ٹارگٹ کلنگ سے نمٹنے کیلئے بھائی چارے کو فروغ دینا ہوگا صدر وزیراعظم

عظیم دن تقاضا کرتاہے کہ ہم ایثار،ہمدردی کواپناشعاربنائیں،ایسامعاشرہ تشکیل دیں جہاں لوگ امن وسکون اور سلامتی سے رہ سکیں


News Agencies October 27, 2012
عیدکی خوشیوں میں ان لوگوں کو بھی شامل کریںجوقدرتی آفات کی وجہ سے بے سروسامانی سے دوچارہیں،عیدالاضحی پرپیغامات. فوٹو فائل

صدرآصف زرداری اوروزیراعظم راجا پرویزاشرف نے عیدالاضحی کے موقع پراپنے الگ الگ پیغامات میں قوم کومبارک باد پیش کرتے ہوئے کہاہے کہ ملک کو درپیش انتہا پسندی، فرقہ واریت اور دہشت گردی جیسے چیلنجزسے نمٹنے کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ ہم اللہ تعالیٰ اوراس کے رسولؐ کی اطاعت کواپنا شعار بنائیں۔

آج وطن عزیزکودہشت گردی، فرقہ پرستی،ٹارگٹ کلنگ اورانتہا پسندی جیسے مسائل کا سامنا ہے ان چیلنجزکا مقابلہ کرنے کے لیے ہمیں جذبہ ایثاراورقربانی،اخوتاور بھائی چارے کے پرچار اور ان اعلیٰ اقدار پرعمل کی ضرورت پہلے سے کہیں زیادہ ہے،عیدالاضحیٰ ہمیں حضرت ابراہیم ؑ کی اس عظیم قربانی کی یاد دلاتی ہے، ہمیںایثار، ہمدردی اور بھائی چارے کی اقدار کو اپنا شعار بناناچاہیے۔

عید الاضحی پر قوم کے نام اپنے پیغام میں صدرآصف علی زرداری نے کہا کہ میں عید کے اس موقع پر اپنے تمام ہم وطنوں کو دلی مبارک باد پیش کرتا ہوں، انھوں نے کہا کہ آج وطن عزیز کو دہشت گردی، فرقہ پرستی،ٹارگٹ کلنگ اور انتہا پسندی جیسے مسائل کا سامنا ہے ان چیلنجز کا مقابلہ کرنے کیلیے ہمیں جذبہ ایثار اور قربانی ' اخوت اور بھائی چارے کے پرچار اور ان اعلیٰ اقدار پر عمل کی ضرورت پہلے سے کہیں زیادہ ہے۔ ہمیں محدود علاقائی اور نسلی ضرورتوں اوربلاوجہ کے تعصبات اور نفرتوں کو خیر باد کہہ کرملک و قوم کی ترقی اورخوشحالی کے لیے کام کرنا چاہیے۔

یہی سیدھی راہ اور وقت کی آواز ہے، صدر نے اپنے پیغام میں کہا کہ اس عید کے موقع پر ہمیں ان لوگوں کی گرانقدر قربانیوں کو بھی یاد رکھنا چاہیے جنھوں نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں اپنے جان و مال کا نذرانہ دیا ہے، آئیے اس موقع پر عہد کریں کہ ہم ان کی قربانیاں رائیگاں نہیں جانے دیں گے۔ اس موقع پر ہمیں ان بہن بھائیوں کو بھی یاد رکھنا ہے اورعید کی خوشیوں میں شامل کرنا ہے جو قدرتی آفات کی وجہ سے بے سروسامانی سے دوچار ہیں۔ وزیراعظم نے اپنے پیغام میں کہاکہ عیدالاضحیٰ کے اس مبارک موقع پر میں تمام اہل وطن ، سمندر پار پاکستانیوں اور مسلمانان عالم کو دلی مبارکباد پیش کرتا ہوںاور ان خوش نصیب بہنواور بھائیوں کو مبارکباد دیتاہوں جنھیں اس سال حج مبارک کی سعادت نصیب ہوئی۔ عید الاضحی ہمیں حضرت ابراہیم ؑ کی اس عظیم قربانی کی یاد دلاتی ہے۔

جس کے ذریعے انھوں نے اطاعت خداوندی کی ایسی لازوال مثال قائم کی جسے مسلمان تاقیامت ایک مقدس سنت کے طورپر ادا کرتے رہیں گے۔عید قربان سنت ابراہیمی ؑ کی تقلید میں اللہ تعالیٰ کے احکام کی بجاآوری اور اس کی کبریائی کے آگے سرتسلیم خم کرنے کا نام ہے۔ اس دن کے منانے کا مقصد اس عہد کا اعادہ کرنا ہے کہ ہم اﷲ تعالیٰ کے احکام کی بجا آوری کو دنیاکی عزیز ترین مال ومتاع پر مقدم رکھیں گے اور اس کی خوشنودی حاصل کرنے کیلیے بڑی سے بڑی قربانی سے بھی دریغ نہیں کریں گے یہ عظیم دن ہم سے تقاضا کرتا ہے کہ ہم ایثار ، ہمدردی اور بھائی چارے کی اقدارکو اپنا شعار بنائیں اور ایک ایسے روادار اور ہم آہنگ معاشرے کی تشکیل کو فروغ دیں۔

جس میں لوگ امن وسکون اور سلامتی سے اپنے فرائض سر انجام دیں ۔ ہمیں اس موقع پر اپنے ارد گرد غریب بیوائوں اور نادار یتیموں کا خاص خیال رکھنا چاہیے اور تمام تنگ دست لوگوں کی خاطر خواہ دلجوئی کرنی چاہیے تاکہ وہ بھی عید کی خوشیوں میں شریک ہوکر اللہ تعالیٰ کے انعامات کا شکر ادا کریں۔انھوں نے کہاکہ وطن عزیز کو درپیش انتہا پسندی، فرقہ واریت اور دہشت گردی جیسے چیلنجز سے نمٹنے کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ ہم اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولؐ کی اطاعت کو کو اپنا شعار بنائیں اور سنت ابراہیمی ؑ کی پیروی کرتے ہوئے آپس میں ہمدردی ، بھائی چارے اور یکجہتی کے جذبات کو فروغ دے کر اپنی تمام توانائیاں وطن عزیز کی ترقی اور خوشحالی کیلیے وقف کریں۔ ا س طرز عمل سے ہم نہ صرف دنیا بلکہ آخرت میں بھی سرخرو ہوں گے اور یہی ہماری زندگی کا مقصد اور نصب العین ہونا چاہیے۔