عسکریت پسندوں کیخلاف پروپیگنڈا کیا جا رہا ہےحکیم محسود

واقعات بڑھا چڑھا کر پیش کیے جاتے ہیں،میڈیا طالبان کے موقف کا انتظار کیاکرے،آڈیو پیغام


News Agencies October 30, 2012
واقعات بڑھا چڑھا کر پیش کیے جاتے ہیں،میڈیا طالبان کے موقف کا انتظار کیاکرے،آڈیو پیغام. فوٹو اے ایف پی

طالبان اور میڈیا کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے بعد تحریک طالبان کے سربراہ حکیم اللہ محسود نے برطانوی نشریاتی ادرے کو بھیجے گئے ایک آڈیو پیغام میں کہا ہے چھوٹے سےواقعات کو بڑھا چڑھا کر اسلامی شدت پسندوں کے خلاف زہریلہ پروپیگنڈا کیا جا رہا ہے۔

مسلم دنیا تاریخ کے مشکل ترین دور سے گزر رہی ہے، مغرب کبھی اسلام مخالف کارٹونوں اور کبھی فلموں کی آڑ میں مسلمانوں کو اشتعال دلاتا ہے۔انہوں نے پاکستان کی حکومت سے بے اطمینانی کا اظہار کیا اور اسے سیکولر کہا۔انھوں نے آئی ایس آئی پر الزام لگایا کہ وہ عام شہریوں پر حملے کر کے ان کا الزام طالبان پر لگا دیتے ہیں تاکہ انہیں بدنام کیا جا سکے۔

لہٰذا کوئی رائے قائم کرنے سے پہلے طالبان کے موقف کا انتظار کیا کریں۔سینئر صحافی رحیم اللہ یوسفزئی کاکہنا ہے کہ ملالہ پر ہونیوالے حملے پر ردِ عمل نے طالبان کو پریشان کر دیا ہے،عوامی رائے کی تو شاید طالبان کو ابھی بھی پرواہ نہ ہو لیکن وہ اپنے حامی اسلامی گروہوں کی ناراضی دور کرنا چاہتے ہیں کیونکہ طالبان کیلیے ہمدردی رکھنے والوں نے بھی اس حملے پر تنقید کی ہے۔ ملالہ پر حملے کی ذمے داری چونکہ طالبان قبول کر چکے ہیں اس لیے اس کا الزام وہ کسی کو نہیں دے سکتے۔