عراق و شام میں طاقتور اقوام کی دوغلی پالیسی

داعش اپنےزیرکنٹرول علاقوں میں تاریخی آثارکو بھی مٹارہی ہےاورایسےلوگوں کوبھی قتل کیاجارہاہےجوان کےعقیدےکےحامل نہیں ہیں


Editorial December 30, 2015
داعش کے خلاف جہاں کچھ ملک لڑ رہے ہیں وہاں اسے مدد بھی فراہم کی جا رہی ہے۔ فوٹو: اے ایف پی/فائل

میڈیا کی اطلاعات کے مطابق داعش نے عراق میں 837 یرغمالی خواتین کو قتل کر دیا ہے۔ میڈیا میں اس حوالے سے جو تفصیلات آئی ہیں' ان میں بتایا گیا ہے کہ واقعہ عراق کے شہر موصل میں پیش آیا ہے۔

قتل کی گئی خواتین میں معاشرے کی سرکردہ رہنما بھی شامل ہیں جن میں سے بعض نینویٰ بلدیہ کی ارکان اور پارلیمنٹ کی سابق امیدوار بھی ہیں۔ ان کے علاوہ بعض صحافی' خواتین وکلا' لیڈیز بیوٹیشن اور گھریلو ملازمائیں بھی شامل ہیں۔ داعش کے مظالم کی اطلاعات اکثر میڈیا کی زینت بنتی رہتی ہیں۔837 یرغمالی خواتین کے قتل کے حوالے سے اطلاعات اگر حقیقت پر مبنی ہیں تویہ انتہائی سفاک اور ظالمانہ حرکت ہے۔

خواتین اور بچوں پر ظلم و تشدد کی ہر مہذب معاشرہ مذمت کرتا ہے۔داعش اپنے زیر کنٹرول علاقوں میں تاریخی آثار کو بھی مٹا رہی ہے اور ایسے لوگوں کو بھی قتل کیا جا رہاہے جو ان کے عقیدے کے حامل نہیں ہیں۔اسی طرح داعش والے اپنے ان ہم عقیدہ لوگوں کو بھی قتل کر رہے ہیں جو ان کی حکمت عملی یا سیاسی فکر سے متفق نہیں ہیں۔

بہر حال معاملہ پھر وہیں آتا ہے کہ شام و عراق کے حالات خراب کرنے میں جہاں امریکا اور اس کے اتحادیوں کا عمل دخل ہے وہاں مسلم ممالک کے باہمی تضادات بھی ہیں' عراق اور شام کے اندر بھی تضادات اتنے گہرے ہیں کہ انھیں دور کرنا نا ممکن نظر آ رہا ہے۔ داعش کے خلاف بظاہر امریکا اور اس کے اتحاد ممالک برسرپیکار ہیں' ترکی اورسعودی عرب بھی داعش کے خلاف ہیں۔

ترکی داعش کے خلاف لڑنے کا دعویٰ بھی کر رہا ہے۔ ادھر شام کی حکومت' ایران اور روس بھی داعش سے لڑ رہے ہیں لیکن داعش پھر بھی ختم نہیں ہو رہی ہے' داعش والوں نے اپنی ریاست قائم کر رکھی ہے۔ یہ سب کچھ کیا ہے؟ اس کو سمجھنے کے لیے کسی راکٹ سائنس کی ضرورت نہیں ہے بلکہ شام و عراق میں لڑنے والے ممالک کے لیڈر ہی حقائق کو آشکار کر رہے ہیں۔

اصل بات یہ ہے کہ عراق و شام میں طاقتور اقوام اپنی اپنی بالادستی کی جنگ لڑ رہی ہیں' مسلم دنیا بھی اس حوالے سے تقسیم ہے'یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ عراق و شام میں جو کچھ ہو رہا ہے یہ مسلمانوں کے باہمی تضادات کا بھیانک نتیجہ ہے۔غیر مسلم قوتیں اس تضاد سے فائدہ اٹھا رہی ہیں۔یوں دیکھا جائے تو داعش کے خلاف جہاں کچھ ملک لڑ رہے ہیں' وہاں اسے مدد بھی فراہم کی جا رہی ہے' اگر داعش کو مدد نہ ملے تو وہ اپنی ریاست قائم نہیں رکھ سکتی۔

اس دوغلی پالیسی کا خمیازہ عراق و شام کے عوام بھگت رہے ہیں' وہاں ایک دوسرے کا بے رحمی سے قتل عام کیا جا رہا ہے' یہاں ہزاروں انسان مارے جا چکے ہیں جب کہ لاکھوں کی تعداد میں شامی اور عراقی دوسرے ممالک میں مہاجرت کے دکھ اٹھا رہے ہیں۔اس ظلم کو روکنے کے لیے طاقتور اقوام کو اپنی دوغلی پالیسی ختم کرناہو گی۔جب تک یہ پالیسی ختم نہیں ہوتی شام و عراق میں جاری ظلم و ستم کا خاتمہ نہیں ہو سکتا۔