پاک بھارت جامع مذاکرات کی بحالی پر اتفاق

پاکستان اور بھارت نے کشمیر سمیت تمام تنازعات کے حل کے لیے جامع مذاکرات کی بحالی پر اتفاق کیا ہے


Editorial December 11, 2015
پاکستان اور بھارت نے کشمیر سمیت تمام تنازعات کے حل کے لیے جامع مذاکرات کی بحالی پر اتفاق کیا ہے۔

بھارتی وزیرخارجہ سشما سوراج نے مشیر خارجہ سرتاج عزیز کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اور بھارت نے کشمیر سمیت تمام تنازعات کے حل کے لیے جامع مذاکرات کی بحالی پر اتفاق کیا ہے، دونوں ملکوں کے سیکریٹری خارجہ کب اور کس سطح پر بات ہو گی کے سلسلے میں لائحہ عمل طے کریں گے جس کے بعد مذاکرات کا باقاعدہ آغاز کیا جائے گا، سیکریٹری خارجہ کو اعلیٰ سطح پر رابطوں کی ہدایت کر دی ہے، بات چیت کے عمل کے لیے سیکریٹری خارجہ رابطہ کریں گے' مذاکرات کا آغاز نئے سرے سے ہوگا جس میں تمام مسائل پر بات چیت ہوگی اور جن امور پر بات چیت رکی ہوئی تھی انھیں بھی مذاکرات میں شامل کیا جائے گا جب کہ کچھ اور معاملات بھی شامل کیے جاسکتے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ قومی سلامتی کے مشیروں کے بنکاک مذاکرات میں تمام چیزوں پر بات ہوئی، اب کمپوزٹ ڈائیلاگ کی جگہ کمپری ہینسو (جامع) ڈائیلاگ ہوں گے۔ بی بی سی کے مطابق پاکستان اور بھارت نے جامع مذاکرات کو نئے سرے سے بحال کرنے پر اتفاق کیا ہے جس کے بعد کشمیر، انسدادِ دہشتگردی، سیکیورٹی سمیت تمام مسائل پر مذاکرت کا دوبارہ سے آغاز ہوگا۔ خارجہ سیکریٹریوں کو امن و سلامتی، اعتماد سازی اقدامات، جموں و کشمیر، سیاچن، سرکریک، وولربیراج،تلبل نیوی گیشن پراجیکٹ ، اقتصادی و تجارتی تعاون، انسداد دہشت گردی، نارکوٹکس کنٹرول، انسانی ہمدردی کے امور، عوامی سطح پر تبادلوں اور مذہبی سیاحت سمیت ڈائیلاگ کے تحت اجلاسوں کے طریقہ ہائے کار اور شیڈول وضع کرنے کی ہدایت کی گئی۔

پاکستان کی جانب سے بھارت کو ممبئی حملوں کا مقدمہ جلد منطقی انجام تک پہنچانے کی یقین دہانی کرائی گئی ہے۔ قبل ازیں بھارتی وزیر خارجہ سشما سوراج نے وزیراعظم نواز شریف سے ملاقات کی۔ ملاقات کے دوران گفتگو کرتے ہوئے وزیراعظم نواز شریف نے کہا کہ کسی بھی مسئلے کا حل بات چیت میں ہے، بھارت کے ساتھ تمام مسائل مذاکرات سے ہی حل کرنا چاہتے ہیں، پاکستان بھارت سمیت تمام ممالک سے دوستانہ تعلقات کا خواہش مند ہے۔

ملاقات میں گفتگو کرتے ہوئے بھارتی وزیر خارجہ سشما سوراج نے کہا کہ ہم اپنی تجارت کے راستے پاکستان تک پھیلانا چاہتے ہیں، وقت آ گیا ہے کہ ہم ایک دوسرے سے تعلقات میں پختگی اور خوداعتمادی کا مظاہرہ کریں اور علاقائی تعاون و تجارت کو مزید مضبوط کریں۔ انھوں نے کہا کہ ساری دنیا ہمیں دیکھ رہی ہے اور تبدیلی کی منتظر ہے، ہمیں دنیا کو مایوس نہیں کرنا چاہیے، بھارت تیار ہے کہ اس رفتار پر تعاون آگے بڑھائے، جس پر پاکستان آسانی محسوس کرے۔ ملاقات میں پاک بھارت کرکٹ سیریز کے حوالے سے بھی بات چیت کی گئی۔

پاک بھارت جامع مذاکرات کی بحالی پر اتفاق ایک اہم پیشرفت ہے جس سے یہ امید بندھی ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان تعلقات میں بہتری آئے گی' خوشگوار تبدیلی یہاں تک آئی ہے کہ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کے اگلے سال سارک کانفرنس میں شرکت کے لیے پاکستان آنے کی سشما سوراج نے باقاعدہ تصدیق کی ہے ۔ جب نریندر مودی پاکستان آئیں گے تو دونوں ممالک کے تعلقات کو مزید مضبوط بنانے پر بات چیت بھی ہو گی۔ پاک بھارت مذاکرات 2012ء میں لائن آف کنٹرول پر کشیدگی کے بعد سے معطل ہیں اس دوران پاکستان نے متعدد بار بھارت سے مذاکرات بحال کرنے کی کوشش کی مگر یہ کامیاب نہ ہو سکی۔

اوفا میں وزیراعظم نواز شریف اور نریندر مودی کے درمیان ملاقات کے بعد دونوں ممالک کے درمیان جامع مذاکرات کا سلسلہ شروع کرنے پر اتفاق ہوا تھا مگر بعدازاں ایسا نہ ہو سکا اور دونوں ممالک کے درمیان تعلقات میں کشیدگی آگئی لیکن اس دوران پاکستانی حکومت نے صبر و تحمل کا مظاہرہ کرتے ہوئے اس کشیدگی کے خاتمے کے لیے بار بار اپنے عزم کا اظہار کیا۔ اگست میں دونوں ملکوں کے قومی سلامتی کے مشیروں کی طے شدہ ملاقات چند گھنٹوں قبل ہی بھارت کی جانب سے ناقابل فہم جواز کو بنیاد بنا کر منسوخ کر دی گئی۔

برف اس وقت پگھلنے کا امکان پیدا ہوا جب گزشتہ دنوں پیرس میں عالمی ماحولیاتی کانفرنس کے موقع پر پاکستانی وزیراعظم میاں محمد نواز شریف اور ان کے بھارتی ہم منصب نریندر مودی کے درمیان غیررسمی ملاقات ہوئی جو بنکاک میں دونوں ممالک کے قومی سلامتی کے مشیروں کے درمیان ملاقات کا پیش خیمہ بنی۔ سیاسی ماہرین اس امر پر حیرت کا اظہار کر رہے ہیں کہ آخر کیا بات ہوئی کہ نریندر مودی کے رویے میں اچانک تبدیلی آ گئی اور انھوں نے پیرس میں ازخود وزیراعظم میاں محمد نواز شریف سے ملاقات کی جس کے بعد دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات کا سلسلہ شروع ہو گیا ہے۔

یوں معلوم ہوتا ہے کہ نریندر مودی کو ادراک ہو گیا ہے کہ کشیدگی کو ہوا دے اور پاکستان سے تعلقات بگاڑ کر وہ خطے میں تجارتی مفادات حاصل نہیں کر سکتے تو دوسری جانب بھارت کا صنعتکار بھی حکومت پر دبائو ڈال رہا ہے کہ وہ امن عمل کی جانب توجہ دے ورنہ بھارتی تجارتی مفادات کو شدید نقصان پہنچے گا۔ معاملہ کچھ بھی ہو بہر حال یہ خوش آیند امر ہے کہ بھارت پاکستان سے تعلقات بہتر بنانے کے لیے جامع مذاکرات پر راضی ہو گیا ہے جس کے اس پورے خطے پر خوشگوار اثرات مرتب ہوں گے۔اب کسی بھی ایشو کو مسئلہ بنا کر کشیدگی پیدا کرنے کی کوشش نہیں ہونی چاہیے۔