سنجیدہ پاکستان کی کہانی
شیخ مجیب الرحمن قید سے رہا ہو کر بنگلہ دیش کے سربراہ بن جاتے ہیں۔
PABBI:
بدرالدین صاحب کا تعلق اس نسل سے ہے جو متحدہ ہندوستان میں پیدا ہوئی، اپنی جوانی کے ابتدائی دنوں میں تحریکِ پاکستان کو دیکھا اور پھر پاکستان کے قیام کے برسوں بعد عملی زندگی میں آ گئے اور پاکستان ٹوٹتے ہوئے دیکھا۔ بدرالدین نوجوانی میں ترقی پسند نظریے سے متاثر ہوئے، پھر انھوں نے صحافت کا پیشہ اختیار کیا۔ انھوں نے مسائل اور معاملات کا عرق ریزی سے مطالعہ کیا۔ ان کی کتاب جہاں سے ہم گزرے، دراصل 1947ء سے 1971ء تک مغربی پاکستان کی اسٹیبلشمنٹ نے جو سلوک مشرقی پاکستان کے عوام کے ساتھ روا رکھا، اس کا جائزہ ہے۔ اس کتاب میں بنگال کے عوام کی محرومی کا اظہار ہوتا ہے اور وہ حقائق سامنے آتے ہیں جن کی بناء پر بنگالی عوام نے علیحدہ ملک بنانے کا فیصلہ کیا۔ بدرالدین 1957ء میں ڈھاکہ گئے اور 1971ء تک صوبے کے سب سے معتبر اخبار مارننگ نیوز کے ایڈیٹر رہے۔ مارننگ نیوز 1960ء میں نیشنل پریس ٹرسٹ میں شامل کر لیا گیا، اور اس طرح اخبار مرکزی حکومت کے زیرِ کنٹرول آ گیا، مگر بدر الدین صاحب نے معروضی صحافت کے اصولوں کو اپنائے رکھا۔ انھیں حکومت اور ایجنسیوں کی جانب سے کس کس طرح کے پریشر کا سامنا کرنا پڑا ہو گا، اس کا اندازہ اور متوازن صحافت کا اظہار اس وقت ہوتا ہے جب مارچ 1971ء سے 16 دسمبر 1971ء کی خانہ جنگی کے بعد بنگلہ دیش وجود میں آتا ہے۔
شیخ مجیب الرحمن قید سے رہا ہو کر بنگلہ دیش کے سربراہ بن جاتے ہیں۔ بدر الدین محمد پور کے ایک وفد کے ہمراہ شیخ مجیب سے ملاقات کرتے ہیں اور شیخ مجیب الرحمن ان کے میلے کپڑے دیکھ کر انھیں اپنے کپڑوں کی پیشکش کرتے ہیں۔ اس سے زیادہ بہتر ایک صحافی کے لیے کوئی اور اعزاز نہیں ہو سکتا، مگر بدرالدین کی عظمت کا ایک اور پہلو اجاگر ہوتا ہے اور وہ اس پیشکش کو شکریے کے ساتھ قبول نہیں کرتے اور اپنے ساتھیوں کے ساتھ بہاریوں کے کیمپ میں واپس چلے جاتے ہیں۔ اس کتاب کا پہلا مضمون بنگال میں مسلمانوں کی آمد کے بارے میں ہے۔ مصنف نے ایک اہم بات کی طرف اشارہ کیا ہے کہ عرب مسلمان سندھ سے پہلے بنگال پہنچ چکے تھے اور اس کی گواہی محمد بن قاسم کی مہم سے ملتی ہے۔ اسی طرح بنگلہ دیش کی بندرگاہ چٹاگام کا نام اورکومیلا میں دریافت ہونے والے آثارِ قدیمہ سے ملتی ہے۔ وہ لکھتے ہیں کہ کوئی بھی سچی تحریک اتفاقاً یا حادثاتی طور پر وجود میں نہیں آتی، کوئی بھی تصور بلکہ کوئی فرد بھی اس تصور کو پھیلاتا ہے۔ اس کے لیے جدوجہد کرنا اکیلا واقعہ نہیں ہوتا ،اس لیے کسی تحریک کے مطالعے کے لیے ضروری ہے کہ اس کی ابتداء میں اس کی نظر آنے والی ساخت کے ساتھ اس دور کے واقعات پر بھی گہری نظر ڈالی جائے جو بادی النظر میں الگ تھلگ دکھائی دیں۔
کتاب کا دوسرا مضمون لیفٹیننٹ جنرل اعظم خان سے متعلق ہے۔ جنرل اعظم خان، جنرل ایوب خان کے ساتھ مل کر اسکندر مرزا کی حکومت کا تختہ الٹنے والوں میں شامل تھے مگر ان کی عوام دوستی کا ہمیشہ چرچا رہا، وہ مشرقی پاکستان کے گورنر مقرر ہوئے۔ جنرل اعظم خان کو معروف آرٹسٹ زین العابدین کی تصاویر کی نمائش کے افتتاح کے لیے ڈھاکہ پریس کلب مدعو کیا گیا۔ وہ لکھتے ہیں کہ اس وقت اکثر صحافی اور ایڈیٹر صاحبان فوجی حکومت کے عہدیداروں سے میل جول پسند نہیں کرتے تھے۔ اس موقعے پر کچھ ایڈیٹر صاحبان موجود تھے مگر مجموعی طور پر صحافیوں کو اپنے پیشہ ورانہ تقاضوں کے مطابق فوجی عہدہ داروں سے رابطہ رکھنا ناگزیر ہے، یوں بھی گورنر یا مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر ایڈیٹروں اور صحافیوں کو بلاتے تھے۔ جنرل ایوب خان کی حکومت نے اقتدار میں آتے ہی صحافت پر پابندیاں عائد کی تھیں۔ پروگریسو پیپرز لمیٹڈ کے اخبارات پر قبضہ کر لیا تھا، صحافی پریس کلب میں فوجی افسروں کو خوش آمدید نہیں کہتے تھے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ بدرالدین نے لکھا ہے کہ اس موقعے پر بھی کچھ ایڈیٹر صاحبان موجود نہیں تھے۔ بدرالدین اس تقریب کے میزبان تھے۔ فوجی گورنر کی آمد پر ان پر تنقید ہوئی ہو گی مگر انھوں نے حقیقت کو بیان کر دیا ہے جو ایک جرات مندانہ بات ہے۔ ان پر تنقید بھی ہو سکتی ہے۔
اس کتاب کا اہم ترین مضمون 1970ء کے انتخابات سے پہلے ہے۔ اس مضمون میں جنرل یحییٰ حکومت کے وزیر اطلاعات جنرل شبیر علی خان سے ملاقات کی تفصیلات بیان کی گئی ہیں۔ وہ لکھتے ہیں کہ اس ملاقات میں جنرل صاحب نے مصنف سے 1970ء کے انتخابات کے متوقع نتائج کے بارے میں پوچھا۔ بدرالدین نے اپنے تجزیے میں بتایا کہ عوامی لیگ 60 سے 65 فیصد نشستیں جیت جائے گی، جہاں تک دوسری پارٹیوں کا سوال ہے تو ان میں سے چند کی پسندیدگی مخصوص حلقوں میں ہے، ان پارٹیوں کو انفرادی طور پر اور مجموعی طور پر کتنی حمایت حاصل ہو گی اور کتنی نشستیں ملیں گی، اس بارے میں یقین سے کچھ نہیں کہا جا سکتا۔ جنرل صاحب یہ سن کر چونک گئے۔ انھوں نے کہا ہمیں جو اطلاعات ملتی ہیں وہ قابلِ اعتبار ذرائع سے آتی ہیں، ان کی بناء پر ہم سمجھتے ہیں کہ عوامی لیگ کو اتنی زیادہ نشستیں نہیں ملیں گی۔ انتخابات کے نتائج نے بدرالدین کا تجزیہ صد فی صد درست قرار دیا مگر اس وقت کی فوجی اسٹیبلشمنٹ کی اطلاعات کا معیار ایکسپوز ہوا۔
فوجی اسٹیبلشمنٹ نے ان اطلاعات پر 1970ء کے انتخابات کرائے تھے اور پھر جب نتائج اپنی مرضی کے نہیں آئے تو ان نتائج کو ماننے سے انکار کیا۔ بدرالدین 1970ء کے انتخابات سے قبل مشرقی پاکستان میں آنے والے طوفان اور انتخابات ملتوی کرنے سے متعلق لکھتے ہیں کہ یحییٰ خان کے وزیر مواصلات جی ڈبلیو چوہدری نے ان سے ملاقات میں انتخابات کے التواء سے متعلق پوچھا۔ بدرالدین نے جواب دیا کہ انتخابات کے التواء کا مقصد عوامی لیگ کی مخالف جماعتوں کو انتخابی مہم کے لیے مزید وقت دینا ہے تو میرے خیال میں اس کا حصول دشوار ہے بلکہ التواء کا فائدہ بھی عوامی لیگ ہی کو ہو گا۔ وہ لکھتے ہیں کہ اس دوران جو دوسیاستدان موہن میاں اور غلام اعظم تشریف لائے ان دونوں کا خیال تھا کہ اگر انھیں مزید وقت ملا تو وہ عوامی لیگ کی مہم کا توڑ کر سکیں گے تو چوہدری نے ان سے میرے خیال کا ذکر کیا تو موہن صاحب نے مجھ سے مخاطب ہو کر کہا کہ تمہارے کانوں میں صرف جیئے بنگلہ کی آواز آتی ہے۔ بدرالدین صورتحال کا درست اندازہ لگا رہے تھے۔ چند ماہ بعد بدرالدین کی پیشگوئی حقیقت اختیار کر گئی، یوں ایک صحافی کی سیاسی صورتحال کے پس پردہ حقائق کو پڑھنے اور درست نتائج کی صلاحیت واضح ہوتی ہے۔
بدرالدین نے مارچ 1971ء میں عوامی لیگ کے خلاف فوجی آپریشن کے بعد فوجی حکومت کی سوچ کا بھی خوبصورتی سے تجزیہ کیا ہے۔ بدرالدین اسلام آباد میں جنرل یحییٰ خان حکومت کے ایک اہم ستون جنرل پیرزادہ سے ملاقات کا ذکر کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ جنرل صاحب نے ان سے مشرقی پاکستان کے لیے Option کے بارے میں سوال کیا، بدرالدین نے کہا کہ فوجی حکومت کے پاس ایک آپشن یہ ہے کہ فوجی آپریشن کے ذریعے بغاوت کو کچل دے یا پھر مشرقی پاکستان میں ہار تسلیم کرے اور محاذ آرائی سے دستبردار ہو جائے یا پھر معاملہ سلجھانے کے لیے مسئلے کو سیاسی سیاق و سباق کی روشنی میں حل کرے اور شیخ مجیب الرحمن سے بات چیت کرے۔ وہ لکھتے ہیں کہ میں نے اس ملاقات میں جنرل پیرزادہ کو یہ بتانے کی کوشش کی کہ فوجی حکومت ہی مسئلے کے حل کے لیے مؤثر اقدام کر سکتی ہے۔ یہ حل سیاسی ہی ہو سکتا ہے کیونکہ فوجی آپریشن کوئی حل نہیں ہے۔ جنرل پیرزادہ نے ان کی باتوں کو تفصیل سے سنا اور کہا کہ ملک کی سالمیت برقرار رکھنے کے لیے بغاوت کو دبانے کے لیے اور ہندوستان کے منصوبے کو ناکام بنانے کے لیے حکومت کو اپنی ذمے داری پوری کرنی ہے۔ اس کے ساتھ ہی حکومت کو امید ہے کہ موجودہ صورتحال سے نکلنے کا کوئی طریقہ نکل آئے گا۔
جنرل پیرزادہ کا جواب عسکری مقتدرہ کے مائنڈ سیٹ کی سوچ کی عکاسی کر رہا تھا۔ اس سوچ نے مشرقی پاکستان کو بنگلہ دیش میں تبدیل کر دیا۔ بدرالدین صاحب نے 21 مارچ 1971ء کو شیخ مجیب الرحمن سے پاکستان میں آخری ملاقات کا ذکر تفصیل سے کیا ہے۔ عوامی لیگ کی حامی طلبہ تنظیم کے کارکنوں نے بنگلہ دیش کا پرچم چھاپنے کی فرمائش کی جس پر ایڈیٹروں کا ایک وفد مجیب الرحمن سے ملنے ان کی قیام گاہ پر گیا تو مجیب الرحمن نے کہا کہ پرچم چھاپیے یا نہ چھاپیے یہ آپ کی مرضی، یہ کوئی مسئلہ ہے، ہم دوسرے مسائل میں الجھے ہوئے ہیں۔ ویسے پرچم چھاپ دیے گئے تو لڑکے خوش ہو جائیں گے۔ شیخ صاحب کے مکان سے باہر آئے تو بدرالدین صاحب نے دیکھا کہ وہ پرچم مکان کی پہلی منزل پر لہرا رہا ہے تو جو ہدایت یا مشورہ شیخ مجیب سے نہیں ملا وہ اس مکان پر لگے پرچم سے ملا۔ اس طرح مارننگ نیوز میں بنگلہ دیش کے پرچم کی تصویر شایع ہوئی۔ یہ متحدہ پاکستان میں بدرالدین کی شیخ مجیب الرحمن سے آخری ملاقات تھی۔
بدرالدین نے بنگالی دانش وروںکے چھ نکات کے اعلان کی خبر مارننگ نیوز میں شایع کرنے کے واقعے کا ذکر کرتے ہوئے لکھا ہے کہ انھوں نے اسٹیبلشمنٹ کے دباؤ کے باوجود اس لیے یہ خبر شایع کی کہ یہ خبر کے معروضی اصولوں پر پوری اترتی ہے۔ بدرالدین نے ایوب حکومت کے وزیر صبور خان سے ملاقات کا ذکر کیا ہے۔ صبور خان جنرل ضیاء الحق کے دور میں پاکستان آئے، وہ صدر فضل الٰہی کے دوست تھے اور بدرالدین کے بارے میں معلوم کیا۔ انھیں بتایا گیاکہ بدرالدین جیل میں ہیں تو صبورخان نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بدرالدین کو کسی بنگالی انتظامیہ نے جیل نہیں بھجوایا تھا۔