شام میں جنگ بندی ختم کاربم دھماکاجھڑپیں28 ہلاک

دمشق میں پولیس کی رہائشی عمارت کے قریب کاربم پھٹنے سے 5 افراد ہلاک ہوگئے


AFP October 26, 2012
کاربم دھماکے میں 32 افراد زخمی بھی ہوئے۔ فوٹو: اے ایف پی

شام میں عیدالاضحیٰ پرکی جانے والی جنگ بندی ایک روزبھی قائم نہ رہ سکی،دارالحکومت دمشق سمیت ملک کے کئی شہروں میں نمازعیدکے فوری بعدپرتشدد جھڑپیں شروع ہوگئیں۔

سب سے پہلی جھڑپ وادی الدائف کے فوجی کیمپ میں صبح 10:30 بجے شروع ہوئی اوریہ سلسلہ دیگرشہروں تک پھیلتا گیا۔ لوگوں نے حکومت کے خلاف احتجاجی مظاہرے بھی کیے جن پرسرکاری فوج نے گولیاں چلائیں، پرتشددواقعات میں 10سرکاری فوجیوں، چار باغیوں سمیت 28 افرادہلاک ہوگئے۔ شام کودارالحکومت میں پولیس کی رہائشگاہوں کے قریب ایک طاقتورکاربم دھماکے میں پانچ افرادہلاک32 زخمی ہوگئے۔ دمشق کے نواح میں مارٹرگرنے اورچھپ کرکی گئی فائرنگ میں بھی تین افرادمارے گئے۔ جن مقامات پرجھڑپیں جاری رہیں ان میں دمشق اوراس کے مضافاتی علاقے،حلب،حمص اوروادی الدائف کے فوجی اڈہ شامل ہیں جس کا حکومت مخالفین نے کئی ہفتوں سے محاصرہ کررکھاہے۔حکومت مخالف فری سیریئین آرمی کاکہنا ہے کہ وہ جنگ بندی پرقائم ہیں لیکن مظاہرین پر فائرنگ کرکے سرکاری فوج نے اس کی خلاف ورزی کی ہے تاہم وہ پھربھی تحمل کا مظاہرہ کررہے ہیں۔

سرکاری فوج کا کہناہے کہ وہ بھی جنگ بندی پرقائم ہے لیکن وہ صرف باغیوں کے حملوں کا جواب دے رہی ہے۔ عیدالاضحیٰ پر سرکاری ٹی وی نے صدربشارالاسدکو ایک مسجدمیں نمازعید اداکرتے اورنمازیوں سے عیدملتے دکھایاہے ۔اقوام متحدہ اورعرب لیگ کے ایلچی لخدارابراہیمی چاہتے ہیں کہ عیدکے بعد چارروز تک جنگ بندی قائم رہے ، اس کے بعد اس ملک میں اقوام متحدہ کی امن فوج تعینات کی جائے۔ادھرسعودی عرب نے شام کے جدہ قونصلیٹ میں تعینات تین سفارتکاروں کواپنے منصب کے منافی سرگرمیوں میں ملوث ہونے کے الزام میں ملک سے نکال دیاہے۔روس نے امریکا پرالزام لگایاہے کہ وہ شام میں باغی فوجیوں کوہتھیاروں کی فراہمی میں معاونت کررہاہے۔امریکی محکمہ خارجہ کی ترجمان وکٹوریانولینڈنے ان الزامات کوبے بنیادقراردیکرمستردکردیاہے۔