ترکی مصر کے اتحاد کی بنیاد
دنیا پر پرامن طریقے سے غلبہ حاصل کرنے اور نشاۃ ثانیہ تک پہنچنے کا خیال ہر مذہبی جماعت میں سمایا ہوا ہے۔
مشرق وسطیٰ کے عوام نے تبدیلیوں کا پہلا مرحلہ نامکمل طور پر ہی سہی طے کرلیا، یعنی چند ملکوںسے خاندانی حکمرانیوں کا خاتمہ کردیا۔
مشرق وسطیٰ کے عوام کی یہ جدوجہد دو حوالوں سے اس لیے نامکمل ہے کہ اسے مکمل کیے بغیر آگے بڑھنے کا راستہ نہیں مل سکتا۔ پہلا حوالہ یہ ہے کہ مشرق وسطیٰ میں صرف تیونس، مصر، لیبیا میں خاندانی حکمرانیوں کا خاتمہ ہوا ہے۔ ابھی کئی ملکوں میں خاندانی حکمرانیوں سے بدتر بادشاہی اور شیوخ کا موروثی نظام موجود بھی ہے، مستحکم بھی۔ دوسرا اہم حوالہ یہ ہے کہ جن ملکوں میں خاندانی آمریتوں کا خاتمہ ہوا ہے، وہاں یا تو ابھی تک سیاسی بالادستیوں کی جنگ جاری ہے یا مذہبی جماعتیں برسرِ اقتدار آگئی ہیں۔
یہ دونوں حوالے مشرق وسطیٰ کے عوام کی جدوجہد کو نامکمل ہی نہیں بلکہ خطرناک صورتِ حال کی طرف دھکیل رہی ہیں۔ سب سے پہلے اس بات پر غور کرنے کی ضرورت ہے کہ خاندانی حکمرانیوں سے نجات حاصل کرنے کا مقصد کیا تھا؟
مصر، لیبیا، تیونس ہی میں نہیں بلکہ پاکستان میں بھی خاندانی سیاست خاندانی حکمرانیوں کے خاتمے کی جدوجہد اس لیے کی جارہی ہے کہ خاندانی حکمران دو طرح سے عوامی مسائل کا سبب بن رہے ہیں۔ پہلا سبب یہ سامنے آرہا ہے کہ خاندانی حکمرانوں کو عوام کے مسائل سے فطری طور پر کوئی دلچسپی نہیں ہوتی، ان کی توجہ اور سرگرمیوں کا مرکزی خیال کم سے کم وقت میں زیادہ سے زیادہ دولت حاصل کرنا ہوتا ہے۔ اس کلچر کی وجہ سے عوام بھوک، بیماری، غربت کا شکار اس لیے رہتے ہیں کہ ان کے مسائل کے حل کے لیے جس سرمائے کی ضرورت ہوتی ہے۔ وہ خاندانی حکمرانوں کے بینکوں میں چلا جاتا ہے۔
خاندانی حکمرانوں کا دوسرا بڑا جرم یہ ہوتا ہے کہ انھیں اپنے ملک اور عوام کی ترقی کے لیے جن عناصر کی ضرورت ہوتی ہے، مثلاً جدید علوم، سائنس، ٹیکنالوجی، تحقیق و ایجاد وغیرہ ان امور پر خاندانی حکمران غور تک کرنے کے لیے تیار نہیں ہوتے۔ یہی دو ایسے عوامل یا مقاصد ہیں جو ہر جگہ انقلابوں کا اوّلین مقصد سمجھے جاتے ہیں کیونکہ ان دو مقاصد کے حصول کے بغیر اگر کوئی انقلاب برپا کیا جاتا ہے تو وہ ایک بے مقصد مشق کے علاوہ کچھ نہیں ہوتا۔
مشرق وسطیٰ کے عوام کی بدقسمتی یہ ہے کہ انھوں نے بڑی قربانیوں کے بعد جو کامیابیاں حاصل کی ہیں، انھیں سبوتاژ کرنے کے لیے بعض طاقتیں پوری تیاری کے ساتھ آگے آرہی ہیں۔ اس حوالے سے جو فلسفہ ایجاد کیا گیا ہے وہ ہے دنیا پر غلبہ حاصل کرنا۔ اس احمقانہ فلسفے پر عمل دہشت گردی کے ذریعے کیا جارہا ہے۔ یہ اچھی بات ہے کہ مشرق وسطیٰ میں برسر اقتدار آنے والی نئی اسلامسٹ حکومتیں بھی جن میں مصر سرفہرست ہے۔ دہشت گردی کے سخت خلاف ہے بلکہ اس بلا سے نجات حاصل کرنے کے لیے وہ اسرائیل اور امریکا سے مدد بھی حاصل کررہا ہے۔
دنیا پر پرامن طریقے سے غلبہ حاصل کرنے اور نشاۃ ثانیہ تک پہنچنے کا خیال ہر مذہبی جماعت میں سمایا ہوا ہے۔ یہ کوئی بری بات ہے نہ قابلِ اعتراض کیونکہ دنیا کی ہر قوم کو آگے بڑھنے اور غلبہ حاصل کرنے کا حق ہے، لیکن اصل سوال یہ ہے کہ یہ خواہش کس طرح پوری ہوسکتی ہے؟
اس سوال کے جواب کے لیے دو پہلوئوں سے غور کرنا پڑے گا۔ اوّل یہ کہ اس خواہش کی تکمیل ایک ملک ایک حکومت کی سطح پر ہورہی ہے یا یہ خواہش متحدہ طور پر پوری کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ ہمارے سامنے جو منظرنامہ ہے، اس کے مطالعے سے اندازہ ہوتا ہے کہ مسلم ملکوں کے مسلم دانشور 57 مسلم ملکوں کے اتحاد سے اپنی نشاۃ ثانیہ کی خواہش پوری کرنا چاہتے ہیں۔ ہم نے بامقصد تبدیلیوں اور بامقصد انقلاب کے حوالے سے اس بات کی وضاحت کردی ہے کہ دولت کے چند ہاتھوں میں ارتکاز کو روکے بغیر اور سائنس، ٹیکنالوجی، جدید علوم میں ترقی کے اہداف کے بغیر کوئی تبدیلی، کوئی انقلاب بامعنی، بامقصد ہو ہی نہیں سکتا۔
اس مقصد کے حصول کے لیے اپنی افرادی طاقت اور اپنے وسائل کو ایک مرکز پر لانا ضروری ہے۔ مشکل یہ ہے کہ دنیا کے 57 مسلم ملکوں میں بسنے والے مسلمان ایک قوم ہیں ہی نہیں۔ ہم پہلے پاکستانی ہیں، بنگالی ہیں، عرب ہیں، مصری ہیں، شامی ہیں، ترکی ہیں۔ بعد میں مسلمان۔ اگر ایسا نہ ہوتا تو مشرق وسطیٰ میں عربی اور عجمی کی تقسیم پاکستان، پاکستانی اور بنگالی تقسیم نہ ہوتی۔ اس ناخوش گوار حقیقت کے پیش نظر مسلمانوں کا ایک قوم ہونا ممکن ہی نہیں۔
اس ناگوار حقیقت کے علاوہ ہمارے درمیان ایک اور انتہائی گہری اور خطرناک تقسیم فقہوں کے حوالے سے پائی جاتی ہے۔ اس تقسیم کا اندازہ شیعہ اور سنّی مسالک کے درمیان اختلافات سے کیا جاسکتا ہے جو پاکستان، افغانستان، عراق، ایران، بحرین سمیت کئی مسلم ملکوں پر پھیل گئے ہیں۔ ترکی ایک غیر عرب ملک ہے اور عربوں اور عجمیوں کے درمیان ہمیشہ چپقلش چلتی رہتی ہے۔ ترکی صدیوں تک مسلمانوں کا دارالخلافہ بنارہا۔ پھر مصطفیٰ کمال نے ترکی کو سیکولر ازم کی راہ پر ڈال دیا۔
ترکی میں مذہبی جماعتیں اس دوران اپنے آپ کو مستحکم کرتی رہیں اور آخرکار اقتدار حاصل کرنے میں کامیاب ہوگئیں۔ مشرق وسطیٰ کے انقلابات نے جہاں بہت ساری تبدیلیاں لائیں وہیں مختلف مسلم ملکوں کے تعلقات میں بھی تبدیلیاں لائیں۔ ایک انگریزی اخبار میں شایع ہونے والی ایک تفصیلی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ترکی اور مصر کے حکمران اسلامزم کی بنیاد پر متحد ہونے جارہے ہیں۔ اس حوالے سے بات چیت مکمل ہوگئی ہے، جس کا اعلان آیندہ چند دنوں یا ہفتوں میں ہونے والا ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ترکی کا بنیادی مقصد عرب ملکوں میں اثرورسوخ بڑھانا ہے۔
اس پر کسی کو اعتراض نہیں ہوسکتا۔ ادھر امریکا ایران سے بہت عاجز ہے۔ لگتا ہے کہ اب ترکی اور مصر کو ایک بلاک میں اکٹھا کر کے امریکا ایران کے گرد ایک سیاسی گھیرا تنگ کرنا چاہتا ہے۔ کیا دنیا پر غلبہ حاصل کرنے کے خواہش مند مسلم دانشوروں کی نظر ان سازشوں پر ہے؟ اگر ہے تو پھر وہ ترکی اور مصر کے اتحاد کو کس نظر سے دیکھتے ہیں؟