ڈرون حملےبرطانوی خفیہ اداروں کاکردارحساس معاملہ ہےبرطانیہ

خفیہ اداروںکے کردارکی وضاحت کے عدالتی حکم سے پاکستان سے تعلقات متاثرہوسکتے ہیں


Online October 27, 2012
اس معاملے پرکسی بھی فیصلے سے قبل امریکا،پاکستان اوربرطانیہ کے تعلقات کواہمیت دیناہوگی فوٹو: فائل

برطانیہ نے کہاہے کہ پاکستان کے قبائلی علاقوں میں امریکی ڈرون حملوں میں برطانوی خفیہ اداروںکے کردارکے بارے میں عدالت میں سماعت ہونے سے تینوںممالک کے درمیان تعلقات مشکلات سے دو چار ہوسکتے ہیں۔

کیونکہ یہ ایک حساس معاملہ ہے۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق برطانوی دفترخارجہ کے ایک وکیل جیمزایادی نے 27 سالہ شہری نورخان کی جانب سے پاکستان میں ڈرون حملے میں برطانوی خفیہ اداروںکے کردارکے بارے میں واضح کرنے کے حوالے سے ہائیکوٹ میں دائرکی گئی ایک اپیل کی سماعت کے دوران اپنے دلائل میں کہاکہ برطانیہ اورامریکاکے درمیان خفیہ معلومات کے تبادلے پرپہلے ہی تعلقات کشیدہ ہیں اوراب اگراس اپیل پرڈرون حملوں سے متعلق وضاحت کی ہدایت کی گئی تواس سے نہ صرف امریکااوربرطانیہ بلکہ پاکستان کے ساتھ بھی تعلقات مشکلات سے دوچارہوسکتے ہیں۔اس معاملے پرکسی بھی قسم کے فیصلے سے قبل تینوں ممالک کے درمیان تعلقات کواہمیت دینا ہوگی۔

مقبول خبریں