بچوں سے زیادتی کے مجرموں کی عمر کی بالائی حد

پاکستان میں بچوں کےساتھ زیادتی کرنےکارجحان بہت بڑھ گیا ہےآئےروزایسےواقعات کی خبریں اخبارات میں شایع ہوتی رہتی ہیں


Editorial December 12, 2015
اگر بچوں کو اچھی تعلیم ملے گی اور انھیں اچھائی اور برائی کے درمیان فرق سمجھایا جائے گا تو اس رجحان میں کمی واقع ہو جائے گی۔ فوٹو: فائل

قومی اسمبلی نے بچوں سے بدفعلی کے مجرموں کی عمر کی بالائی حد 12 سے 14 سال مقرر کرنے کا بل کثرت رائے سے منظور کر لیا، اپوزیشن ارکان نے عمر کی حد 16 سال مقرر کرنیکا مطالبہ کرتے ہوئے بل کی مخالفت کی مگر ان کا مطالبہ منظور نہ ہوا۔ ایوان نے بچوں سے بدفعلی کے مجرموں کی عمر کی بالائی حد کے حوالے سے فوجداری قانون ترمیم کی شق وار منظوری دی۔

تحریک انصاف کی شیریں مزاری نے مطالبہ کیا عمر کی حد 12 سے 14 کے بجائے 16 سال کی جانی چاہیے۔ پیپلز پارٹی کی شازیہ مری اور عذرا فضل نے بھی شیریں مزاری کی تائید کرتے ہوئے کہا بل کے پس منظر کو واضح کیا جائے۔ تاہم کہا گیا کہ14 سال کا بچہ سمجھدار ہو جاتا ہے اس لیے عمر کی حد 14 سال رکھی گئی ہے، یہ قانون عالمی قوانین سے بھی مطابقت رکھتا ہے، اپوزیشن کو ترامیم کرنی ہیں تو سینیٹ میں بات ہو سکتی ہے۔

پاکستان میں بچوں کے ساتھ زیادتی کرنے کا رجحان بہت بڑھ گیا ہے' ملک میں آئے روز ایسے واقعات کی خبریں اخبارات میں شایع ہوتی رہتی ہیں۔اس رجحان کو ختم کرنے کے لیے جہاں قانون سازی کی ضرورت ہے' وہاں نچلی سطح تک تعلیم اور اخلاقی تربیت کی ضرورت بھی ہے۔

اگر بچوں کو اچھی تعلیم ملے گی اور انھیں اچھائی اور برائی کے درمیان فرق سمجھایا جائے گا تو اس رجحان میں کمی واقع ہو جائے گی۔بہت سے معاملات ایسے ہوتے ہیں جن کے بارے میں والدین اور دیگر بزرگوں کا بچوں کو بنیادی باتوں کی سوجھ بوجھ دینا ہوتی ہے تاکہ گھر سے باہر وہ کسی ناگوارواقعہ کا شکار ہونے سے بچ سکیں۔

اس مقصد کی خاطر معاشرہ کی تعلیم و تربیت کا انتظام بھی بے حد اہمیت رکھتا ہے اگر ان باتوں کا خیال رکھا جائے تو معاشرہ بہت سی خرابیوں سے محفوظ رہ سکتا ہے۔ ان واقعات سے کسی معاشرہ کے مہذب یا غیر مہذب ہونے کا اندازہ بھی کیا جاتا ہے ۔