’’تو اب میں ناں ہی سمجھوں‘‘

’’ڈیڈی میرا آئی پیڈ نہیں لائے، ارے بیٹا ابھی بھارت سے سیریز کھیلنے جاؤں گا تو آتے ہوئے لے آؤں گا‘‘


Saleem Khaliq December 18, 2015
’’ڈیڈی میرا آئی پیڈ نہیں لائے، ارے بیٹا ابھی بھارت سے سیریز کھیلنے جاؤں گا تو آتے ہوئے لے آؤں گا‘‘. فوٹو: اے ایف پی

''ڈیڈی میرا آئی پیڈ نہیں لائے، ارے بیٹا ابھی بھارت سے سیریز کھیلنے جاؤں گا تو آتے ہوئے لے آؤں گا''

''جھوٹ وہ سیریز تو ہو گئی ہی نہیں،آپ مجھے بے وقوف بنا رہے ہیں'' یہ کہہ کر بچے نے رونا شروع کر دیا۔

یہ ''لطیفہ'' مجھے ایک قومی کرکٹر نے سنایا، اس کا بھی یہی کہنا تھا کہ پی سی بی بھارت کے پیچھے پڑا ہوا ہے مگر اسے سیریز نہیں کھیلنی، ایک چھوٹا بچہ بھی یہ بات سمجھ سکتا ہے مگر ہمارے بورڈ حکام نجانے کس مٹی کے بنے ہوئے ہیں۔

واقعی یہ بات بالکل درست ہے،بورڈ چیف شہریارخان نے جتنی کوشش اس سیریز کیلیے کی اگر وہ قومی ٹیم کی کارکردگی میں بہتری لانے کیلیے کرتے تو آج ہماری رینکنگ مسلسل روبہ زوال نہ ہوتی،بھارت سے میچز کی آس میں ملک کی خوب بے عزتی کرانے کے بعد اب جب ''ونڈو'' ہی ختم ہونے والی ہے تو مجبوراً پی سی بی نے مان لیا کہ انعقاد ممکن نہیں رہا، دونوں بورڈز کو پتا تھا کہ سیریز نہیں ہو گی مگر کوئی بھی خود اعلان کر کے بُرا نہیں بننا چاہتا تھا۔

بھارتی حکومت نے بھی چپ سادھے رکھی اسے کون سی ہم سے محبت ہے کہ خاموشی کو ''ہاں'' سمجھیں، جائلز کلارک آئی سی سی ٹاسک فورس بنا کر پاکستان کیلیے کچھ نہ کر سکے، اس سیریز کو کیسے کرا سکتے تھے؟ اب ری شیڈولنگ کا لولی پاپ تھما کر معاملے پر مٹی ڈال دی جائے گی، مگر اس پورے کیس سے ملک کے حصے میں صرف بدنامی ہی آئی جس کا مداوا ہونا ممکن نہیں ہے۔

شہریارخان ان دنوں میڈیا،سابق کرکٹرز اور عام لوگوں کی جانب سے کڑی تنقید کی زد میں ہیں، وجہ سیریز کیلیے ان کا اصرار بنی، یقیناً انھوں نے اس کیس کو خراب کیا، بھارت گئے وہاں اہلیہ کے ساتھ چند گھنٹے زیرحراست رہنا پڑا، پھر اگلے دورے میں کسی بورڈ آفیشل نے ملاقات تک گوارا نہ کی، باربار منت سماجت کرتے رہے مگر بھارتی حکام نے کبھی نرمی نہیں دکھائی، ڈیڈ لائن پر ڈیڈ لائن دے کر خود بھی مذاق کا نشانہ بنے اور ملک کو بھی بنوایا، ان تمام باتوں کے باوجود اگر ٹھنڈے دل سے سوچیں تو اندازہ ہو گا کہ ان کی کوشش یہی تھی کہ بس کسی نہ کسی طرح سیریز کرا دیں، حکومت نے انھیں اسی لیے بورڈ کی سربراہی سونپی تھی۔

وہ نہیں چاہتے تھے کہ بطور ناکام منتظم عہدہ چھوڑنا پڑے اسی لیے ایڑی چوٹی کا زور لگایا مگر مقابلوں کا انعقاد نہ کرا سکے، اس میں کچھ عمر کا بھی تقاضہ تھا باقی میڈیا ڈپارٹمنٹ کی نااہلی بھی وجہ بنی، کیوں انھیں روز روز پریس کانفرنس کرنے سے نہ روکا گیا؟ اگر وہ اس حساس معاملے پر کم اظہار خیال کرتے تو شاید اتنی جگ ہنسائی نہ ہوتی، مجھے ایک بات کا یقین ہے کہ شہریارخان کرپٹ انسان نہیں ہیں، ان کی یہ سوچ نہیں تھی کہ سیریز کرا کے بورڈ کے ساتھ اپنے اکاؤنٹ میں بھی خوب رقم منتقل کراؤں گا۔

بس ضد سی سوار تھی کہ میچزکرانے ہیں، اس لیے بعض اوقات رتبے سے نیچے آنا پڑا، اس وقت اگر میں تصور کروں تو نجانے کیوں مجھے نجم سیٹھی ایک کونے میں کھڑے مسکراتے ہوئے دکھائی دے رہے ہیں کہ ''میں بچ گیا مگر انکل پھنس گئے'' ہم لوگ جلدی بھولنے کی بیماری میں مبتلا ہیں، ذرا تھوڑا سا دماغ پر زور دیں، گذشتہ سال کی بات ہے،جون میں آسٹریلیا میں کس نے بگ تھری معاہدے پر دستخط کیے تھے؟ کس نے پریس کانفرنس میں اکڑ کر کہا تھا کہ ''میں میلبورن سے خوش خبریوں کا صندوق بھر کر لایا ہوں، یقیناً وہ شہریارخان نہیں تھے،لہذا اس معاملے میں انھیں قصوروار ٹھہرایا جا رہا تو نجم سیٹھی کو بھی نہیں بھولنا چاہیے۔

ان سے پوچھا جائے کہ بھائی کہاں گئے وہ اربوں روپے جو آپ لانے کی باتیں کر رہے تھے، 6 تو دور کی بات ہے بھارت تو ایک سیریز کھیلنے کے حق میں بھی نہیں، اب آپ کیا کریں گے؟ اس وقت بورڈ پر ان کا کنٹرول مکمل ہو چکا ہے، شہریارخان یا تو خود چلے جائیں گے یا گھر بھیج دیا جائے گا، ویسے بھی اب وہ صرف دستخط وغیرہ تک ہی محدود ہیں، ان کے قریبی افراد ذاکرخان، انتخاب عالم اور آغا اکبر کو اب ٹیموں کے ساتھ بطور منیجر و میڈیا منیجرمنسلک کرنے کا اعلان کیاگیا ہے، مگر چند سیریز سے زیادہ یہ سلسلہ نہیں چلنے والا، سبحان احمد کیلیے بھی آنے والا وقت اچھا نہیں لگتا، ایزد سید کو بورڈ میں ایسے ہی نہیں لایا گیا، دیگر شعبوں میں نجم سیٹھی کے قابل بھروسہ لوگ پہلے ہی موجود ہیں، اس طرح بڑی خوبصورتی سے پی سی بی سے ایک گروپ کا ''صفایا'' ہو گیا۔

ہم سب ہاتھ دھو کر چیئرمین شہریارخان کے پیچھے پڑے ہوئے ہیں کہ انھوں نے بھارت سے سیریز کیلیے ملکی وقار کو داؤ پر لگا دیا، بات کافی حد تک درست بھی ہے لیکن ایسے میں ہمیں کرکٹرز کی طرف بھی نظر ڈالنی چاہیے، مصباح الحق پاکستانی ٹیسٹ کرکٹ ٹیم کے کپتان ہیں، بنگلہ دیش لیگ میں انھیں مسلسل 7 میچز میں ڈراپ کیا گیا، غیرت کا تقاضہ تو یہ تھا کہ دوسرے ہی مقابلے کے بعد وہ سامان لپیٹ کر واپس آ جاتے، مگر کئی صفر والے ٹکے کے چیک انھیں ایسا فیصلہ کرنے سے روکتے رہے،ان کے پاس کروڑوں روپے پہلے سے ہی موجود ہیں ایسے میں کچھ اپنا نہیں تو ملک کی عزت کا تو خیال کرتے، اب تو لوگ یہ بھی باتیں کر رہے ہیں کہ مصباح نے ریٹائرمنٹ کا اعلان اسی لیے موخر کیا تاکہ سینٹرل کنٹریکٹ و دیگرمراعات سے بدستور کئی ماہ تک لطف اندوز ہوتے رہیں۔

آخر میں کچھ محمد عامر کا ذکر ہو جائے، گذشتہ کالم میں انھیں ٹیم میں لانے کی مخالفت کرنے پر مجھے بعض قارئین کے منفی ردعمل کا بھی سامنا کرنا پڑا، ایک صاحب نے ای میل بھیجی کہ '' عامر کی جگہ آپ کا بھائی یا بیٹا ہوتا تو کیا اسے بھی معاف نہ کرتے'' میرا ان کو یہی جواب ہے کہ اول تو میں اتنا بااختیار نہیں کہ عامر کی واپسی کا فیصلہ کرسکوں یہ تو بورڈ حکام کا کام ہے، میں صرف اپنی رائے دے سکتا ہوں، میں اس حق میں نہیں ہوں کہ عامر کو کرکٹ سے بالکل ہی دور کر دیا جائے، وہ فرسٹ کلاس کرکٹ، نجی لیگز وغیرہ کھیل کر ضرور جائز رقم کمائیں، مگر انھیں پاکستان کی نمائندگی کا دوبارہ موقع نہیں ملنا چاہیے اور خدا کی قسم اگر عامر میرا اپنا بھائی یا بیٹا بھی ہوتا تو بھی یہی موقف برقرار رکھتا۔