پاک بھارت قومی سلامتی مشیروں کی ملاقات اہم پیش رفت

قومی سلامتی کے مشیروں کی ملاقات سے یہ امید پیدا ہوئی ہے کہ اب دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات کا سلسلہ مزید بڑھے گا


Editorial December 08, 2015
اب مذاکرات کا ابتدائی سلسلہ شروع ہوا ہے تو یہ امید بندھی ہے کہ یہ مزید آگے بڑھے گا اور دونوں ممالک کے درمیان بہتر تعلقات پیدا ہوں گے۔ فوٹو : فائل

ISLAMABAD: بنکاک میں اتوار کو وزیراعظم کے مشیر برائے قومی سلامتی لیفٹیننٹ جنرل (ر) ناصر جنجوعہ اور بھارتی ہم منصب اجیت دوول کے درمیان ملاقات ہوئی جس میں پاکستان کے سیکریٹری خارجہ اعزاز احمد چوہدری اور بھارت کے سیکریٹری خارجہ سبرامنیم جے شنکر نے بھی شرکت کی۔

ملاقات کے بعد مشترکہ اعلامیہ جاری کیا گیا جس میں بتایا گیا کہ یہ تعمیری ملاقات خوشگوار ماحول میں ہوئی جس میں مسئلہ کشمیر، سرحدوں پر کشیدگی کے خاتمے، خطے میں امن و استحکام اور دہشتگردی کے معاملات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ مشیروں کی ملاقات میں مذاکراتی عمل کو جاری رکھنے پر بھی اتفاق ہوا۔ ترجمان وزارت خارجہ قاضی خلیل اللہ کے مطابق ملاقات میں دونوں ممالک کی قیادت کی جانب سے پرامن، مستحکم اور خوشحال جنوبی ایشیا کے قیام کا عزم دہرایا گیا۔

بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے قاضی خلیل اللہ نے کہا کہ یہ ملاقات پاکستان اور بھارت کے وزرائے اعظم کی پیرس میں ہونے والی مختصر ملاقات کا تسلسل ہے۔ وزیراعظم کے مشیر خارجہ سرتاج عزیز نے کہا ہے کہ پاک بھارت بات چیت میں ڈیڈلاک ختم ہو گیا ہے۔

پاک بھارت قومی سلامتی کے مشیروں کی ملاقات دونوں ہمسایہ ایٹمی قوتوں کے کشیدہ تعلقات کے تناظر میں ایک اہم پیشرفت تصور کی جا رہی ہے اور دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی کم ہونے کے امکانات نظر آنے لگے ہیں۔ پاک بھارت تعلقات حالیہ مہینوں میں شدید تناؤ کا شکار رہے ہیں جب کہ اگست میں دونوں ملکوں کے قومی سلامتی کے مشیروں کی طے شدہ ملاقات بھی چند گھنٹوں قبل ہی بھارت کی جانب سے ناقابل فہم جواز کو بنیاد بنا کر منسوخ کر دی گئی تھی اور اب یہ ملاقات اسلام آباد اور دہلی کے بجائے تیسرے مقام تھائی لینڈ کے دارالحکومت بنکاک میں ہوئی ہے۔

گزشتہ دنوں پیرس میں عالمی ماحولیاتی کانفرنس کے موقع پر پاکستانی وزیراعظم میاں محمد نواز شریف اور ان کے بھارتی ہم منصب نریندر مودی کے درمیان غیررسمی ملاقات ہوئی تھی جو پہلے سے طے شدہ نہیں تھی لیکن یہ ملاقات دونوں ممالک کے درمیان ٹوٹے ہوئے تعلقات کو بحال کرنے کا پیش خیمہ ثابت ہوئی جس میں قومی سلامتی کے مشیروں کی ملاقات کا فیصلہ کیا گیا' قومی سلامتی کے مشیروں کی ملاقات سے یہ امید پیدا ہوئی ہے کہ اب دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات کا سلسلہ مزید بڑھے گا۔

جس کے پورے خطے پر خوشگوار اثرات مرتب ہوں گے اور یہ توقع بھی کی جا رہی ہے کہ پاک بھارت تعلقات بہتر ہونے سے دونوں ممالک کے درمیان کرکٹ سیریز کا بھی جلد آغاز ہو جائے گا۔ اوفا میں وزیراعظم نواز شریف اور نریندر مودی کے درمیان ملاقات کے بعد دونوں ممالک کے درمیان جامع مذاکرات کا سلسلہ شروع کرنے پر اتفاق ہوا تھا مگر بعدازاں ایسا نہ ہو سکا اور دونوں ممالک کے درمیان تعلقات میں تناؤ اور کشیدگی آ گئی۔

لائن آف کنٹرول پر کشیدگی کا آغاز بھی بھارت کی جانب سے کیا گیا مگر پاکستانی حکومت نے نہایت صبروتحمل کا مظاہرہ کرتے ہوئے بار بار اس عزم کا اظہار کیا کہ مذاکراتی عمل کے ذریعے ہی سے کشیدگی کا خاتمہ کیا جا سکتا ہے۔ جہاں تک خطے کی سلامتی کے لیے دہشت گردی کا خاتمہ ہے تو پاکستان اس کے لیے بھرپور کوششیں کر رہا ہے لیکن بھارت میں ہونے والے دہشت گردی کے کسی بھی واقعہ کو بلاجواز پاکستان کے ساتھ نتھی کرنے کی کوشش امن کے لیے کی جانے والی تمام کاوشوں پر پانی پھیر دیتی ہے اور بھارتی حکومت اس کے وزیر مشیر اور میڈیا پاکستان کے خلاف زہر اگلنا شروع کر دیتے ہیں۔

بھارتی حکومت کو اس رویے پر بھی نظرثانی کرنا چاہیے جب تک وہ اپنے اس رویے کو نہیں بدلتی مذاکرات کے لیے شروع کیے گئے عمل کے سبوتاژ ہونے کے امکانات اپنی جگہ موجود رہیں گے کیونکہ کسی بھی معمولی واقعہ کو ایشو بنا کر بھارتی حکومت طوفان کھڑا کر دیتی ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان تنازع کی بڑی وجہ مسئلہ کشمیر ہے جس کے حل کے لیے کئی بار سیکریٹری خارجہ سے لے کر اعلیٰ سطح تک کے مذاکرات ہو چکے ہیں مگر ان کا اب تک کوئی نتیجہ برآمد نہیں ہوا اور معاملات جوں کے توں چلے آ رہے ہیں۔

قومی سلامتی کے مشیروں کے درمیان ہونے والی ملاقات میں مسئلہ کشمیر پر کیا تبادلہ خیال کیا گیا اس کی تفصیلات سامنے نہیں آئیں۔ جب تک دونوں ممالک مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے کسی قابل قبول نتیجہ پر نہیں پہنچتے تعلقات بہتر بنانے کی کوششیں بارآور نہیں ہو سکیں گی۔ تجارت تو دونوں ممالک کے درمیان پہلے بھی ہو رہی ہے' کرکٹ' ہاکی اور کبڈی میچ بھی ہوتے رہے ہیں' شاعروں' ادیبوں اور فنکاروں کا آنا جانا بھی لگا رہتا ہے مگر تعلقات میں وہ گرمجوشی اور بہتری پیدا نہیں ہو رہی جو ہونی چاہیے۔ اب مذاکرات کا ابتدائی سلسلہ شروع ہوا ہے تو یہ امید بندھی ہے کہ یہ مزید آگے بڑھے گا اور دونوں ممالک کے درمیان بہتر تعلقات پیدا ہوں گے۔