نئے میئر اور پرانے مسائل

کراچی کے سابقہ ناظمین کے دور میں شہری مسائل کو حل کرنے کے لیے ایسے لوگوں کا انتخاب کیا گیا تھا


Zaheer Akhter Bedari December 11, 2015
[email protected]

KARACHI: کراچی کے بلدیاتی انتخابات میں متحدہ نے اتنی نشستیں جیت لی ہیں کہ وہ آسانی سے اپنا میئر، ڈپٹی میئر اور 4 اضلاع کے چیئرمین اور وائس چیئرمین لا سکتی ہے اور امید ہے کہ متحدہ کی قیادت ایسے لوگوں کو آگے لائے گی جو کراچی کے مسائل کو حل کرنے کی صلاحیت رکھتے ہوں۔ ہو سکتا ہے ہمارا یہ کالم شایع ہونے تک متحدہ ان عہدیداروں کے ناموں کا اعلان کر دے۔ مسائل قومی ہوں یا صوبائی یا بلدیاتی سطح کے انھیں حل کرنے کے لیے پہلے اہم مسائل کا تعین اور ان کی ترجیحات کا تعین ضروری ہوتا ہے۔

کراچی کے سابقہ ناظمین کے دور میں شہری مسائل کو حل کرنے کے لیے ایسے لوگوں کا انتخاب کیا گیا تھا، جو اہل بھی تھے اور مسائل کے حل کے لیے دن رات کام بھی کرتے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی کاوشوں سے شہر کا حلیہ ہی بدل گیا۔ ایسے لوگ ہر تنظیم میں موجود ہوتے ہیں، بس انھیں آگے لانے کی ضرورت ہوتی ہے ہر چند کہ متحدہ آج سخت آزمائش کے دور سے گزر رہی ہے لیکن اس کی ایک وجہ خود احتسابی کے عمل کا نہ ہونا بھی ہے جو جماعتیں اپنے اندرونی تضادات اور اندرونی خامیوں کو ختم کرنے میں تاخیر نہیں کرتیں انھیں آگے بڑھنے کے راستے مل جاتے ہیں۔ کیا ہماری سیاسی جماعتیں خود احتسابی پر عمل کرتی ہیں؟

کراچی لگ بھگ 8-7 سال سے لاوارث بنا ہوا ہے، بلدیاتی اداروں کی غیر موجودگی میں صوبائی حکومتوں کی ذمے داری ہوتی ہے کہ وہ شہر کے مسائل حل کریں لیکن ہماری بدقسمتی یہ ہے کہ ہماری صوبائی حکومت نے اس حوالے سے اپنی ذمے داریاں پوری نہیں کیں۔ شہر میں اگرچہ ہر ضلع میں ایڈمنسٹریٹر کے نام سے شہری مسائل کے حل کے لیے منتظمین مقرر کیے گئے لیکن اختیارات اور فنڈز کی کمی کی وجہ ایڈمنسٹریٹرز کا یہ نظام خاطرخواہ کامیابی حاصل نہ کر سکا۔

علاقائی مسائل کے حل کے لیے ہر ملک میں کسی نہ کسی نام سے ایک بلدیاتی نظام موجود ہوتا ہے جس کی ذمے داری ہوتی ہے کہ علاقائی مسائل کا حل علاقوں ہی میں کرے۔ اس بڑے کام کے لیے مالی اختیارات اور انتظامی اختیارات کا ہونا لازمی ہوتا ہے۔ ترقی یافتہ ملکوں میں چونکہ وڈیرہ شاہی ذہنیت نہیں ہوتی، اس لیے مالی اور انتظامی اختیارات نچلی سطح تک لے جانے میں دشواری نہیں ہوتی، لیکن پاکستان چونکہ ابھی تک وڈیرہ شاہی کی گرفت میں ہے، لہٰذا یہاں نچلی سطح تک مالی اور انتظامی اختیارات منتقل کرنے میں سخت دشواریاں حائل ہیں۔

نئے میئر کا جو مسائل انتظار کر رہے ہیں ان کی نشاندہی اور ترجیحات ایک اس قدر اہم مسئلہ ہے کہ ان کے تعین کے بغیر آگے قدم بڑھانا مشکل ہے۔ کراچی کے اہم مسائل میں ٹرانسپورٹ کا مسئلہ، پانی کا مسئلہ، سرکاری اسکولوں کی زبوں حالی کا مسئلہ، علاج معالجے کا مسئلہ سرفہرست ہیں۔ ٹرانسپورٹ کا مسئلہ اس قدر پرانا ہے کہ اس دوران کئی حکومتیں آئیں اور گئیں لیکن یہ مسئلہ اس شدت سے بلکہ اور زیادہ شدت سے موجود ہے آج سے 35-40 سال پہلے عوام بسوں، منی بسوں کی چھتوں پر بیٹھ کر اور دروازوں پر لٹک کر جس طرح سفر کرتے تھے آج بھی اسی طرح سفر کر رہے ہیں، مسافروں کو سہولتیں فراہم کرنے کے نام پر ٹرانسپورٹروں سے گٹھ جوڑ کر کے وقفے وقفے سے کرایہ بڑھایا جاتا ہے لیکن سہولتوں کے بجائے مشکلات میں اضافہ ہوتا چلا جاتا ہے۔

کراچی کی آبادی اب ڈیڑھ کروڑ تک بڑھ گئی ہے لیکن اس کے تناسب سے ٹرانسپورٹ کی سہولتوں میں اضافہ نہیں کیا گیا۔ اس حوالے سے لانگ ٹرم اور شارٹ ٹرم منصوبہ بندی اور اقدامات کی ضرورت ہے۔

کراچی میں ماس ٹرانزٹ اسکیم کا نام تو برسوں سے لیا جا رہا ہے لیکن اس پر کام کا دور دور تک پتہ نہیں چلتا۔ کراچی میں لوکل ٹرین سروس کی وجہ سے عوام کو سہولتیں حاصل تھیں لیکن یہ سروس صوبائی حکومتوں کی نااہلی کی وجہ سے ختم ہو گئی۔ سرکلر ریلوے کی تجدید کی بھی باتیں برسوں سے سنی جا رہی ہیں لیکن عمل ندارد۔ نئے میئر کو ٹرانسپورٹ کا مسئلہ حل کرنے کے لیے تیزی سے اور منصوبہ بند انداز میں پیش رفت کرنی چاہیے۔ کراچی کے عوام کو اس حوالے سے فوری سہولتیں فراہم کرنے کے لیے کم از کم 100 بسیں، 100 منی بسیں سڑکوں پر لانا پڑیں گی، اس کے لیے وسائل مہیا کرنا صوبائی حکومت کی ذمے داری ہے۔

پینے کا پانی شہریوں کی بنیادی ضرورت ہے لیکن کراچی عشروں سے پانی کی کمی کا شکار بنا ہوا ہے۔ K-3، K-4 منصوبوں پر کام ہونے کی خبریں تو اخبارات میں آتی رہتی ہیں لیکن اس اہم اور بنیادی مسئلے پر کام کی رفتار کو تیز کرنا ضروری ہے، تا کہ جلد سے جلد کراچی کے عوام پانی کی قلت سے نجات حاصل کر سکیں، اس حوالے سے ہائیڈرنٹس مافیا سے چھٹکارا پانا ضروری ہے، اگر اس بلا سے نجات ملے تو عوام کو کچھ سہولت مل سکتی ہے۔

کراچی میں ٹریفک جام کا مسئلہ عوام کے لیے ایک عذاب سے کم نہیں گھنٹوں ٹریفک جام رہنا، روٹین بن گیا ہے، اس عذاب کی ذمے داری ہماری چاق و چوبند ٹریفک پولیس پر عائد ہوتی ہے جس کا 80 فیصد وقت موٹرسائیکل سواروں سے لین دین میں صرف ہوتا ہے۔ میئر کو اس مسئلے کی طرف توجہ دینا چاہیے اور ایک ایسا نظام وضع کرنا چاہیے جو ٹریفک کی روانی کو متاثر نہ کر سکے اس حوالے سے ٹریفک پولیس کی نااہلی اور کرپشن کا خاتمہ ضروری ہے۔

بلدیاتی اداروں میں خاص طور پر شعبہ تعلیم میں کام کرنے والے ایک لاکھ کے لگ بھگ ملازمین کی تنخواہوں اور پنشن کا مسئلہ سنگین بنتا جا رہا ہے، نئے میئر کو اس اہم مسئلے کی طرف توجہ دے کر ملازمین کی بروقت تنخواہیں ادا کرنے کا انتظام کرنا چاہیے۔ اس حوالے سے ایک شکایت عام ہے کہ ریٹائرڈ ملازمین کے واجبات ادا کرنے والے اہلکار ملازمین سے رشوت لیے بغیر کام نہیں کرتے ریٹائرڈ ملازمین کو بلیک میل کر کے ان سے رشوت لینے کا سلسلہ سختی سے بند کیا جانا چاہیے۔

محکمہ پولیس اب رشوت کا اڈہ بن گیا ہے اگرچہ یہ محکمہ صوبائی حکومت کے کنٹرول میں ہوتا ہے لیکن اس محکمے سے کرپشن کو ختم کرنے کے لیے ہر تھانے کی مانیٹرنگ کی ذمے داری ضلع چیئرمین کی ہونی چاہیے تا کہ سر سے پیر تک کرپشن میں ڈوبے اس محکمے میں کرپشن کم ہو سکے ہمارے شہر میں کچی آبادیاں جرائم کے اڈوں میں بدل گئی ہیں، ان میں مسلسل اضافہ اس لیے ہو رہا ہے کہ نقل آبادی کو روکنے کا سرے سے کوئی نظام ہی موجود نہیں دوسرے صوبوں ہی سے نہیں بلکہ دوسرے ملکوں سے لاکھوں تعداد میں لوگ کراچی آ رہے ہیں اور شہر کے جرائم خاص طور پر دہشت گردی میں اضافے کا باعث بن رہے ہیں۔

اس وبا کی روک تھام کے لیے میئر کو ایک موثر نظام وضع کرنا پڑے گا اور خاص طور پر افغان مہاجرین کے نام پر کراچی کی کچی آبادیوں میں رہائش پذیر لاکھوں افغانیوں کو ان کے ملک واپس بھیجنے کا انتظام کرنا چاہیے۔ سیوریج کا پورا نظام تباہ ہو چکا ہے ہر علاقہ گندے پانی اور کوڑے سے بھرا ہوا ہے سڑکیں جگہ جگہ سے ٹوٹی ہوئی ہیں جن کا حل ڈھونڈنا ضروری ہے۔ ہم نے کراچی کے بنیادی اور اہم مسائل کی نشاندہی کر دی ہے اب نئے میئر کی ذمے داری ہے کہ وہ ٹاؤن کی انتظامیہ کی مدد سے اور صوبائی حکومت کے تعاون سے ان مسائل کو حل کرنے کی کوشش کرے۔

مقبول خبریں