لیڈر سیاسی کارکنوں کی اخلاقی تربیت لازم بنائیں

لازم ہے کہ سیاسی لیڈرز اپنے کارکنوں کو اختلافی موقف پر برداشت اور اخلاقی تربیت کے جوہر سے آشنا کریں۔


Editorial December 17, 2015
گزشتہ چند برسوں میں سندھ کو فرقہ وارانہ اور سیاسی و مذہبی کشمکش کی نذر کرنے کی ہولناک وارداتیں ہوئیں، فوٹو : فائل

ISLAMABAD: سانگھڑ شہر میں پی پی پی اور مسلم لیگ فنکشنل کی دو ریلیوں میں شامل کارکنوں کے باہمی تصادم میں 2 پولیس اہلکاروں سمیت 4 افراد کے جاں بحق ہونے کا افسوس ناک واقعہ پیش آیا ہے۔ اخباری اطلاعات کے مطابق سانگھڑ میں مسلم لیگ فنکشنل کی جانب سے رینجرز کی حمایت میں ریلی نکالی گئی، جب کہ دوسری جانب پیپلز پارٹی کی طرف سے انتخابی امیدواروں کی حمایت میں بھی ریلی کا انعقاد کیا گیا، دونوں جماعتوں کی ریلیاں آمنے سامنے آنے اور نعرے بازی کے بعد دونوں جماعتوں کے کارکن آپس میں دست و گریبان ہوگئے۔

مسلم لیگ فنکشنل کے ایم این اے نے دونوں پارٹیوں کے کارکنوں میں تصادم اور انسانی جانوں کے ضیاع پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ واقعے کی تمام تر ذمے داری ضلعی انتظامیہ اور پولیس پر عائد ہوتی ہے، ضلعی انتظامیہ کے علم میں تھا کہ رینجرز کی حمایت میں مسلم لیگ فنکشنل کی جانب سے ریلی نکالی جارہی ہے تو دوسری ریلی کا روٹ تبدیل اور حفاظتی انتظامات کیوں نہیں کیے گئے۔ پی پی کی جانب سے الزام عائد کیا گیا ہے کہ پارٹی کی ریلی پر سوچی سمجھی سازش کے تحت حملہ کیا گیا ہے۔ مذکورہ واقعہ سیاسی کارکنوں میں عدم برداشت اور اخلاقی تربیت کے فقدان کو ظاہر کرتا ہے، لازم ہے کہ سیاسی لیڈرز اپنے کارکنوں کو اختلافی موقف پر برداشت اور اخلاقی تربیت کے جوہر سے آشنا کریں۔

گزشتہ چند برسوں میں سندھ کو فرقہ وارانہ اور سیاسی و مذہبی کشمکش کی نذر کرنے کی ہولناک وارداتیں ہوئیں، سیاسی جماعتوں اور قبائلی گروہوں میں تصادم ہوئے مگر افسوس حکومتی رٹ اور قانون کی حکمرانی کے تقاضوں سے نہ صرف ارباب اختیار صرف نظر کرتے ہیں بلکہ قانون و انصاف کے ادارے بھی اکثر سیاسی چپقلش کے باعث ہونے والی لڑائیوں اور قتل و غارت کے ذمے دار عناصر کو قانون کے کٹہرے میں لانے کی ہمت نہیں کرتے۔یہ صورتحال ختم ہونی چاہیے۔سندھ حکومت کا فرض ہے کہ وہ سیاسی اور جمہوری رویوں کے فروغ اور سماجی تعلقات میں رواداری، تحمل وبرداشت اور عفو و درگزر کی اسلامی اقدار کو سیاسی جماعتوں کے طرزعمل کا حصہ بنانے کی کوشش کرے اور جدید تعلیم ، سیاسی خیر سگالی اور قبائلی یگانگت اور بھائی چارہ کا ماحول پیدا کرے جب کہ قانون شکنوں کے خلاف سخت کارروائی بھی کی جائے۔