کسانوں کے جعلی ہمدرد

کسان ہماری آبادی کا لگ بھگ 60 فیصد حصہ بتائے جاتے ہیں،


Zaheer Akhter Bedari December 07, 2015
[email protected]

جب بھی کسی طبقے میں اپنے حقوق کا احساس بڑھنے لگتا ہے تو اشرافیہ ان کی توجہ بٹانے کے لیے مختلف ہتھکنڈے استعمال کرنے لگتی ہے۔ کسان ہماری آبادی کا لگ بھگ 60 فیصد حصہ بتائے جاتے ہیں، جنھیں وڈیروں اور جاگیرداروں نے 68 سال سے غلام بنائے رکھا ہے۔ ملک میں غریب طبقات کے خلاف بڑھتے ہوئے مظالم نے کسانوں کو بھی متحرک کر دیا ہے۔ لیکن کسانوں میں جو ہلچل پیدا ہو رہی ہے اس کی قیادت وہ لوگ کر رہے ہیں جو چھوٹی موٹی مراعات کو ہی کسانوں کے مسائل کا حل سمجھتے ہیں۔

کھاد کی قیمتوں میں کمی، اجناس کی قیمتوں میں تھوڑا بہت اضافہ اور چھوٹی موٹی مراعات کے لیے کسانوں، ہاریوں کو سڑکوں پر لایا گیا، مظاہروں دھرنوں کی خبریں جب میڈیا میں آنے لگیں تو کچھ مخصوص سیاسی جماعتوں کو بھی موقع سے فائدہ اٹھانے کا خیال آیا اور ان جماعتوں نے ملک خصوصاً پنجاب کے مختلف علاقوں میں ریلیاں نکالنے اور کسانوں کو بے وقوف بنانے کا کام شروع کر دیا، بلکہ اس حوالے سے بعض سیاسی پارٹیوں میں مقابلے کی فضا بھی پیدا ہوئی لیکن ان ساری سرگرمیوں کے مشترکہ مطالبے وہی کھاد کی قیمتوں میں کمی، کسانوں کی پیداوار کی قیمتوں میں اضافہ اور چھوٹی موٹی مراعات کے علاوہ کچھ نہ تھا لیکن ان کانفرنسوں، سیمینارز اور کنونشنوں کی خبریں جب میڈیا میں آئیں تو حکومت نے بھی اس مقابلے میں شرکت کا فیصلہ کیا تا کہ سند رہے اور بوقت ضرورت کام آئے۔

چونکہ حکومت کے ہاتھوں میں وسائل کی بھرمار رہتی ہے سو حکومت نے اپنی برتری دکھانے کے لیے اربوں روپوں پر مشتمل ایک کسان پیکیج کا اعلان کر دیا۔ غالباً یہ پیکیج 73 ارب روپے کا تھا، اس پیکیج پر عملدرآمد ہو نہ ہو، اس سے کسانوں کو فائدہ ہو نہ ہو، حکومت کو یہ فائدہ ضرور ہوا کہ یہ بڑا پیکیج حکومت کی حاتمانہ روش کی پبلسٹی کا ذریعہ بن گیا۔ اس پیکیج کو زیادہ پاپولر بنانے کے لیے اس میں رکاوٹ کا شوشہ بھی چھوڑا گیا، لیکن کسانوں سے ہمدردی کی یہ لہر جھاگ کی طرح بیٹھ گئی، اب نہ کنونشنوں کا کوئی ذکر آ رہا ہے نہ کانفرنسوں کا، نہ سرکاری پیکیج پر عملدرآمد کا۔ بات آئی گئی ہو گئی، کسانوں کے مسائل جوں کے توں رہ گئے۔

غریب طبقات کے مسائل کو حل کرنے کے دو طریقے ہیں اور انھیں حل کرنے والے بھی دو طرح کے ہیں، ایک وہ جعلی عنصر جو چھوٹی موٹی مراعات یا بڑے بڑے دعوؤں کے ذریعے غریب طبقات کے مسائل حل کرنے کے جتن کرتا ہے، اس میں اشرافیہ ہوتی ہے یا اس کے لے پالک ہوتے ہیں جن کا واحد مقصد غریبوں کو دھوکا دینا، ان کی بے چینی کو کنٹرول کرنا اور اصل تضاد کو ان کی نظروں سے اوجھل کرنا ہوتا ہے۔ ایک عنصر وہ ہوتا ہے جو ان طبقات کے تضادات کا شعور رکھتا ہے اور ان تضادات کو حل کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ کسان ہماری آبادی کا ایک بڑا حصہ ہیں۔

پاکستان جن علاقوں پر مشتمل ہے، ان علاقوں میں صدیوں سے جاگیردارانہ، سرداری، قبائلی نظام رہا ہے۔ نوآبادیاتی نظام کے خاتمے کے بعد نو آزاد ملکوں نے سب سے پہلا کام یہ کیا کہ کسانوں اور جاگیرداروں کے تضاد کو ختم کرنے کے لیے درست راستہ اختیار کرتے ہوئے جاگیردارانہ نظام کو ختم کر دیا۔ ہمارے پڑوسی ملک بھارت میں بھی اس تضاد کو حل کرنے کے لیے صحیح راستہ اختیار کرتے ہوئے جاگیرداری نظام کو ختم کر دیا۔

پاکستان کا جاگیردار طبقہ اس افتاد سے پوری طرح واقف تھا، وہ جانتا تھا کہ اگر برصغیر تقسیم نہ ہوا تو ان کی جاگیروں پر چھری چلنا لازمی ہے، اس سے بچنے کا طریقہ انھوں نے یہ نکالا کہ بڑی تعداد میں نہ صرف مسلم لیگ میں شامل ہو گئے بلکہ صف اول میں جگہ بھی بنالی اور تقسیم کی راہ ہموار کرنے میں اپنی ساری طاقت لگا دی، اس کا منطقی نتیجہ یہ نکلا کہ جب ملک تقسیم ہو گیا اور پاکستان وجود میں آ گیا تو یہ طبقہ سیاست اور اقتدار پر حاوی ہو گیا اور ملک میں جاگیردارانہ نظام کو ختم کرنے کی ہر کوشش میں ایک آہنی دیوار بن کر حائل ہو گیا۔ 68 سال گزر گئے، اس کی طاقت میں کوئی کمی نہ آئی، وہ آج بھی سیاست اور اقتدار کا ایک مضبوط ستون بنا ہوا ہے اور کوشش کے باوجود زرعی اصلاحات کی راہ میں دیوار بنا ہوا ہے، آج کل کسانوں سے ہمدردی کی جو لہر اٹھی ہے، وہ جاگیردارانہ نظام کو بچانے کی ہی ایک کوشش ہے اور اس کوشش میں مڈل کلاس کا ایک حصہ اس کی مدد کر رہا ہے۔

قیام پاکستان کے بعد اس ملک سے جاگیردارانہ نظام ختم کرنے کی ذمے داری پورا کرنے میں بایاں بازو پیش پیش تھا، پنجاب میں سی آر اسلم چوہدری فتح محمد اور ان کے ساتھی بھرپور کوششیں کر رہے تھے اور سندھ میں ہاری رہنما حیدر بخش جتوئی پوری سنجیدگی سے کسانوں اور ہاریوں کو منظم کرنے میں مصروف تھے، پختونخوا میں میجر اسحق کی ہشت نگر تحریک کسانوں ہی کی تحریک تھی۔ پاکستان کی جغرافیائی اہمیت کے پیش نظر امریکا پاکستان کو اپنی گرفت میں رکھنا چاہتا تھا، پاکستان میں بایاں بازو امریکا کا سخت مخالف تھا اور بائیں بازو کو عوام میں بدنام کرنے کے لیے حکمران جاگیردار طبقے نے اس کی پوری مدد کی بائیں بازو پر طرح طرح کے الزامات لگا کر اسے نہ صرف ریاستی طاقت سے کچل دیا گیا بلکہ آیندہ کے لیے اس خطرے سے بچنے کے لیے بائیں بازو کو اس طرح ٹکڑوں، دھڑوں میں تقسیم کر دیا گیا کہ وہ عضو معطل بن کر رہ گیا۔

اتفاق کی بات یہ ہے کہ جس وقت میں یہ کالم لکھ رہا تھا ملیر میں پیپلز پارٹی کا ایک جلسہ بلدیاتی انتخابات کے حوالے سے ہو رہا تھا اور پیپلز پارٹی کے نوجوان رہنما بلاول بھٹو زرداری اپنی تقریر میں کسانوں کو منظم ہونے اور ہاتھ میں ہاتھ ڈال کر آگے بڑھنے کی تلقین کر رہے تھے، افسوس کہ اس تلقین کا مقصد صرف ملیر میں پیپلز پارٹی کے امیدواروں کی حوصلہ افزائی تھا، کسانوں کے مسائل حل کرنا نہ تھا۔ اگر بلاول کسانوں سے مخلص ہیں تو ان کا پہلا مطالبہ زرعی اصلاحات ہونا چاہیے۔ لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا ایک بڑے جاگیردار گھرانے کا چشم و چراغ زرعی اصلاحات اور جاگیردارانہ نظام کے خاتمے کا نعرہ لگا سکتا ہے؟

بلاشبہ آج کل کسانوں اور ہاریوں کے ہمدرد زمین سے کیڑوں کی طرح نکل رہے ہیں، ملک میں کسان کنونشن ہو رہے ہیں، کسان ریلیاں ہورہی ہیں، کسان کانفرنسیں ہو رہی ہیں، کسانوں کو سڑکوں پر لایا جا رہا ہے، کسانوں کی ہمدردی میں آنسو بہائے جا رہے ہیں، کسانوں کو سستی کھاد مہیا کرنے کے مطالبے کیے جا رہے ہیں، کسانوں کی پیداوار کے دام بڑھانے کی باتیں کی جا رہی ہیں، لیکن کسانوں اور جاگیرداروں کے اصل تضاد کو حل کرنے کے لیے کوئی مائی کا لعل جاگیردارانہ نظام ختم کرنے کا مطالبہ نہیں کر رہا اور اگر کوئی یہ مطالبہ کر رہا ہے تو مطالبے سے آگے نہیں بڑھ رہا ہے۔

مقبول خبریں