بجلی کے ساتھ توانائی کے دیگر ذرایع بھی سستے ہونے چاہئیں

حکومت زراعت کے شعبے کے لیے بجلی کے رعایتی نرخ کا پہلے ہی اطلاق کرچکی ہے


Editorial December 30, 2015
پاکستان کا کسان غربت کا شکار ہے جب تک کسان اور مزدور خوشحال نہیں ہوتے پاکستان ترقی کی منزل حاصل نہیں کر سکتا۔ فوٹو: فائل

وزیراعظم میاں نوازشریف نے گزشتہ روز کراچی میں ایف پی سی سی آئی کی تقریب سے خطاب کے دوران یکم جنوری2016 ء سے صنعتی صارفین کے لیے بجلی کی قیمت میں3 روپے فی یونٹ کمی کااعلان کیا ہے۔ انھوں نے کہاہے کہ تاجر برآمدات میں اضافے کے لیے محنت کریں، ہم بجلی کے نرخوں میں مزید کمی کرینگے اور 2018 تک ملک سے بجلی کی لوڈشیڈنگ کاخاتمہ کردیا جائے گا۔

وزیراعظم کی طرف سے بجلی کی قیمت میں کمی کے بعد صنعتی شعبہ کے لیے بجلی کی اوسط قیمت تقریبا11 روپے فی یونٹ ہو جائے گی۔ نئے ٹیرف کا اطلاق جنوری2016 میں صرف کی جانے والی بجلی کے بلوں پر ہوگا۔ حکومت زراعت کے شعبے کے لیے بجلی کے رعایتی نرخ کا پہلے ہی اطلاق کرچکی ہے۔نئے ٹیرف کا اطلاق نیپرا کی منظوری کے بعد کیا ہو گا۔صنعتی شعبے اور زراعت کے لیے بجلی کے نرخوں میں مزید کمی ہونی چاہیے۔

اس کے علاوہ توانائی کے دیگر ذرایع مثلاً گیس' کوئلہ 'مٹی کا تیل اور پٹرول بھی سستا ہونا چاہیے۔ بجلی اور توانائی کے دیگر ذرایع جتنے زیادہ سستے اور وافر مقدار میں ہوں گے ملک میں کاروباری سرگرمیاں اتنی ہی زیادہ تیز ہوں گی۔ زرعی شعبے کے لیے زرعی مداخل سستے کرنا بھی انتہائی ضروری ہے۔ پاکستان کا کسان غربت کا شکار ہے جب تک کسان اور مزدور خوشحال نہیں ہوتے پاکستان ترقی کی منزل حاصل نہیں کر سکتا۔