ایک فرنچائز

ہمارے وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے کہا ہے کہ ہم انتہاپسند تنظیم داعش کے خطرات سے واقف ہیں،


Zaheer Akhter Bedari December 14, 2015
[email protected]

ہمارے وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے کہا ہے کہ ہم انتہاپسند تنظیم داعش کے خطرات سے واقف ہیں، داعش محض ایک ''فرنچائز'' اور نام کی تبدیلی ہے، انھوں نے کہا کہ پاکستان کے 100 فیصد عوام داعش اور اس طرح کی تنظیموں کے خلاف ہیں، ہم دہشت گردی کی اصل وجوہات کے خاتمے پر بھی توجہ دے رہے ہیں۔ وزیر دفاع کا دہشت گرد تنظیموں کے خلاف بیان بڑا جرأت مندانہ ہے، لیکن اس حقیقت کو بھی سمجھنے کی ضرورت ہے کہ داعش یا اس کی برادر تنظیمیں کسی ایک علاقے یا ملک تک محدود نہیں بلکہ ان کا مضبوط اور مستحکم نیٹ ورک ساری دنیا تک پھیلا ہوا ہے۔ پیرس، فرانس جیسے بڑے اور ایٹمی ملک کے دارالحکومت میں دہشت گردی کی اتنی بڑی واردات نے جہاں دنیا بھر کے عوام کو سہما دیا ہے وہیں اس بات کا ثبوت بھی دیا ہے کہ وہ دنیا کے کسی ملک میں کسی وقت بھی کوئی کامیاب واردات کر سکتے ہیں۔ فرانس سے پہلے امریکی شہر کیلیفورنیا میں بھی جس دیدہ دلیری سے دہشت گردی کی واردات کی گئی اس سے اندازہ ہو سکتا ہے کہ دہشت گرد کس قدر منظم ہیں اور کس دیدہ دلیری سے دنیا کے سب سے زیادہ ترقی یافتہ اور طاقتور ملکوں میں کارروائیاں کر رہے ہیں۔

پاکستان کے وزیر دفاع کا یہ کہنا درست ہے کہ ہماری فوج نے شمالی وزیرستان میں دہشت گردوں کے خلاف کامیاب کارروائیاں کی ہیں لیکن یہ کہنا شاید درست نہیں کہ دہشت گردوں کا خاتمہ ہو گیا ہے۔ کراچی جیسے پاکستان کے سب سے زیادہ حساس شہر میں آرمی پولیس کی گاڑی پر حملہ کر کے دو سپاہیوں کو شہید کرنے سے اندازہ ہو سکتا ہے کہ دہشت گرد تنظیمیں کس قدر بے باکی سے دہشت گردی کا ارتکاب کر رہی ہیں اور کس قدر پھیلی ہوئی ہیں۔ اس کا اندازہ اس المناک حقیقت سے لگایا جا سکتا ہے کہ ان تنظیموں نے اب تک لگ بھگ 60 ہزار پاکستانیوں کو جرم بے گناہی میں انتہائی بے رحمی سے قتل کر دیا ہے۔ عراق کے کئی اہم شہروں حتیٰ کہ تیل کے کنوؤں پر بھی داعش کا قبضہ ہے اور مغربی ملک متحد ہو کر عراق اور شام میں موجود دہشت گردوں کے خلاف کارروائیاں کر رہے ہیں، روس کے ایک مسافر طیارے کو نشانہ بنا کر دہشت گردوں نے اپنی طاقت کا کھلا مظاہرہ کیا ہے، جس کے بعد روس نے بھی داعش کے خلاف فضائی کارروائی کا آغاز کر دیا ہے۔

ان حقائق سے اندازہ ہو سکتا ہے کہ دہشت گرد تنظیمیں کس قدر طاقت پکڑ چکی ہیں اور ان کا نیٹ ورک کس قدر پھیلا ہوا ہے، مغرب کے ترقی یافتہ ملک جن میں دنیا کی واحد سپر پاور بھی شامل ہے انتہاپسندوں کے حملوں سے محفوظ نہیں لیکن ان ملکوں کی خارجہ پالیسیاں تضادات سے بھری ہوئی ہیں کہ ان کے اجتماعی مفادات بھی ان کی بھینٹ چڑھ رہے ہیں، شام بھی داعش کی سرگرمیوں کا ایک مرکز ہے، شام کے صدر بشار الاسد دہشت گرد تنظیموں کے خلاف جنگ میں مصروف ہیں لیکن بعض عرب ملک بشار الاسد کو پسند نہیں کرتے، جن میں سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات پیش پیش ہیں اور بشار الاسد کا شمار روس کے قریبی دوستوں میں ہوتا ہے، جس کی وجہ سے امریکا بھی اسد کو پسند نہیں کرتا اور بشارالاسد کو شام کی صدارت سے ہر قیمت پر ہٹانا چاہتا ہے۔ اس حوالے سے امریکا اس حد تک آگے گیا ہے کہ اس نے بشارالاسد کو اقتدار سے ہٹانے کے لیے القاعدہ کو استعمال کرنے میں کوئی تکلف نہیں کیا۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ بشارالاسد شام سے دہشت گردوں کو نکالنے کی جنگ میں مصروف ہیں، محض ان سے سیاسی اختلاف کی وجہ سے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں مصروف اس حکمراں کو دہشت گردوں کی مدد سے ہٹانے کی کوشش درست ہے؟

وزیر دفاع کا یہ ارشاد کہ داعش محض ایک فرنچائز ہے اور نام کی تبدیلی ہے۔ بلاشبہ اس تناظر میں درست ہے کہ دہشت گرد خواہ ان کا نام القاعدہ ہو یا طالبان ہو، داعش ہو، بوکو حرام ہو، الشہاب ہو یا اور کوئی اور ہو سب ایک ہی نظریاتی بندھن میں بندھے ہوئے ہیں ہماری حکومت اور فوج طالبان کے خلاف لڑائی میں مصروف ہے اور دلچسپ اور عجیب خبریں یہ آ رہی ہیں کہ طالبان کے نئے صدر بلوچستان میں اس کی آپس کی ایک لڑائی میں مارے گئے؟ کیا بلوچستان افغانستان کا کوئی صوبہ ہے کہ طالبان یہاں نہ صرف موجود ہیں بلکہ آپس میں بری طرح لڑ بھی رہے ہیں، اس سے قبل القاعدہ کا سربراہ اسامہ بن لادن برسوں تک ایبٹ آباد میں قیام پذیر رہا اور امریکی کمانڈوز نے اسے مبینہ کارروائی کرتے ہوئے ایبٹ آباد میں قتل کیا اور اس کی لاش اپنے ساتھ لے گئے، ایبٹ آباد پاکستان کا شہر ہے۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ ہماری مسلح افواج بڑی قربانیاں دے کر شمالی وزیرستان سے دہشت گردوں کو نکالنے میں کامیاب ہوئی ہے لیکن یہ بھی درست ہے کہ دہشت گرد کراچی سمیت پاکستان کے ہر علاقے میں آ رہے ہیں اور اپنی موجودگی کے خوف آلود ثبوت بھی دے رہے ہیں اس تناظر میں صرف اتنا کہنا کہ ''ہم داعش کے خطرات سے واقف ہیں اور اس سے نمٹنے کے لیے تیار ہیں کافی ہے؟ طالبان کی کراچی میں کارروائیوں کے آغاز سے پہلے ہی بعض حلقوں کی جانب سے نشان دہی کی گئی تھی کہ کراچی میں طالبان موجود ہیں اس نشان دہی کا مذاق اڑایا گیا لیکن جب پتہ چلا کہ دہشت گرد کراچی میں نہ صرف موجود ہیں بلکہ فوجی اور سول ہوائی اڈوں پر حملے بھی کر رہے ہیں تو ہماری آنکھیں حیرت سے کھلی کی کھلی رہ گئیں۔

شام میں بشارالاسد دہشت گردوں کے خلاف بڑی بے جگری سے لڑ رہا ہے لیکن دہشت گردی کے خلاف عالمی جنگ کے چیمپئن محض ذاتی وجوہ کی بنیاد پر اسد کو اپنے راستے سے ہٹانا چاہتے ہیں۔ کیا یہ منطق درست ہے؟ کیا پاکستان میں بھی ہم اسی طرز کی کارروائیاں کر کے کوئی خدمت انجام دے رہے ہیں وقت کا تقاضا ہے کہ چھوٹے اور انفرادی مسائل کو نظرانداز کر کے اس خوفناک خطرے کے خلاف لڑنے کی صلاحیت رکھنے والی تمام طاقتوں کو متحد کر کے اس عفریت کے خلاف جنگ کریں اگر ایسے نازک وقت ہم انتشار کا شکار ہو گئے تو دہشت گرد مضبوط ہو جائیں گے۔ وزیر دفاع نے یہ بھی فرمایا ہے کہ وہ دہشت گردی کی اصل وجوہات پر بھی توجہ دے رہے ہیں۔ کہا جا رہا ہے کہ ہمارے ملک کی کالعدم انتہا پسند تنظیمیں دہشت گردی میں ملوث ہیں اور آئے دن ان کے کارکنوں کو گرفتار کر کے ان سے بھاری اسلحہ بھی برآمد کیا جا رہا ہے۔ عوام یہ سمجھنے سے قاصر ہیں کہ کالعدم کا مطلب کیا ہے اور کالعدم تنظیموں کے کارکن کراچی کے گلی کوچوں سے کیوں گرفتار ہو رہے ہیں؟ دہشت گردی کے مکمل خاتمے کے لیے ایک مضبوط اور بے لچک پالیسی کی ضرورت ہے اور خفیہ اہلکاروں کی ایک ایسی فوج کی ضرورت ہے جو گلی گلی تک رسائی رکھتی ہو۔

مقبول خبریں