کراچی بلدیاتی انتخابات اور نئے سوالات
سپریم کورٹ کی مداخلت پرکراچی میںپرامن انتخابات ہوگئے۔ شہریوں نے بغیر خوف کے حقِ رائے دہی کا استعمال کیا۔
KARACHI:
سپریم کورٹ کی مداخلت پرکراچی میںپرامن انتخابات ہوگئے۔ شہریوں نے بغیر خوف کے حقِ رائے دہی کا استعمال کیا۔ پولنگ اسٹیشن پر قبضے نہیں ہوئے مگر الیکشن کمیشن کی بدنظمی کم نہ ہوئی۔ ایم کیو ایم، پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن کی کامیابی میں سیاسی ابلاغ کی تاریخ میں ایک نئے باب کا آغاز ہوا۔ متوسط طبقے کی بستیوں میں ٹرن آؤٹ منتخب ہونے والے نمایندوں کی کارکردگی کے لیے چیلنج ہے۔
متحدہ قومی موومنٹ کے مینڈیٹ کی تجدید ہوگئی۔ عمران خان کا شہرکو تبدیل کرنے کا ایجنڈا ناکام ہوگیا۔ پیپلز پارٹی کی کارکردگی کیا اندرونِ سندھ کی سیاست پر اثرانداز ہوگی ، یہ بات اہم ہے۔ الیکشن کمیشن نے تین مرحلوں میں بلدیاتی انتخابات کرانے کا فیصلہ کیا تھا، یہ پاکستان میں ایک ہی انتخاب مرحلہ وار کرانے کا پہلا تجربہ تھا۔ بھارت میں تمام انتخابات مرحلہ وا ر ہوتے ہیں۔ ملک کی بیشتر جماعتوں نے اس فیصلے کو تسلیم کیا تھا مگر صرف تحریکِ انصاف کو اعتراض تھا۔ یہ فیصلہ اس لیے بہتر تھا کہ الیکشن کمیشن اپنی تمام صلاحیتوں کو مکمل طور پر استعمال کرسکتا تھا، پھر الیکشن کمیشن کے سامنے بلوچستان اور پختون خواہ کے انتخابات کا تجربہ تھا۔ پنجاب اور سندھ میں پہلے مرحلے کے انتخابات میں بہت سی کمزوریوں کی نشاندہی ہوئی، یہ صورتحال دوسرے مرحلے میں بھی پیدا ہوئی۔
تیسرے مرحلے میں صوبہ سندھ میں صرف کراچی کے 6 اضلاع میں انتخابات ہونے تھے اورکمیشن کے پاس وقت، تجربہ اور نفری موجود تھی۔ اس لیے امید تھی کہ کراچی کے انتخابات میں الیکشن کمیشن کی کارکردگی سب سے بہتر ہوگی اور 2013 کے انتخابات سے زیادہ اچھے حالات ہونگے۔ اگرچہ الیکشن کمیشن کی کارکردگی مجموعی طور پر بہتر ہوئی مگر بعض مقامات پر بدنظمی رہی۔ الیکشن کمیشن نے 2013 کے انتخابات کی پولنگ اسٹیشنوں کی اسکیم کو استعمال کیا۔
2013 کے انتخابات کے موقعے پر اس وقت کے چیف جسٹس افتخار چوہدری نے یہ فیصلہ دیا تھا کہ امیدوار ووٹروں کو ٹرانسپورٹ فراہم نہیں کریں گے اور پولنگ اسٹیشن ووٹروں کے گھروں کے قریب قائم کیے جائیں گے۔ یہ ایک مناسب فیصلہ تھا مگر اس فیصلے پر عملدرآمد کے لیے سرکاری عمارتوں کے محل و قوع پر توجہ دینے کی ضرورت تھی۔ عموماً سرکاری اسکولوں اورکالجوں میں پولنگ اسٹیشن قائم ہوتے ہیں،اسکولوں کی عمارتیں ہر محلے میں ہیں مگر کراچی کے متوسط اور نچلے طبقے کی آبادیوں میں بہت سے اسکول 80 گزکے مکانات پر قائم ہیں۔
ان میں سے بیشتر کی عمارتیں خستہ ہیں۔ کمیشن نے لیاقت آباد ، موسیٰ کالونی ، لیاری اور دیگر مقامات پر 80 گز کے مکانات میں 3 سے 4 پولنگ اسٹیشن قائم کردیے، ان اسکولوں کوپروٹوکول کے مطابق سیکیورٹی فراہم نہیں کی جاسکی۔ لیاقت آباد بلاک نمبر 6 کے ایک پولنگ اسٹیشن میں جہاں 3 پولنگ اسٹیشن تھے اور 3600کے قریب ووٹروں کو اپنا حقِ رائے د ہی استعمال کرنا تھا اس اسٹیشن کے ایک پریزائیڈنگ افسر نے اس بات پر اطمینان کا اظہار کیا کہ ووٹروں کی کم تعداد کی بناء پر کوئی ناخوشگوار صورتحال پیدا نہیں ہوگی۔
ووٹر لسٹ میں بعض افراد کے نام نہ ہونے کی شکایتیں اس الیکشن میں بھی موصول ہوتی رہیں۔ انتخابی فہرستیں نہ تو حروف تہجی پر تیار ہوتی ہیں اور نہ ہی مکانات کے نمبروں کی بناء پر فہرستیں دی جاتی ہیں، یوں ووٹروں کو اپنا نام تلاش کرنے میں مشکل ہوتی ہے۔ اس دفعہ پھر بعض پولنگ اسٹیشنوں پر دیر سے پولنگ شروع ہوئی۔ بعض پولنگ اسٹیشنوں پر تعینات عملہ غائب ہوگیا۔ کچھ اسٹیشنوں پر عملہ دیر سے پہنچا۔ اگرچہ الیکشن کمیشن نے ایمرجنسی سیل قائم کیے ہوئے تھے مگر یہ سیل عملے کا فوری انتظام کرنے میں ناکام رہے۔ کراچی میں اس دفعہ ریٹرننگ افسر انتظامی افسران تھے اس بناء پر وہ بدنظمی کی صورتحال پیدا نہیں ہوئی جو گزشتہ انتخابات میں ہوئی تھی۔
اسی طرح رینجرز اور پولیس کے سیکیورٹی کے انتظامات بہتر تھے اس وجہ سے صرف لانڈھی اور لیاری کے علاوہ پورے شہر میں صورتحال بہتر رہی۔ یہی وجہ ہے کہ پولنگ کے عملے نے بغیر کسی دباؤ کے اپنے فرائض انجام دیے۔ اس سال ایم کیوایم کے کارکن صولت مرزا نے کے ای ایس سی کے سابق مینیجنگ ڈائریکٹر ملک شاہد حامد کے قتل میں پھانسی پانے سے پہلے اعترافی بیان میں ایم کیو ایم کی قیادت پر سنگین الزامات لگائے تھے۔ اسی طرح ایم کیو ایم کے سابق سیکریٹری جنرل ڈاکٹر عمران فاروق کے قتل میں ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین اور ان کے قریبی ساتھیوں کو ملوث قرار دیا گیا ہے۔ رینجرز کے افسران اور بعض پولیس افسران ایم کیو ایم کے کارکنوں پر بھارتی خفیہ ایجنسی را کے ایجنٹ ہونے کا الزام لگاتے رہے ہیں۔
اس کے علاوہ لاہور ہائی کورٹ نے ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین کی لندن سے براہِ راست تقاریر پر پابندی لگائی ہے جس سے ایم کیو ایم کی انتخابی مہم متاثر ہونے کا خطرہ تھا ، مگر ایم کیو ایم نے کراچی صوبے کا نعرہ لگا کر اور مہاجر پسماندگی کا کارڈ خوبصورتی سے استعمال کر کے رائے عامہ کو اپنے حق میں کیا۔
ایم کیو ایم کی کارکردگی کا جائزہ لیا جائے تو یہ واضح ہوتا ہے کہ یہ تنظیم کراچی وسطی، غربی اورکورنگی کے اضلاع میں تنظیمی طور پر مضبوط ہے۔ اسی طرح ملیر اور جنوبی ضلع میں اس کے کئی مضبوط پاکٹس ہیں۔ ایم کیو ایم کی تنظیمی صلاحیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین کی ووٹروں کے نام اپیل کی لاکھوں کاپیاں ووٹروں کے گھروں تک پہنچائی گئیں، یوں الطاف حسین کے براہِ راست تقاریر پر پابندی کا متبادل طریقہ تلاش کیا گیا۔اس آپریشن میں ایم کیو ایم کے براہِ راست نشانہ بننے کے باوجود اس کی تنظیم ان علاقوں میں موجود ہے۔
ایم کیو ایم کے رہنما اور کارکن ان علاقوں میں عوام سے براہِ راست رابطے میں رہتے ہیں۔ یہ رابطے ابلاغِ عامہ کے مضمون کی زبان میں براہِ راست رابطہ کہلاتے ہیں۔ ایم کیو ایم کے سابق ناظم مصطفی کمال کے دور میں شہر کے متوسط طبقے کے علاقوں میں بڑے پیمانے پر ترقیاتی کام ہوئے۔ ان علاقوں میں اوورہیڈ برج اور انڈر پاس تعمیر ہوئے، نئی سڑکیں بنیں اور پرانی سڑکیوں کی ہیت تبدیل ہوگئی۔ پھر ایم کیو ایم کے وزراء جن وزارتوں کے نگراں رہے ان کے علاوہ سٹی گورنمنٹ میں بھی دی گئی آسامیوں کو پر کرنے سے ہزاروں خاندان مستفیض ہوئے۔
اس عرصے میں عوام پر پولیس کا جبرکم ہوا ، مگر ایم کیو ایم کے حکومت سے علیحدہ ہونے اور پیپلز پارٹی کے 7سالہ دور میں یہ علاقے زبوں حالی کا شکار ہوگئے۔ سینئر صحافی ناصر محمود کے بقول کراچی کوڑے دان میں تبدیل ہوگیا۔ گزشتہ کئی برسوں سے کراچی میں پانی کے شدید بحران کا شکار ہے۔ کراچی کے نوجوانوں کے لیے حکومت سندھ کے محکموں میں ملازمتوں کے مواقعے انتہائی کم ہیں۔ پھر جن لوگوں کو ملازمتیں ملیں ان کو خطیر رقم دینی پڑی۔ ایم کیو ایم اپنے ووٹرزکو یہ بات باورکرانے میں کامیاب ہوئی کہ کراچی کی یہ صورتحال کراچی کو پسماندہ کرنے کے لیے ہے اور کراچی کے عوام کے حقوق کی آواز اٹھانے کی پاداش میں ایم کیو ایم کو نشانہ بنایا جارہا ہے۔ کراچی کے مختلف علاقوں میں قانون نافذ کرنے والی ایجنسیوں کے اہلکاروں کے عام لوگوں سے منفی سلوک نے بھی ایم کیو ایم کے پیغام کو تقویت پہنچائی۔
پیپلز پارٹی کی حکومت نے انتخابات کے موقعے پر بھی شہرکوکوڑے دان میں تبدیل ہونے سے روکنے کے لیے کوئی خاطر خواہ اقدامات نہیں کیے۔ وزیر بلدیات یہ بیان دیتے رہے کہ واٹر بورڈ کا سربراہ منتخب میئر نہیں ہوگا اور اس کے ساتھ شہریوں کو پانی بھی میسر نہیں آیا۔ پھر ان علاقوں میں جماعتِ اسلامی تنظیمی طور پرکمزور ہوگئی۔ اس کے کارکن روایتی طور پر ووٹروں سے رابطہ نہیں رکھ سکے۔ تحریکِ انصاف ایم کیو ایم کی متبادل ہوسکتی تھی۔ 2013 کے انتخابات میں میڈیا کی پیدا کردہ لہر کی بناء پر تحریکِ انصاف کی مقبولیت کا ریکارڈ حیرت انگیز تھا۔ 11 مئی 2013 کے انتخاب میں اس لہر کی بناء پر تحریکِ انصاف کے امیدواروں کی کامیابی کے امکانات روشن تھے مگر پولنگ کے اختتام پر پولیس اور رینجرز کے اہلکار پولنگ اسٹیشنوں سے چلے گئے تھے، یوں تحریکِ انصاف کے امیدوار کامیابی کی منزل نہ پاسکے۔
مگر پھر عمران خان نے اس لہر کو برقرار رکھنے کے لیے کراچی کی تنظیم پر توجہ نہیں دی۔ انھوں نے اپنی تقاریر میں کراچی کے مسائل کو اجاگر نہیں کیا اور کراچی میں عمران خان کے علاوہ کوئی اور قدآور رہنما نہیں ابھرا۔ چند ماہ قبل حلقہ NA-246کے ضمنی انتخاب میں یہ تاثر ابھرا کہ عمران خان اسٹیبلشمنٹ کے نمایندے کے طور پر عزیز آباد پر قبضہ کرنے آرہے ہیں۔ عمران خان کی دھرنے کی سیاست نے صورتحال کویکسر تبدیل کردیا۔ پیپلز پارٹی ایم کیو ایم کے حمایت یافتہ اضلاع میں موجود نہیں تھی۔
حقیقتاً ان انتخابات میں کوئی دوسری جماعت مقابلے کے لیے موجود ہی نہیں تھی اس بناء پر ایم کیو ایم پھر کامیاب ہوگئی۔ پیپلز پارٹی کی ملیر، ڈسٹرکٹ کونسل اور لیاری میں کارکردگی ایک الگ موضوع ہے مگر کراچی میں مسلم لیگ ن کی تیسری پوزیشن وفاقی حکومت کی کارکردگی کی کامیابی کا اعتراف ہے ، اگر مسلم لیگ ن کی مرکزی قیادت کراچی کے انتخابات میں زیادہ دلچسپی لیتی تو مسلم لیگ ن کی کارکردگی زیادہ بہتر ہوسکتی تھی۔ شہر میں منتخب قیادت کا آنا مثبت عمل ہے۔مگر اگر منتخب قیادت کو اختیارات اور فنڈز نہ ملے تو کراچی شہر ایک نئے بحران کا شکار ہوگا۔