹ سیریز ممکن نہیں تو کسی دوسرے ملک میں اس سیریز کے انعقاد کی کوششیں کریں۔ اب شہریار خان کی کوششوں کے باعث نتائج سامنے آئے اور سیریز ہونے کے امکانات بڑھ گئے ہیں۔ دونوں حکومتوں کی کوششوں سے کنٹرول لائن پر حالات ایک حد تک معمول پر آ گئے ہیں۔ دیوالی کے موقعے پر پاکستان رینجرز اور بھارت کی ماڈل سیکیورٹی فورس کے افسروں میں مٹھائی کا تبادلہ ہوا۔ مٹھائی کے تبادلے کا سلسلہ کچھ عرصے سے معطل ہو گیا تھا۔

پھر ایدھی ٹرسٹ کی جانب سے بھارتی گونگی بہری لڑکی گیتا کو 8 سال تک باعزت طور پر اپنی پناہ میں رکھنے اور بھارت بھجوانے سے دونوں ملکوں کے درمیان دوستی کے راستے مضبوط ہوئے۔ امریکی حکومت کو بھارت کی مداخلت کے بارے میں دیے گئی دستاویزات میں حقائق پر مبنی شہادتیں شامل نہ ہونے سے کشیدگی کم کرنے میں مدد ملی ہے۔

تاریخ میں ایک بار پھر موقع ملا ہے کہ دونوں حکومتیں ایک دفعہ پھر مذاکرات کا سلسلہ شروع کریں۔ مذاکرات دوطرفہ تجارت کی راہ میں رکاوٹوں کو دور کرنے، دونوں ممالک کے ماہی گیروں کو گرفتاری سے بچانے کے لیے جامع طریقہ کار طے کرنے چاہئیں۔ عوام کے عوام سے رابطوں کے لیے سفر میں حائل رکاوٹیں ختم کرنے کے معاملات طے ہونے ضروری ہیں۔ عوام کو سہولتیں دینے کے لیے کراچی، پشاور، کوئٹہ، لاہور، لکھنو، ممبئی، کلکتہ اور مدراس میں قونصل خانے قائم ہونے چاہئیں۔

اس وقت کراچی سے پی آئی اے کی ایک ایک فلائٹ دہلی اور ممبئی جاتی ہے، مگر کسی بھارتی کمپنی کی کوئی فلائٹ پاکستان نہیں آتی۔ فلائٹوں کی تعداد میں اضافہ ضروری ہے۔ دونوں ممالک کو اسلام آباد اور نئی دہلی میں مقیم دونوں ملکوں کے صحافیوں کی نقل و حرکت پر غیر ضروری پابندیاں ختم کرنی چاہئیں۔

کتابوں اور اخبارات کی تجارت کے لیے حوصلہ افزا اقدامات بھی اشد ضروری ہیں۔ بھارت اور پاکستان فطری پڑوسی ہیں اور پڑوسی تبدیل نہیں ہوتے۔ دونوں پڑوسی دوستی اور اچھے تعلقات سے اپنے ملکوں کی غربت کے خاتمے کا اہم کام سرانجام دے سکتے ہیں۔ انسانوں نے ہزاروں سال کے تجربے سے سیکھا ہے کہ مذاکرات اور اچھے تعلقات سے ہی مسائل کا حل نکلتا ہے۔ جنگ جنون اور کشیدگی سے مسائل کبھی حل نہیں ہوتے۔