صدر پاکستان کے خلاف منفی مہم
1973ء کے آئین کے تحت صدر ریاست کے آئینی سربراہ ہیں۔ یوں وہ ریاستی اداروں کے سرپرست ہیں
1973ء کے آئین کے تحت صدر ریاست کے آئینی سربراہ ہیں۔ یوں وہ ریاستی اداروں کے سرپرست ہیں۔ صدر آئین کی پاسداری کرتے ہوئے ریاستی امور میں مداخلت نہیں کرتے مگر ہر پارلیمانی سال کے آغاز پر پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کرتے ہیں۔
صدر اپنے خطاب میں حکومت کی کارکردگی کا جائزہ لیتے ہیں، قومی اسمبلی اور سینیٹ کی سال بھر کی کارکردگی پر روشنی ڈالتے ہیں، منتخب اراکین کو مشورے دیتے ہیں اور مختلف وزارتوں کی کارکردگی کو بہتر بنانے کے لیے خطوط لکھتے ہیں۔ یوں وہ اپنا آئینی فریضہ پورا کرتے ہیں۔ صدر پاکستان ممنون حسین ملک کے مختلف علاقوں کا دورہ کرتے ہیں۔ ان دوروں کے دوران عموماً وہ سول سوسائٹی کے اراکین، تاجروں، فنکاروں، اساتذہ، ڈاکٹروں، وکلا، منتخب اراکین اور خواتین کے وفود سے ملاقاتیں کرتے ہیں۔
ان ملاقاتوں میں یہ وفود اپنے مسائل بیان کرتے ہیں اور صدر ان مسائل کے حل کے لیے انھیں مشورے بھی دیتے ہیں اور وفاقی حکومت کو عوام کے مسائل سے آگاہ بھی کرتے ہیں۔ اساتذہ، ڈاکٹروں، وکلا، تاجروں، فنکاروں، کسانوں، افسران و ادیبوں کی تنظیمیں اپنے پروگراموں میں صدر کو مدعو کرتی ہیں۔ اس طرح صدر کو ان تنظیموں کے اراکین کے خیالات جاننے کا موقع ملتا ہے۔ صدر مختلف تنظیموں کے اجلاسوں سے بھی خطاب کرتے ہیں۔
صدر ممنون حسین نے معاشرے کے اہم مسائل کے بارے میں ایوان صدر میں سماجی ماہرین، دانشوروں کی کئی نشستوں کا اہتمام کیا جس میں ماہرین نے بنیادی مسائل کے حل کے لیے اہم تجاویز پیش کی تھیں۔ صدر کی دیگر اہم نوعیت کی مصروفیات بھی ہوتی ہیں جن میں غیر ملکی دورے، غیر ملکی سفیر کے اسناد کی وصولی، غیر ملکی وفود سے ملاقاتیں اور وزراء اور مختلف محکموں کے سربراہوں سے ملاقاتیں شامل ہوتی ہیں مگر صدر ممنون حسین ہمیشہ عوامی نمایندوں سے ملاقاتوں کو ترجیح دیتے ہیں تا کہ دو طرفہ ابلاغی عمل کے تحت انھیں حقیقی صورتحال کا علم رہے اور معاشرے کے مختلف طبقوں کے مسائل کے حل کے لیے وفاقی اور صوبائی حکومتوں کی توجہ مبذول کرائیں۔
گزشتہ دنوں صدر ممنون حسین فیصل آباد گئے اور ٹیکسٹائل ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن کی تقریب سے خطاب کیا۔ اس موقع پر ٹیکسٹائل ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن کے عہدیداروں نے کچھ مطالبات پیش کیے۔ صدر ممنون حسین نے ان مطالبات کے جواب میں کہا کہ کاروباری لوگ ٹیکس دینے سے تو یہ کہہ کر گریز کرتے ہیں کہ یہ غیر اسلامی ہے اور دین میں اس کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔
حالانکہ اسلامی حکومت کو ریاست چلانے کے لیے دین کی روشنی میں فیصلے کرنے کا اختیار ہوتا ہے اور ممتاز اسلامی اسکالر ڈاکٹر حمیداللہ نے علما سے تو یہ تک کہا ہے کہ غریب آدمی چونکہ ساری زندگی اپنا گھر نہیں بنا سکتا اس لیے گھر بنانے کے لیے لیے گئے قرضے پر انٹرسٹ یا سود کی ادائیگی کی گنجائش ہونی چاہیے۔ صدر کی اس بات کا بعض حلقوں نے غلط مطلب نکالا اور صدر کے ریمارکس کو سیاق و سباق سے ہٹ کر پیش کیا۔ ان عناصر نے صدر کے خلاف مہم شروع کر دی۔
صدر ممنون حسین نے ملک کے معروف سرکاری ادارے انسٹی ٹیوٹ آف بزنس ایڈمنسٹریشن (I.B.A) سے ایم بی اے کیا ہے۔ اگرچہ وہ تجارت کے شعبے سے منسلک رہے مگر کتب بینی ہمیشہ ان کی عادت میں شامل رہی۔ صدر کی اسلامی فقہ کے بارے میں معلومات حیرت انگیز ہیں۔
یہی وجہ ہے کہ صدر ممنون حسین نے ایک پرانے عالم ڈاکٹر حمیداللہ کے ارشادات کا حوالہ دے کر تاجروں اور معاشرے کے سوچنے والے افراد کو سوچ و فکر کی دعوت دی۔ ڈاکٹر حمید اﷲ نے ساری زندگی فرانس میں گزاری۔ ان کے خطبات پر مشتمل کتابیں آج بھی جامعہ الازہر اور امریکا و یورپ کی نصاب کی کتابوں میں شامل ہیں۔ مگر محدود ذہن رکھنے والے اور طالع آزما قوتوں سے حرارت لینے والے افراد نے صدر ممنون حسین کے خلاف مذموم مہم شروع کی اور یہ تاثر دیا کہ انھوں نے سود کے بارے میں کوئی عجیب بات کہی ہے۔
ان عناصر نے صدر کی ذات کو متنازعہ بنانے کی کوشش کی۔ بعض چینلز نے حقائق جانے بغیر اس موضوع پر ٹاک شوز منعقد کیے جس میں رائے عامہ کو گمراہ کرنے کی کوشش کی گئی۔ ممنون حسین پاکستان کے آئینی صدر ہیں، انھوں نے کبھی آئین کی خلاف ورزی نہیں کی۔ ان میں اور ماضی میں برسر اقتدار رہنے والے صدور میں بہت بڑا فرق ہے۔
طالع آزما قوتوں کے پروردہ عناصر صدر ممنون حسین کو ان کے آئینی راستے سے ہٹانے کی خواہش رکھتے ہیں۔ یہ لوگ چاہتے ہیں کہ صدر ممنون حسین، ضیاء الحق، غلام اسحق خان اور فاروق لغاری کی پیروی کریں اور منتخب حکومتوں کے کام میں رخنہ ڈالیں۔ جنرل ضیاء الحق، صدر غلام اسحاق خان، صدر فاروق لغاری اور جنرل پرویز مشرف نے منتخب حکومتوں کو برطرف کر کے پاکستان کو اندھیری گلی میں دھکیل دیا تھا اور پاکستان ایک ایسے بحران کا شکار ہوا جس سے وہ آج تک نہیں نکل سکا۔
تاریخ شاہد ہے کہ پاکستانی ریاست فلاحی ریاست کے بجائے سیکیورٹی ریاست میں اس لیے تبدیل ہو گئی تھی کہ اس وقت کے صدور نے ملک کے مفاد کو مدنظر رکھنے کے بجائے اسٹیبلشمنٹ کی تابعداری کی تھی۔ ممنون حسین نے صدر کے عہدے کو کبھی اپنے ذاتی مفاد کے لیے استعمال نہیں کیا اور نہ اپنی پارٹی کے کارکنوں کو غیر قانونی طور پر ملازمتیں دیں، نہ ہی انھوں نے کبھی کسی ٹھیکے یا کسی اور کاروبار کے لیے کسی شخص یا کسی کمپنی کی سفارش کی۔
گزشتہ سال تحریک انصاف نے ایوانِ صدر کے سامنے جو ہنگامہ آرائی کی تھی اور کئی دنوں تک جو دھرنا دیا تھا اس کا مقصد بھی صدر کو اپنے آئینی کردار سے ہٹانا تھا۔ سینئر صحافیوں کا کہنا ہے کہ ممنون حسین نے ہمیشہ آئین اور قانون کی پابندی کی ہے، یہی وجہ ہے کہ انھوں نے 1999ء میں گورنر سندھ کی حیثیت سے جنرل پرویز مشرف کے اقتدار کو تسلیم کرنے سے انکار کیا اور گورنر ہاؤس چھوڑ کر گھر چلے گئے تھے۔ صدر ممنون حسین نے ایک عالم دین کا حوالہ دے کر معاشرے میں سوچنے والوں کو بحث و مباحثے کی دعوت دی ہے تا کہ غریب عوام کے مسائل کا حل نکالا جا سکے۔ یہ کردار ہر جمہوری معاشرے میں ریاست کے سربراہ ادا کرتے ہیں۔
بھارت کے سابق صدر ڈاکٹر رادھا کرشنن، ڈاکٹر ذاکر حسین اور ڈاکٹر عبدالکلام اسی طرح عوامی مسائل کو اجاگر کر کے پارلیمنٹ، سیاسی جماعتوں اور سول سوسائٹی کو غور و فکر کی دعوت دیا کرتے تھے۔ صدر کے خلاف مہم چلانے والے محض ممنون حسین کے خلاف مہم نہیں چلا رہے بلکہ جمہوری نظام کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔ صدر کے ریمارکس کو جذباتی مسئلہ بنانے والے دراصل ملک میں بحث مباحثے کے ادارے کے استحکام پر یقین نہیں رکھتے جو کہ ایک جمہوری معاشرے کے لیے خطرناک رجحان ہے۔ مگر اب عوام باشعور ہو چکے ہیں، ان طالع آزما قوتوں کے عناصر کے عزائم ناکام ہو جائیں گے۔