عوام کی تقسیم کے نقصانات
پاکستان کے عوام 68 سالوں سے جس طبقاتی استحصال کا شکار ہیں۔
پاکستان کے عوام 68 سالوں سے جس طبقاتی استحصال کا شکار ہیں۔ حکمران طبقہ ہمیشہ اس تقسیم سے فائدہ اٹھاتا رہا۔ وہ لوگ وہ جماعتیں وہ طاقتیں جو عوام کو اس تقسیم کے نقصانات سے آگاہ کرنے کی ذمے داری پوری کر رہی ہیں، ان کی آواز کو نقار خانے میں طوطی کی آواز بناکر رکھ دیا گیا ہے۔ ہمارے ملک میں ویسے تو بے شمار سیاسی جماعتیں موجود ہیں لیکن بڑی پارٹیاں دو رہی ہیں ایک مسلم لیگ (ن) دوسری پیپلز پارٹی۔ ایک جماعت کی قیادت صنعتکارگھرانے سے ہے دوسری جماعت کی قیادت کا تعلق جاگیردار گھرانے سے ہے ۔
مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کی سیاست میں کوئی فرق نہیں ، اس کے باوجود عوام کی ایک بڑی تعداد ان دونوں جماعتوں سے وابستہ ہے یہ دونوں جماعتیں 1988 سے باری باری اقتدار میں آتی ہیں۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ان جماعتوں کو برسر اقتدار لانے والوں کو کیا ملا؟ یہ ضرور ہوتا ہے کہ ان جماعتوں کے ''متحرک'' سیاسی کارکن چھوٹے موٹے فائدے حاصل کرلیتے ہیں لیکن وہ غریب عوام جو انتخابات میں ان پارٹیوں کو ووٹ دے کر برسر اقتدار لاتے ہیں وہ 68 سالوں سے غربت کی زندگی ہی گزار رہے ہیں بلکہ اس سیاسی اور بے جواز تقسیم کا ایک بڑا نقصان یہ ہوتا ہے کہ دونوں جماعتوں کے حامی ایک دوسرے سے لڑتے رہتے ہیں۔
ان دو بڑی پارٹیوں میں سے ایک اپنی ''اعلیٰ کارکردگی'' کی وجہ سے عوام میں اس قدر بدنام ہوچکی ہے کہ وہ قومی پارٹی کے بجائے ایک چھوٹی سی علاقائی پارٹی بن کر رہ گئی ہے اس کمزوری کا جو پارٹی یا پارٹیاں فائدہ اٹھانے کی کوشش کر رہی ہیں ،ان سے بھی کسی بڑی تبدیلی کی امید رکھنا حماقت کے علاوہ کچھ نہیں کیونکہ ان پارٹیوں پر جتنے بڑے پیمانے پر جو لوگ سرمایہ کاری کر رہے ہیں وہ کسی حوالے سے بھی عوام کے بہی خواہ نہیں ہوسکتے نہ عوام کو ان سے کسی فائدے کی امید رکھنا چاہیے۔ ہاں یہ نقصان ضرور ہو رہا ہے کہ عوام کی تقسیم کا رخ بدل گیا ہے اور عوام ایک نئے انداز میں ایک دوسرے کے سامنے کھڑے ہیں۔
اب ذرا ان پارٹیوں کی طرف آئیں جو قوم پرستی کی سیاست کر رہی ہیں۔ قوم پرستی کی سیاست میں اگرچہ مڈل کلاس ملوث ہے لیکن قوم پرست سوائے قومیت کے نام پر عوام کو تقسیم کرنے کے ان میں نفرت اور تعصب پیدا کرنے کے کوئی کارنامہ انجام نہ دے سکے نہ اپنے حامی اندھے عوام کو کوئی فائدہ دلا سکے، البتہ ان جماعتوں کے قائدین حکمرانوں سے گٹھ جوڑ کرکے یا انھیں بلیک میل کرکے ذاتی فائدے ضرور اٹھا لیتے ہیں۔
اس تقسیم کے بعد ایک تقسیم لسانی بنیادوں پر کی گئی ہے لسانی سیاست بھی عشروں پر محیط ہے اور لسانی بنیادوں پر تقسیم عوام بھی بدترین مسائل کا شکار ہیں لیکن اس سیاست نے غریب عوام کو کچھ فائدہ نہیں پہنچایا۔ البتہ دشمنیاں اس حد تک بڑھائیں کہ عوام لسانی گروہ بندیوں کا شکار ہوکر ایک دوسرے کو نقصان پہنچاتے رہے ہیں اور پہنچا رہے ہیں جس کا پورا پورا فائدہ سیاسی اشرافیہ کو ہو رہا ہے کیونکہ عوام کی طاقت بٹ رہی ہے اور ہماری ایلیٹ یہی چاہتی ہے کہ عوام تقسیم در تقسیم کا شکار رہیں۔
عوام کی ایک اور تقسیم فرقہ وارانہ اور فقہی تقسیم ہے۔ ہمارے ملک میں درجنوں مذہبی جماعتیں ہیں جو کسی نہ کسی فقہ یا مسلک پر سیاست کر رہی ہیں، اس حوالے سے سب سے زیادہ افسوسناک بلکہ شرمناک بات یہ ہے کہ ایک ہی فقہ یا مسلک پر یقین رکھنے والی کئی کئی جماعتیں ہیں اور سیدھے سادے معصوم عوام کو اپنی ذات کے حوالے سے اپنے گرد جمع کرکے رکھتی ہیں کیونکہ اگر فقہ ایک ہو تو ایک ہی فقہ کے نام پر دس دس جماعتوں کا وجود کسی طرح بھی قابل قبول نہیں ہوسکتا۔ اس حوالے سے اصل اور اہم بات یہ ہے کہ اسلام کسی فقہی حوالے سے مسلمانوں کی تقسیم کی اجازت نہیں دیتا۔
اس حوالے سے سادہ لوح مسلمانوں کو 25 خانوں میں بانٹ کر دشمنی کے کلچر کو اس قدر گہرا کردیا گیا کہ اس کلچر نے مذہبی انتہا پسندی کا دوشالہ اوڑھ لیا۔ آج مذہبی یعنی فقہی تقسیم اس قدر خطرناک صورت اختیار کر گئی ہے کہ دہشت گردی میں بدل گئی ہے اس کے اندھے پن کا عالم یہ ہے کہ اس انتہا پسندی کا شکار خود مسلمان ہو رہے ہیں پاکستان میں 50ہزار بے گناہ مسلمان اس اندھی بہری انتہا پسندی کی بھینٹ چڑھ چکے ہیں اور دنیا کے دوسرے مسلم ملکوں میں اس حوالے سے ایسی سفاکانہ خونریزی ہو رہی ہے کہ تاریخ میں اس کی مثال نہیں مل سکتی۔ ساری دنیا میں انتہا پسندوں اور دہشت گردوں سے زیادہ مذہب بدنام ہو رہا ہے۔
دنیا میں اگر کوئی حقیقی تقسیم ہے تو وہ طبقاتی تقسیم ہے۔ 90 فیصد انسانوں کو غربت بھوک، بیماری، بے کاری کے حوالے کرکے انھیں غریب کا نام دیا گیا اور دو فیصد لٹیروں کو اشرافیہ کا نام دے کر 90 فیصد عوام کے سروں پر مسلط کردیا گیا۔ 20 فیصد قومی دولت 90 فیصد عوام کے حصے میں آئی اور 80 فیصد دولت کا مالک 2 فیصد اشرافیہ کو بنادیا گیا اور اس ظالمانہ تقسیم کو چھپانے کے لیے اس پر جمہوریت کا نقاب ڈال دیا گیا۔ سازش یہ کی گئی کہ انسانوں کو 90 اور 2 فیصد میں تقسیم کرنے والے اس نظام کو ختم کرنے کے لیے جو لوگ 68 سالوں سے قربانیاں دے رہے ہیں انھیں دین کا دشمن قرار دے کر عوام میں اس طرح بدظن کردیا گیا کہ بے چارے سادہ لوح عوام اب اپنے دوستوں اور دشمنوں میں تمیز کرنے کے قابل نہ رہے جس کا پورا پورا فائدہ عوام دشمن طاقتیں اٹھا رہی ہیں۔