کپتان کی خود پیدا کردہ مشکلات

عمران خان باتیں تو نئے پاکستان کی کرتے رہے، لیکن ان کے دائیں بائیں ایسے لوگ تھے


Zaheer Akhter Bedari December 05, 2015
[email protected]

عمران خان باتیں تو نئے پاکستان کی کرتے رہے، لیکن ان کے دائیں بائیں ایسے لوگ تھے، جنھیں پرانے پاکستان کے داعی اور رکھوالے سمجھا جاتا ہے۔ اس کے ساتھ ان کے اردگرد ایسے لوگ بھی تھے جو عمران کے کامیاب جلسوں کو دیکھ کر یہ سمجھ رہے تھے کہ تحریک انصاف اب برسر اقتدار آنے والی ہے، ایسا ہوا تو وہ بڑی اور منافع بخش جگہیں حاصل کر سکیں گے۔ اب تحریک انصاف کی مسلسل ناکامیوں سے یہ عنصر مایوس ہو گیا ہے اور پارٹی کی سرگرمیوں میں حصہ لینے سے اجتناب برت رہا ہے۔ ہر وقت کپتان کے دائیں بائیں نظر آنے والے یہ لوگ اب نہ دائیں نظر آ رہے ہیں نہ بائیں۔

عمران خان کی زندگی کا بڑا حصہ مغربی ملکوں میں گزرا ہے، اس پس منظر میں انھیں ماڈرن سیاست کی طرف آنا چاہیے تھا اور عوام کے سامنے ایسے پروگرام پیش کرنا چاہیئں تھے جو آج کی زندگی سے مطابقت رکھتے ہوں۔

اس حوالے سے نواز شریف نے جرأت کا مظاہرہ کرتے ہوئے پاکستان کو ایک لبرل اور جمہوری ملک بنانے کا اعلان کیا، اگرچہ کچھ مذہبی جماعتیں نواز شریف کے لبرل پاکستان کی شدت سے مخالفت کر رہی ہیں، لیکن عوام لبرل پاکستان کو پسند کرتے ہیں، کیونکہ لبرل ازم کا مطلب اعتدال پسندی کیسوا کچھ نہیں اور پاکستان کے عوام عملاً لبرل ہیں اور ہر قومی انتخابات میں انھوں نے لبرل طاقتوں کو ہی کامیاب کرایا۔ بدقسمتی سے کپتان صاحب ان مذہبی جماعتوں سے اتحاد کی ڈور میں بندھے جا رہے ہیں جو لبرل ازم کی مخالف نہیں دشمن ہیں اور لبرل ازم کے حوالے سے نواز شریف کے پیچھے پنجے جھاڑ کر پڑی ہوئی ہیں۔

کراچی کے بلدیاتی انتخابات لڑنے میں کپتان نے جماعت اسلامی سے اتحاد کر لیا۔ لوگ حیران ہیں کہ نئے پاکستان کا داعی محض ایک شہر میں کچھ بلدیاتی سیٹیں حاصل کرنے کے لیے پرانے پاکستان کی مستند مذہبی جماعت سے گلے مل رہا ہے۔ بدقسمتی سے جماعت اسلامی ان مذہبی جماعتوں میں سے ایک ہے جنھیں عوام نے ہر الیکشن میں مسترد کر دیا ہے، ایسی عوام کی مسترد کردہ جماعت سے اتحاد عوام کی ناراضی کا سبب بن گیا ہے اور تحریک انصاف کو اتنی کامیابی بھی حاصل نہ ہو سکے گی جتنی اس اتحاد کے بغیر مل سکتی تھی۔ یہ سیاست عوام کی سمجھ سے باہر ہے عوام یہ سمجھتے ہیں کہ کپتان مسلسل دوغلی سیاست کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔

تحریک انصاف کو ضمنی اور بلدیاتی انتخابات کے پہلے اور دوسرے مرحلے میں پنجاب میں بڑی ناکامی کا سامنا کرنا پڑا۔ سندھ اور دوسرے صوبوں میں بھی یہی حال رہا۔ تحریک انصاف کی یہ ناکامیابی دراصل دھرنا سیاست کی ناکامیوں کا تسلسل ہے۔ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ تحریک دھرنا سیاست کی ناکامی کا سنجیدگی سے جائزہ لے کر ایسی پالیسیاں تشکیل دیتی، جو عوام کے لیے دلچسپی اور ترغیب کا باعث بنتیں لیکن کپتان لٹھ مار سیاست سے باز نہ آئے اور اپنے لیے مثبت اور عوام کے لیے اپیلنگ سیاست اختیار کرنے کے بجائے لٹھ مار اور الزامی سیاست کرتے رہے۔

ملک کے اہم سیاسی مسائل پر ایک واضح موقف اختیار کرنے کے بجائے نئے پاکستان کے ایک مبہم نعرے کو اپنی سیاست کا مرکز بنا لیا۔ عوام اس نعرے کو سمجھ نہ سکے اس کے علاوہ کپتان نظریاتی حوالے سے ہمیشہ ایسے راستے پر چلتے رہے جو ان کے نئے پاکستان کی نفی کرتے ہیں۔

ہمارے ملک کا برسوں سے سب سے بڑا مسئلہ مذہبی انتہا پسندی اور اس کا پروڈکٹ دہشت گردی رہا ہے۔ اس حوالے سے کپتان صاحب درست سمت میں عوام کی خواہش کے مطابق دہشت گردی کی مذمت کرنے کے بجائے ڈرون حملوں کے خلاف تحریک چلاتے رہے، جسے عوام نے بجا طور پر دہشت گردوں کی حمایت سے تعبیر کیا۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ عوام کی نظروں میں کپتان دہشت گردوں کے حامی ٹھہرے جب کہ عوام دہشت گردوں اور مذہبی انتہا پسندوں کو ملک اور عوام کا دشمن سمجھتے ہیں اس احمقانہ سیاست نے کپتان کو عوام کی نظروں میں بدظن کر دیا۔

تحریک انصاف کو 2013ء میں خیبر پختونخوا میں کامیابی حاصل ہوئی اور وہاں تحریک انصاف کی حکومت بن گئی۔ کپتان کے لیے یہ ایک سنہری موقع تھا کہ وہ اپنی ساری توانائیاں لگا کر خیبر پختونخوا کو ایک ماڈل ریاست بناتے لیکن کپتان نے یہ چانس بھی گنوا دیا۔ مخالفین کو یہ سمجھنے کا موقع ملا کہ عمران خان ایک چھوٹے سے صوبے کو تو نیا نہ بنا سکے وہ پورے پاکستان کو نیا پاکستان کیسے بنائیں گے؟ مشکل یہ ہے کہ کپتان صاحب اب تک اس مبہم اصطلاح سے چمٹے ہوئے ہیں اس کی ایک وجہ تو یہ ہو سکتی ہے کہ خود عمران خان نئے پاکستان کا مطلب نہیں سمجھتے دوسری وجہ یہ ہو سکتی ہے کہ وہ مذہبی عناصر کو ناراض نہیں کرنا چاہتے۔

پنجاب میں کپتان نے مسلم لیگ (ق) سے اتحاد کا اعلان کیا ہے، مسلم لیگ (ق) صرف آمروں کے ساتھ چلنے والی جماعت ہے اور کپتان اٹھتے بیٹھتے آمروں کی مذمت کرتے ہیں۔ اس اتحاد کی وجہ پنجاب میں بھی تحریک انصاف کو نقصان ہی ہو سکتا ہے۔ اگر بات کپتان نئے پاکستان کی کرتے ہیں جس کا عمومی مقصد ترقی پسند پاکستان ہی ہو سکتا ہے تو پھر عمران کو جماعت اسلامی اور مسلم لیگ (ق) جیسی جماعتوں کے بجائے ترقی پسند سیاسی جماعتوں سے اتحاد کرنا چاہیے تھا۔

اس قسم کے اتحاد سے ایک فائدہ تو یہ ہوتا کہ کمزور سیاسی جماعتیں طاقتور ہو جاتیں اور اس طاقت سے کپتان کو صحیح معنوں میں نیا پاکستان بنانے میں مدد ملتی۔ ملک میں نئے پاکستان کے حامی ہر شعبہ زندگی میں موجود ہیں۔ وکلا برادری، ڈاکٹرز، طلبا، مزدوروں وغیرہ کی تنظیمیں لبرل اور ترقی پسند پاکستان کی حامی ہیں، کپتان اگر ان تنظیموں کو ساتھ رکھتے تو اس کا بھی انھیں فائدہ ہو سکتا تھا اور ان کا امیج بہتر ہو سکتا تھا لیکن ایسا لگتا ہے کہ انھیں مشورے دینے والی ٹیم عقل سے پیدل ہے یا پھر کپتان اچھے مشورے قبول نہیں کرتے۔

بڑے سیاسی رہنماؤں کو اپنی نجی زندگی کے حوالے سے بہت محتاط رہنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ عمران کی پہلی شادی ناکام ہو گئی دوسری شادی بھی ناکام ہوئی۔اب کپتان کے لیے ایک ہی راستہ ہے کہ وہ نئے پاکستان کی مبہم اصطلاح کو چھوڑ کر پاکستان اور عوام کے مسائل کے حوالے سے ایک واضح پالیسی اپنائیں۔ پاکستان کا بڑا مسئلہ مذہبی انتہا پسندی ہے اس کے خلاف کھل کر بات کریں جاگیرداری نظام ترقی کی راہ میں رکاوٹ ہے۔ زرعی اصلاحات کا مطالبہ کریں Status Quo کی لعنت سے نجات حاصل کرنے کے لیے اس کی مخالف جماعتوں کو ساتھ ملائیں تب جا کر انھیں عوام میں پذیرائی مل سکتی ہے۔

مقبول خبریں