بھارتی کابینہ میں ردوبدل 16سال بعد مسلمان وزیر خارجہ مقرر

پاکستان کے ساتھ مل کر مسائل حل کر نا چاہتے ہیں ،دونوں ملکوں کو مل بیٹھناہوگا،سلمان خورشید کی میڈیا سے گفتگو


News Agencies October 30, 2012
22 نئے وزرا کی تقریب حلف برداری نئی دہلی میں راشٹرپتی بھون میں ہوئی، بھارتی صدر پرناب مکھرجی نے حلف لیا

بھارت کے نئے وزیرخارجہ سلمان خورشید نے کہا ہے کہ پاکستان کے ساتھ ملکر مسائل حل کر نا چاہتے ہیں۔

دونوں ملکوں کو ایک دوسرے کے مسائل کوسمجھنے کیلئے مل بیٹھنا ہو گا ،پاکستان کو انتہائی پریشان کن حالات کا سامنا ہے، پڑوسی ملک کی حیثیت سے بھارت کیلئے یہ صورتحال تشویش ناک ہے۔ اپنے عہدے کا حلف اٹھانے کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سلمان خورشید نے کہا کہ وزیر خارجہ کی حیثیت سے پاکستان اور چین ان کی پہلی ترجیح ہوں گے، پاکستان اور چین بھارت کے قریب ترین ہمسائے ہیں اور ان کے ساتھ تعلقات اہمیت رکھتے ہیں۔ انھوں نے کہاکہ پاکستان اور بھارت کو ایک ساتھ بیٹھنا ہوگا تاکہ ایک دوسرے کے مسائل سمجھ سکیں اور مل جل کر ان کا حل نکالیں۔ بھارتی وزیرخارجہ نے پاکستان کے سیاسی حالات پر تشویش ظاہر کی اور کہا کہ بھارت کو جن خطرات کا سامنا تھا اب اسی طرح کے مسائل سے پاکستان نمٹ رہا ہے۔

پاکستان کے سیاسی حالات تشویش کا باعث ہیں۔ایک سوال کے جواب میں سلمان خورشید نے کہا کہ وہ امور خارجہ کے حوالے سے موثر حکمت عملی ترتیب دیں گے۔ قبل ازیں بھارت میں مرکزی حکومت کی کابینہ میں ردوبدل کے بعد 22 نئے وزرا نے حلف اٹھا لیا ہے۔نئی دہلی میں راشٹرپتی بھون میں وزرا کی تقریب حلف برداری ہوئی جس میں 22نئے وزرا سے بھارتی صدر پرناب مکھرجی نے حلف لیا۔ تقریب میں بھارتی وزیر اعظم منموہن سنگھ اور سونیا گاندھی بھی موجود تھیں۔ نئی کابینہ میں سابق وزیر قانون سلمان خورشید نے وزیرخارجہ کی حیثیت سے حلف اٹھایا جو کہ گزشتہ 16 سال بعد پہلے مسلمان وزیر ہیں۔ رحمٰن خان کو اقلیتی امورکا وزیر منتخب کیا گیا، اجے میکن کو ہائوسنگ کی اور پون کمار بنسل کو ریلوے کی وزارت سونپی گئی۔

بھارتی کابینہ میں ردوبدل سے نوجوان سیاست دانوں کو مزید ذمے داریاں سونپی گئی ہیں۔ سلمان خورشید انڈین نیشنل کانگریس سے 2009 کے انتخابات میں لوک سبھا میں منتخب ہوئے۔ وہ کابینہ میں قانون ،انصاف اور اقلیت کے امور کی وزارت سنبھال رہے تھے۔ وزیر اعظم کے ترجمان کے مطابق ان کا عہدہ اب ایشوانی کمار سنبھالیں گے۔ بی بی سی کے مطابق فی الحال کابینہ میں راہول گاندھی کی شمولیت کا امکان نہیں لیکن تبدیلیوں میں ان کی مرضی شامل ہے۔ ششی تھرور کی بھی بطور وزیر واپسی ہوئی ہے۔ انہیں انڈین پریمیئر لیگ میں کوچی ٹیم سے متعلق تنازع کے بعد استعفیٰ دینا پڑا تھا۔ کہا جا رہا ہے کہ حکومت نے بعض کارپوریٹ کمپنیوں کے دباؤ میں بعض اہم تبدیلیاں کی ہیں جس کی کوئی ضرورت نہیں تھی۔