اعتراف

آئی ایس آئی کی فہرست میں شامل لوگ اپنے اقتدار سے بھی جو مل سکا اسے جمع کرتے رہے ہیں اور ان کا یہ سلسلہ جاری ہے


Abdul Qadir Hassan October 26, 2012
[email protected]

KARACHI: قومی سیاستدانوں کے بارے میں سب سے بڑی خبر گزشتہ صدی کے نصف آخر میں موصول ہوئی جب آئی ایس آئی نے انکشاف کیا کہ اس نے اس سال کے الیکشن میں کسی خاص پارٹی کو کامیاب کرنے کے لیے سیاستدانوں کو نقد رقم دی تھی۔

ایک افسر اعلیٰ جنرل درانی صاحب کے حوالے سے قوم کو معلوم ہوا کہ وہ کون سے سیاستدان تھے اور ان کو کتنی کتنی رقم دی گئی۔ یہ زندہ مگر اخباری رپورٹروں کی فائلوں اور حافظوں میں قید خبر برسوں کسمساتی رہی، اب ائر مارشل اصغر خان کے اس سلسلے میں ایک پرانے مقدمے کا سپریم کورٹ نے فیصلہ دے دیا۔ سولہ برس تک سماعت کا منتظر یہ مقدمہ جب باہر نکلا تو بھونچال آ گیا کہ ہمارے اتنے بڑے اور نامور لیڈر بھی سرکاری رشوت کی مار نکلے جب کہ ان میں سے کئی ایک ایسے تھے جو اتنی کل رقم خود دے سکتے تھے لیکن مفت ہاتھ آئے تو برا کیا ہے، ان سب رئوسا نے مال کھا لیا اور ساتھ ہی یہ اعلان بھی کر دیا کہ ہماری انتظامیہ کی طرح ہماری سیاست بھی بدعنوانی اور رشوت خوری میں کسی سے کم نہیں ہے۔

یعنی حکمرانی کے دعوے دار خود رشوت خور ہیں، ہماری رواں حکومت کے عمائدین نے یہ ثابت بھی کر دیا ہے اور عدالتوں میں ان کے کارنامے درج کر دیے گئے ہیں۔ جس ملک کا حکمران طبقہ بدعنوان ہو اور اس وجہ سے نیچے سے لے کر اوپر تک رشوت کی حکمرانی اور دور دورہ ہو، جدید دور کا کوئی ابن خلدون ہی بتا سکتا ہے کہ یہ قوم زندہ رہنے کے قابل ہے یا نہیں ہے یا اسے ایک ملک بنا کر زندہ رہنے کا حق ہے یا نہیں۔ اس سوال پر بات کرنی بے سود ہے کہ سب کچھ ہمارے اوپر اور ہمارے گرد و پیش میں ہماری آنکھوں کے سامنے ہو رہا ہے۔ کرپشن کے مارے ہوئے پاکستانیوں کو کوئی کیا بتائے کہ جس ملک میں کرپشن پھیل جائے اس کا حال کیا ہوتا ہے لیکن اس کے باوجود اس گھپ اندھیرے میں کہیں سے روشنی کی کرن بھی دکھائی دیتی ہے اور میں آج اسی کرن کا ذکر کر رہا ہوں جس کو دیکھ کر میں بہت خوش ہوں۔

پاکستان کی ایک معروف سیاستدان خاتون سیدہ عابدہ حسین نے ایک اعلان میں اعتراف کیا ہے کہ انھوں نے 1990 ء میں آئی ایس آئی سے رقم وصول کی تھی، اب وہ یہ رقم سود کے ساتھ واپس کرنے پر تیار ہیں۔ وہ پہلی سیاستدان ہیں جنہوں نے رقم لینے اور واپس کرنے کا اعلان کیا ہے۔ جب سیاستدانوں کے آئی ایس آئی سے رقم لینے کا سوال پیدا ہوا تھا تو اس میں سیاستدانوں کے علاوہ کچھ دانشور بھی شامل تھے۔ میں چونکہ آئی جے آئی کے نام سے بننے والی اس جماعت کا حامی تھا، اس لیے مجھے خطرہ پیدا ہوا کہ کہیں میرا اسم گرامی بھی ان خوش نصیبوں میں شامل نہ ہو۔

میں نے اوپر کے کچھ لوگوں سے بات کی تو انھوں نے مجھ سے پوچھا کہ کیا میں نے رقم لی تھی، میرے انکار پر کہا کہ پھر تم فکر مت کرو لیکن اس دور میں کچھ بعید نہیں ہوتا کہ جاتے جاتے آپ کو اس فہرست میں ڈال دیا جائے۔ بہر حال میری تسلی ہو گئی لیکن تسلی کرنے کی اس کوشش میں مجھ پر چودہ طبق روشن ہو گئے اور ایسے ایسے محترم اور اچھے سیاستدان اور دوسرے لوگ سامنے آئے جن کے بارے میں مجھے شبہ تک نہ تھا۔
میں تو ذاتی حد تک مطمئن ہو گیا مگر مجھے میری سیاسی قیادت نے جو دکھ دیا، اس نے مجھے ہلا کر رکھ دیا کہ ایسی قوم میں زندگی بسر کر سکتے ہیں اور نہ کوئی دوسرا وطن ہے جہاں کوچ کر جائیں۔

میں جو ایک رپورٹر صحافی ہوں، اس لیے خاصا باخبر ہوں اور دیکھتا رہا ہوں، آئی ایس آئی کی فہرست میں شامل لوگ اپنے اقتدار سے بھی جو مل سکا اسے جمع کرتے رہے ہیں اور ان کا یہ سلسلہ جاری ہے، اس تمام صورت حال پر جو المناکی میں کم نہیں مجھے محترمہ عابدہ حسین نے کچھ تسلی دی ہے کہ وہ اس ملک کی پہلی سیاستدان ہیں جس نے دو کارنامے سر انجام دیے ہیں۔ ایک یہ اور وہ بہت بڑا ہے کہ انھوں نے بھری محفل میں برسرعام اعتراف کیا کہ خواتین و حضرات میں نے بھی آئی ایس آئی کی بہتی گنگا میں ہاتھ دھوئے تھے۔ اس سے مجھے جو کچھ ملا میں نہ صرف نقد بلکہ منافع یعنی سود ادا کرنے پر تیار ہوں۔

جہاں تک مجھے یاد پڑتا ہے یہ کوئی بڑی رقم نہیں تھی اور محترمہ عابدہ کے سامنے یہ ایک معمولی سی رقم تھی لیکن بہر حال ان سے ایک غلطی ہو گئی کیونکہ وہ بھی اسی سیاست سے تعلق رکھتی ہیں جس نے آئی ایس آئی سے مال کھایا تھا۔ اب جب یہ مسئلہ پھر سے کھڑا ہوا تو انھوں نے پہل کرتے ہوئے اپنا نام فہرست کے اوپر لکھوا لیا۔ اب خواہ کوئی رقم واپس کرے نہ کرے لیکن عابدہ نے یہ جرات کر لی۔ سوال صرف یہ نہیں کہ کچھ رقم واپس کر دی گئی۔ اتنی رقم تو میں بھی اس سیدانی کی نذر کر سکتا تھا۔ اصل بات یہ اعتراف ہے کہ رشوت لی تھی۔

معلوم ہوتا ہے عابدہ اپنے آبا و اجداد کی نیک نامی سے مجبور ہو گئیں کہ کوئی کیا کہے گا کہ جھنگ کے معروف سید اور پیر خاندان کی وارث نے یہ کام کر دیا۔ سیدہ نے اعتراف کر کے اور وہ بھی سب سے پہلے اپنے نام کو بچا لیا۔ میں کسی کالم میں ان کے شوہر نامدار کا ذکر کر چکا ہوں جب جناب فخر امام نے اصولوں کی خاطر اقتدار چھوڑ دیا تھا۔ خوشی اس بات کی ہے کہ کسی سیاستدان کے بارے میں اچھے الفاظ لکھتے ہوئے جھجھک نہیں ہو رہی۔

مقبول خبریں