سندھ میں انتظامی بحران کی شکایت

دہشتگردی کے لیے فنڈنگ کا شرمناک گٹھ جوڑ ہو تو کسی جمہوری حکومت کو خاموش تماشائی بن کر نہیں رہنا چاہیے


Editorial December 13, 2015
سپریم کورٹ کا باربار یہ انتباہ کرنا کہ کرپشن نے ملکی نظام کو دیمک کی طرح چاٹنا شروع کیا ہے نہایت چشم کشا ہے، اس طرف بھی توجہ دینے کی ضرورت ہے۔فوٹو:فائل

وزیر اعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ نے بعض قانون نافذ کرنیوالے اداروں کے بارے میں شکایت کی ہے کہ انھوں نے سندھ پر چڑھائی کر دی ہے اور ان کے روز بروز چھاپوں سے حکومتی مشینری کی کارکردگی متاثر ہو رہی ہے جب کہ رینجرز نے سنگین جرائم کی سرکوبی کے اختیارات کے ساتھ ساتھ کرپشن کے خلاف بھی مہم کا آغاز کر دیا ہے۔ وہ ہفتہ انسداد بدعنوانی کی مناسبت سے تقریب سے خطاب کر رہے تھے۔

وزیر اعلیٰ نے سندھ حکومت کی مشکلات کی شدت جذبات کے ساتھ تصویر کشی کی ہے جسے انتہا تک جانے سے روکنا وقت کا تقاضا ہے، نیز سرد جنگ کا امکانی تاثر بھی کسی صورت سندھ یا ملکی مفاد میں نہیں لیکن زیادہ دن نہیں گزرے کہ وزیر اعظم اور آرمی چیف سمیت تمام قانون نافذ کرنیوالے اداروں کے ارباب اختیار ایپکس کمیٹی کے اجلاس میں جمع تھے جس میں بعض اہم فیصلے اگر ہوئے تو عوام پوچھنے کا حق رکھتے ہیں کہ وہ کیا تھے؟

سندھ اور وفاق کے مابین اتفاق رائے اور سندھ حکومت کو کسی قسم کی مداخلت یا یلغار کے اندیشے سے مطمئن کرنے کی کوئی سبیل نکالی گئی تھی تو پھر یہ ہنگامہ اے خدا کیا ہے؟ سندھ اور ملک کے اہم اقتصادی اور معاشی مرکز کراچی کو امن، مفاہمت، ترقی اور سیاسی و سماجی سکون و انتظامی معقولیت درکار ہے، تمام مسائل تنازعات اور کرپشن کیسز سے متعلق قانون نافذ کرنیوالے اداروں کی کارروائی کا آئینی اور قانون جواز میڈیا ہائپ کی نذر نہیں ہونا چاہیے، عدالتی معاملات کو عدلیہ کی سطح پر طے ہونا چاہیے۔

سندھ کو اچھی طرز حکمرانی کے فقدان کا سامنا ہے۔ سندھ انتظامیہ کو متعلقہ قانون نافذ کرنیوالے اداروں سے اگر مداخلت بیجا کی شکایت تھی تو اس کے لیے بہتر فورم سندھ اسمبلی اور وفاق سے فوری رابطہ ہے۔ یہ روز روز میڈیا پر چھیڑی جانیوالی سرد جنگ سے سندھ کی بدنامی تو الگ ہوتی ہے اس سے عوام بھی بے یقینی کا شکار ہو جاتے ہیں کہ صوبہ میں کیا ہو رہا ہے۔ کئی سوالات زیادہ سنگینی کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔

سیاسی جماعتوں کا یہ کہنا کہ جرم اور سیاست کو الگ سمجھنا چاہیے، اصولاً درست ہے مگر جب سیاستدان مجرمانہ سرگرمیوں میں ملوث ہوں، دہشتگردی کے لیے فنڈنگ کا شرمناک گٹھ جوڑ ہو تو کسی جمہوری حکومت کو خاموش تماشائی بن کر نہیں رہنا چاہیے بلکہ ان عناصر کو بتا دینا چاہیے کہ وہ چاہے سیاسی چھتری کے نیچے ہوں، احتساب سے بالاتر نہیں جب کہ قانون نافذ کرنیوالے ادارے بھی اس تاثر کا ازالہ کریں کہ روز بروز چھاپوں سے سندھ کی حکومتی مشینری کی کارکردگی متاثر ہو رہی ہے۔

وزیر اعلیٰ نے جتنے سوال پوچھے ہیں وفاق سمیت سندھ کے قانون نافذ کرنیوالے حکام اس کا جواب مناسب فورم پر دیں لیکن سوچنے کا مقام ہے کہ جرائم پیشہ عناصر اور دہشتگردی میں ملوث عناصر ایک طرف ہیں اور دوسری جانب اسٹریٹ کرائم سے لے کر بھتہ خوری اور ہائی پروفائل جرائم اور کرپشن کے کیسز کے انبار لگے ہیں، سپریم کورٹ کا باربار یہ انتباہ کرنا کہ کرپشن نے ملکی نظام کو دیمک کی طرح چاٹنا شروع کیا ہے نہایت چشم کشا ہے، اس طرف بھی توجہ دینے کی ضرورت ہے۔