دو نالی بندوق اور اس میں ایس جی کارتوس

ہمارا شکار تو دو بڑے ناہنجار نابکار اور دل آزار قسم کے بھائی بہن ہیں


Saad Ulllah Jaan Baraq December 17, 2015
[email protected]

خالی ہاتھ انسان کا سب سے بڑا دشمن ہوتا ہے ورنہ آج کل اگر آپ ہم سے ملتے تو ہمارے کاندھے پر دو نالی بندوق ہوتی اور اس میں دو عدد اصلی ایس جی کارتوس بھرے ہوتے جن میں نو نو بڑے خطرناک اور جان لیوا چھرے ہوتے اور ہم یہاں وہاں اپنا شکار ڈھونڈ رہے ہوتے، ڈریئے مت ہمارا شکار آپ میں سے کوئی نہیں کیوں کہ آپ پہلے ہی بے شمار شکاریوں کا شکار ہو چکے ہیں اور ہر ایک چھرا لیے آپ کو ذبح کرنے اور ''ووٹ کا نافہ'' نکالنے کی فکر میں ہے۔

ہمارا شکار تو دو بڑے ناہنجار نابکار اور دل آزار قسم کے بھائی بہن ہیں جن کے اصلی نام تو نہ جانے کیا ہیں لیکن ''قسمت'' اور ''نصیب'' کے نام سے زیادہ جانے پہچانے جاتے ہیں پتہ نہیں یہ کون کیا ہیں اور ہمارا ان سے جائز سمبندھ کیا ہے کہ مستقل ہمارے پیچھے پڑے ہوئے ہیں دونوں نے ہمیں کہیں کا نہیں رکھا ہے ہم طرح طرح کے ہوائی قلعے محل دو محلے تیار کرتے ہیں اور یہ دونوں نہ جانے کہاں سے آکر لات مارتے ہیں اور پھر غائب غلہ ہو جاتے ہیں اگر یہ دونوں کم بخت نہ ہوتے تو آج ہم نہ جانے کیا کیا تعمیر کر چکے ہوتے، کیوں کہ تعمیر کرنے میں ہم عمران خان جتنے بڑے اور عالی حوصلہ معمار نہ سہی کہ پورا نیا پاکستان کھڑا کرنے کا عزم کر لیں لیکن یہ چھوٹی چھوٹی ذاتی تعمیرات تو ہم چٹکیوں میں کر لیتے ہیں اب تک زیادہ نہ سہی اپنا ایک ''ضلع'' تو تعمیر کر ہی چکے ہوتے لیکن یہ دو بہن بھائی قسمت اور نصیب ؟ خدا کرے دونوں ایک ساتھ ہی چٹ پٹ ہو جائیں۔

چنانچہ ہمارے اپنے ضلع نوشہرہ میں بھی ان کم بختوں نے ہمیں اپنا شوق پورا کرنے نہیں دیا جب بھی ہم ارادہ کرتے ہیں اور کہیں سے اینٹ کہیں سے روڑے کی سعی کرتے ہیں کوئی نہ کوئی آکر یہ ٹینڈر ہم سے چھین کر لے جاتا ہے اور وہ ان ہی دو بہن بھائی کا بھیجا ہوا ہوتا ہے، خیر یہ تعمیرات وغیرہ کا معاملہ تو پھر بھی اتنا اہم نہیں ہے کیوں کہ ہم جس ضلع میں رہتے ہیں یہ ابھی جمعہ جمعہ آٹھ دن کی پیدائش ہے پہلے یہ پشاور کی ایک تحصیل ہوتی تھی تب تک تو گزارہ ہو جاتا تھا پشاور سے کچھ نہ کچھ ''مل'' ہی جاتا تھا لیکن جب سے اس کا نام ضلع نوشہرہ رکھا گیا ہے بے چارا پشاور اور مردان جیسے ہاتھیوں کے بیچ ''چیونٹی'' بن کر رہ گیا۔

لیجیے بیک وقت دو کہانیوں نے دم ہلانا شروع کر دیا دونوں ہی پرانی ہیں لیکن وہ جو کسی نے غالباً پاکستان کے بارے میں کہا ہوا ہے کہ نیا نو دن پرانا سو دن ... وہ جو کپتان صاحب مصر ہیں کہ میں نیا پاکستان بنا کر دم لوں گا وہ اسی لیے کہ موصوف ''نو'' کا ہندسہ شبھ تصور کرتے ہیں، محترمہ جمائما کی خانہ آبادی نو سال چلی تھی محترمہ ریحام خان نو مہینے گزار پائی خدا خیر کرے کیوں کہ تیسرے نمبر ہفتے اور دن یا گھنٹے ہیں ہمیں پورا یاد تو نہیں لیکن کپتان صاحب کرکٹ میں بھی نویں نمبر پر بیٹنگ کرتے تھے شاید ... اب اگر نیا پاکستان بھی سو کے بجائے نو دن چلے تو کیا ہوا ویسے بھی نو کے معنی فارسی میں ''نئے'' اور انگریزی میں ''نہیں'' کے ہوتے ہیں، ہاں وہ کہانیاں ... جن میں ایک تو وہ غونڈے خان ولی ہے۔

جس نے ایک ہندو کو 1947ء میں ٹھہرنے کو کہا تھا کہ میں تمہیں یہیں ''دکان'' ڈال کر دے دوں گا اور دکان میں سو ڈیڑھ سو کا سودا ڈال کر بھول گیا ... جب دکان خالی ہو گئی اور گاہک کسی چیز کو پوچھتا تو سیٹھ کا جواب وہی ہوتا کہ یہ چیز تو نہیں ہے باقی سب کچھ ہے ۔ گاہک کے برا مان جانے پر سیٹھ جواب دیتا کہ کیا کروں غونڈے خان نے تو نام کرنا تھا کہ میں نے سیٹھ کو دکان کھول کر دی وہ نام اس نے کر لیا باقی اب سیٹھ جیے یا مرے اسے کیا ۔

نوشہرہ کو بھی جناب شیر پاؤ نے نام کرنے کو ''ضلع'' کر دیا لیکن اس کے بعد ... کسی بھی چراغ میں روشنی نہیں رہی، اکثر دفاتر کے لیے جگہ نہیں کوئی یہاں کوئی وہاں ... روشنی نام کو نہیں اور نام ہے چراغ دین ... دوسری کہانی ان تین کنوؤں کی ہے جو ایک قطار میں تھے ادھر ادھر کے کنوئیں پانی اچھال کر ایک دوسرے میں گراتے تھے اور بیچ والا خالی کنواں یوں ہی بھاڑ سا منہ کھولے ایک ایک قطرے کو ترستا رہتا، ایسا ایک شخص نے خواب میں دیکھا تھا اس نے اپنا یہ خواب کسی عارف کو سنا کر تعبیر پوچھی تو عارف نے فرمایا یہ آخری زمانے میں ملک پاکستان بمقام کے پی کے تین اضلاع میں کناروں والے دونوں کنوئیں پشاور اور مردان ''پانی'' اچھال اچھال کر ایک دوسرے میں ڈالیں گے اور بیچ والا نوشہرہ بوند بوند کو ترستا رہ جائے گا۔

آپ سوچ رہے ہوں گے کہ آخر ہماری بندوق اس میں دو ایس جی کارتوسوں اور قسمت اور نصیب کا آپس میں کیا سمبندھ ہے اور پھر ان سب کا نوشہرہ سے کیا رشتہ ہے تو وہی بتانے کے لیے تو یہ قصہ شروع کیا ہے، قسمت اور نصیب سے ہماری پرخاش کا سبب یہ ہے کہ آخر دنیا میں کتنے ممالک ہیں کتنے شہر ہیں کتنے جزیرے جزیرہ نما ہیں ان میں ہم کہیں بھی پیدا ہو سکتے تھے اور منہ میں سونے کا نہ سہی چاندی یا کسی فائیو اسٹار ہوٹل کا چمچہ لے کر پیدا ہو سکتے تھے لیکن ہم کہاں پیدا ہوئے ؟ منہ میں ''چمچہ'' تو کیا دانت بھی نہیں تھے حالانکہ جہاں پیدا ہوئے وہ ملک طرح طرح کے چمچوں اور کف گیروں بلکہ دیگوں سے بھرا ہوا ہے وہ تو بعد میں ہم نے مٹی کنکر پتھر اور الابلا منہ میں ڈال کر برائے نام سے دانت اگا لیے ورنہ پوپلے کے پوپلے ہی رہ جاتے ویسے اگر منہ میں دانت ہیں بھی تو کیا ۔ کسی نے ایک شخص سے کہا تمہارے دانت بڑے خوب صورت اور چمک دار ہیں۔

جواب میں اس نے کہا چمک دار ہیں تو کیا ہوا ان سے چباؤں کیا خاک ... ویسے اس نے خاک کی جگہ ایک اور خطرناک لفظ استعمال کیا تھا، اب آپ خود ہی انصاف کریں کہ ہم ان دونوں بہن بھائی قسمت اور نصیب کے درپے کیوں نہ ہوں، چلو ٹھیک ہے پاکستان میں لے آئے سرزمین یہ بھی بری نہیں ہے اگر آدھے عوام اور سارے لیڈر پاکستان ''بدر'' کیے جائیں یا بحیرہ عرب کے ذریعے بحیرہ مردار ارسال کیے جائیں تو ایک اچھا خاصا خوب صورت ملک بن سکتا ہے لیکن پاکستان میں اور بھی تو بہت سارے مقامات ہیں جہاں ہمیں پیدا کرتے تو یہ حال تو نہ ہوتا جو اب ہے، چلو اسلام آباد نہ سہی کہ یہاں پیدا ہونے کے لیے سات پشتوں کی سعادت درکار ہوتی ہے یا دو پشتوں کی سیاست چاہیے ہوتی ہے لیکن کراچی ہے لاہور ہے پنڈی ہے، شیخوپورہ، پنڈی بھٹیاں نہ سہی چیچہ وطنی اور چیچوں کی ملیاں بھی برے نہیں ہیں لیکن کھینچتے کھینچتے گھسیٹتے گھسیٹتے وہاں لے آئے جہاں کسی کو بھی کسی کی خبر نہیں رہتی

قسمت نے لا رکھا ترے بزم خیال میں

کے پی کے میں بھی مردان تھا پشاور تھا مانکی شریف سیدو شریف زکوی شریف، اکوڑی شریف، صوابی شریف، چارسدہ شریف مطلب یہ کہ کتنے ہی مقامات مقدسہ اور مقامات عالیہ تھے جہاں ہماری ولادت شریف عمل میں آسکتی تھی لیکن یہ نہ تھی ہماری قسمت کہ کچھ ایسا ویسا ہوتا، لاتے لاتے یہ دونوں بہن بھائی (کاش یہ دونوں پیدا ہونے سے پہلے ہی مر گئے ہوتے تو کتنا اچھا ہوتا) ایک ایسے علاقے کے ایک ایسے گاؤں اور پھر گاؤں میں ایک ایسے گھر میں لے آئے کہ اگر دنیا ساری سیلاب میں بہہ جائے تب بھی وہاں پانی کی بوند نہیں ملتی اور اگر ساری دنیا سوکھے سے مر جائے تو یہاں گوڈے گوڈے بلکہ ناک ناک پانی کھڑا ہو گا۔

آدھی زمین پہاڑوں نے ناجائز قبضہ کر کے دبائی ہوئی ہے تو باقی کی آدھی میں سیم و تھور کے کارخانے ٹنوں نمک پیدا کرنے میں لگے ہوئے ہیں، یہاں سب کچھ ایک جیسا ہے جیسا گرد آلود گاؤں ہے ویسے ہی گرد آلود در و دیوار ہیں اور ان دیواروں میں رہنے والے بھی گرد آلود ہیں نیچے سے دیکھتے تو انسان لگتے ہیں اور اوپر حکومت کی نگاہ سے دیکھیے تو کالانعام لگتے ہیں، اب ایسے میں ہم دو نالی بندوق میں ایس جی کارتوس بھرکر ان ناہنجار بہن بھائیوں کے پیچھے کیوں نہ پھریں

ہم کیوں نہ پھریں تپتی دوپہروں میں ہراساں
اس بخت و نصیبے نے کیا ہم کو پریشان