پیرس کانفرنس سے چار ارب سال تک
ماہرین ارض کے مطابق کرہ ارض کو وجود میں آئے ہوئے چار ارب سال سے زیادہ کا عرصہ ہو رہا ہے
12دسمبر کو فرانس کے دارالحکومت پیرس میں ماحولیات سے متعلق سی او پی (کانفرنس آف پارٹیز) کی اکیسویں کانفرنس منعقد ہوئی جس میں دنیا کے 195 ممالک نے شرکت کی۔ کانفرنس میں ایک معاہدہ ہوا جس کے مطابق 195 ممالک کے نمایندوں نے اس بات پر اتفاق کیا کہ زمین کے درجہ حرارت میں ہونے والے اوسطاً اضافے کو 2 درجے سینٹی گریڈ سے کم رکھنے کی ہر ممکن کوشش کی جائے گی۔ کانفرنس کے بعد 195 ممالک کی طرف سے ایک مشترکہ اعلامیہ جاری ہوا، فرانس کے وزیر خارجہ لورنٹ فیبس نے اس معاہدے کا اعلان کرتے ہوئے اسے تاریخی قرار دیا صنعتی انقلاب کے بعد زمین کے درجہ حرارت میں جو اضافہ ہو رہا ہے اس کی وجہ ایندھن اور صنعتی عمل کے دوران خارج ہونے والی کاربن ڈائی آکسائیڈ اور دیگر گیسیں ہیں۔ کانفرنس میں اب ہوا میں تبدیلی سے زیادہ متاثر ہونے والے ممالک کے لیے 100 ارب ڈالر کی امداد کا اعادہ بھی کیا گیا پہلے اس امداد کو 2020 تک جاری رکھنے کا فیصلہ کیا گیا تھا موجودہ اجلاس میں اس حد کو 2025 تک بڑھانے کا فیصلہ کیا گیا۔ اس معاہدے کا اہم پہلو یہ ہے کہ اس سے متعلق تمام امور کو قانونی تحفظ فراہم کیا گیا ہے۔
صنعتی ترقی کے بعد کرہ ارض کے درجہ حرارت میں جو مسلسل اضافہ ہو رہا ہے اس کے نتیجے میں دوسرے نقصانات کے علاوہ ایک خطرناک نقصان یہ ہو رہا ہے کہ سطح سمندر میں آہستہ آہستہ جو اضافہ ہو رہا ہے اس کے نتیجے میں ماہرین کی رائے کے مطابق اکیسویں صدی کے دوران ہی دنیا کے کئی ساحلی شہر سمندر میں ڈوب جائیں گے، یہ سلسلہ اگر درجہ حرارت کو بڑھنے سے نہ روکا گیا تو دنیا کو ہی لے ڈوبے گا۔ اگر ایسا ہوا تو یہ واقعہ کوئی پہلا واقعہ نہیں ہوگا بلکہ ایسے واقعات پہلے بھی ہوچکے ہیں، ماضی بعید میں دنیا کا سب سے اونچا پہاڑی سلسلہ کوہ ہمالیہ لاکھوں سال تک پانی میں ڈوبا رہا جس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ کرہ ارض پر جانداروں کے وجود کا کیا حشر ہوا ہوگا ۔ موئن جو دڑو، ہڑپا، ایلورا، ایجنٹا سمیت زیر زمین چلی جانے والی کئی بستیوں کی تباہی کی داستانیں معہ ثبوت ہمارے سامنے ہیں۔ صنعتی گیسوں کی وجہ کرہ ارض کی محافظ اوزون کی تہہ میں جو سوراخ پڑ گیا ہے اس کا رقبہ چین کے رقبے سے زیادہ بتایا جاتا ہے اور اس حفاظتی پٹی کو پہنچنے والے نقصان کی وجہ سے درجہ حرارت میں آہستہ آہستہ لیکن مسلسل اضافہ ہو رہا ہے حالیہ اوپی سی اسی نقصان کو روکنے کی کوشش کی ایک کڑی ہے۔
ماہرین ارض کے مطابق کرہ ارض کو وجود میں آئے ہوئے چار ارب سال سے زیادہ کا عرصہ ہو رہا ہے اور اگر کوئی کائناتی حادثہ نہ ہو تو کرہ ارض بھی تین ارب سال تک باقی رہ سکتا ہے اس تناظر میں یہ اندازہ غلط نہیں ہوگا کہ اس ناقابل یقین 4 ارب سالوں کے دوران جانے کتنی بار زمین پر موجود جاندار نیست و نابود ہوئے اور کتنی بار دوبارہ جانداروں کا ظہور ہوا۔ اکیسویں صدی کو تاریخ انسانی کی سب سے زیادہ ترقی یافتہ صدی کہا جاتا ہے لیکن کیا ہم اس امکان کو رد کرسکتے ہیں کہ 4 ارب سالوں کے دوران کرہ ارض پر جانے کتنی ترقی یافتہ تہذیبیں روشناس ہوئیں اور فنا کے گھاٹ اتر گئیں جانے اس دوران کرہ ارض پر موجود انسانوں نے ہماری اکیسویں صدی کی ترقی سے کس قدر زیادہ ترقی کی ہوگی آج ہم چاند پر جانے اور مریخ پر جانے کی تیاری کرنے کو انسان کی ترقی کی معراج کہہ رہے ہیں کیا چار ارب سالوں کے دوران کرہ ارض پر ایسے خلائی ماہرین نہیں ہوسکتے کیا ناسا جیسے ادارے موجود نہیں ہوسکتے جو چاند اور ہمارے نظام شمسی کے دوسرے سیاروں کی یاترا کر چکے ہوں اور زندگی کے دوسرے شعبوں میں آج سے بہت زیادہ ترقی کرچکے ہوں؟
آج کا انسان جانوروں کی کلوننگ کے ساتھ ساتھ انسانوں کی کلوننگ پر قدرت حاصل کرچکا ہے چار ارب سالوں کے طویل سفر کے دوران کلوننگ کے حوالے سے جانے انسان نے کتنی حیرت انگیز ترقی کی ہوگی اگرچہ کہ یہ سب مفروضات ہی ہیں لیکن کرہ ارض کی چند ہزار سال پر مشتمل تاریخ کے دوران اگر انسان چاند کا سفر کرسکتا ہے مریخ کے سفر کی تیاری کرسکتا ہے، ڈی این اے متعارف کراسکتا ہے دل، دماغ، جگر، گردوں کی پیوند کاری کرسکتا ہے تو کیا یہ ممکن نہیں کہ 4 ارب سالوں کے دوران ایسا انسان موجود نہ رہا ہوگا جس کے سامنے ہماری آج کی ترقی پانی بھرتی نظر آتی ہو۔ جو زیر زمین بستیاں دریافت ہوئی ہیں، وہ چند ہزار سال پہلے زمین کے اوپر تھیں لیکن ان زیر زمین بستیوں کو دیکھ کر اس دور کے انسانوں کے سوک سنس کا اندازہ ہوسکتا ہے ان شہروں کی تعمیر میں کس قدر مہارت کا مظاہرہ کیا گیا تھا۔ اس تناظر میں اگر ہم زمین کی چار ارب سالہ تاریخ پر نظر ڈالتے ہیں تو امکانات کا ایک طویل سلسلہ ہمارے سامنے آتا ہے۔
اس حوالے سے انسانی ذہن میں چند سوال ایسے آتے ہیں جن کی معنویت پر غور کرنا غیر ضروری نہیں مثلاً ایک سوال ذہن میں یہ آتا ہے کہ زمین کی چار ارب سال کی طویل ترین تاریخ میں اگر آج کی ترقی سے زیادہ ترقی ہوئی ہوگی تو اس میں تخریب اور تعمیر کے کتنے پہلو رہے ہوں گے کیا ہم یہ فرض نہیں کرسکتے کہ اس طویل ترین زمینی تاریخ میں موجود انسان نے ایٹمی ہتھیار سے زیادہ تباہ کن ہتھیار بنائے ہوں اور ان کے استعمال سے بھی زمین پر موجود جانداروں کا خاتمہ ہوا ہو؟ اور پھر سمندروں سے زندگی کا ازسر نو آغاز ہوا ہو۔ کیا یہ ممکن نہیں کہ اس دوران جو تہذیبیں روشناس ہوئی ہوں ان میں طبقاتی وحشیانہ نظام نہ رہا ہو کرہ ارض پر رہنے والا ہر انسان خوشحال ہو، امیر غریب کی کوئی تقسیم نہ رہی ہو، نظریاتی اور اعتقادی نظام آج جیسے انسانوں میں نفرت پھیلانے والے نہ ہوں، بلکہ انسانوں میں انسانی رشتوں ہی کو سب سے زیادہ اہمیت حاصل ہو، انسان 90/2 میں تقسیم نہ رہا ہو، لاکھوں انسان ہر سال بھوک اور بیماری سے نہ مرتے ہوں، 90 فیصد آبادی دو وقت کی روٹی سے محروم ہو اور دو فیصد کے لیے یہ دنیا جنت نہ بنی رہی ہو۔
بات چلی تھی فرانس کے دارالحکومت پیرس میں ہونے والی ماحولیات سے متعلق اکیسویں کانفرنس کے فیصلوں سے اور پہنچی 4 ارب سال کی تاریخ کے ممکنہ حالات تک۔ آج کا انسان جس نظام زر میں زندہ ہے اس کی سب سے بڑی خصوصیت یہ ہے کہ وہ زندگی کا ہر لمحہ زیادہ سے زیادہ پیسہ کمانے کی دوڑ میں لگا ہوا ہے اور اس دوڑ میں وہ یہ بھول گیا ہے کہ صنعتی ترقی اور زندگی کو زیادہ سے زیادہ آسان اور آرام دہ بنانے کی دھن میں وہ اس قدر آگے بڑھ گیا ہے کہ اس کا مسکن کرہ ارض ہی خطرے میں پڑ گیا ہے اگر درجہ حرارت کو بڑھنے سے نہ روکا گیا تو مستقبل میں ہماری دنیا کو یہ خطرہ لاحق ہوگا کہ وہ موئن جو دڑو، ہڑپا، ایلورا، ایجنٹا جیسی زیر زمین بستیوں کی ایک بڑی تاریخ نہ دہرا دے۔ اگر ایسا ہوا تو کرہ ارض کے انسان سمیت تمام جاندار فنا ہوجائیں گے لیکن کرہ ارض باقی رہے گا اور سمندروں سے دوبارہ پھوٹنے والی زندگی اس قدر اذیت ناک نہ ہو جو آج کے انسان کا مقدر بن گئی ہے۔