ترکی میں کرد باغیوں کے خلاف کارروائی

ہم سمجھتے ہیں کہ ترک، شامی اور عراقی مہذب لوگ ہیں ایسی صورت میں وہاں کردوں کی یہ حالت قابل فہم نہیں ہے


Editorial January 02, 2016
کم و بیش تمام مسلم ممالک بھی نسل اور زبان اور مسلک کے معاملے میں تعصبات کا شکار ہیں۔یہی وجہ ہے کہ مسلم امہ کبھی متحد نہیں ہو سکی۔ فوٹو : فائل

ترکی نے کہا ہے کہ کرد باغیوں سے کوئی نرمی نہیں برتی جائے گی۔ عالمی میڈیا کی اطلاعات کے مطابق ترکی کی سیکیورٹی فورسز گزرنے والے سال 2015ء میں 3000 سے زیادہ کردوں کو ہلاک کر چکی ہیں جب کہ ترکی کے صدر رجب طیب اردگان نے کہا ہے کہ کرد باغیوں سے کوئی رعایت نہیں کی جائے گی۔

ادھر ایک انگریزی معاصر میں شایع ہونے والی ایک تصویر میں برفباری کے دوران احتجاج کا منظر دکھایا گیا ہے جس میں ایک نوجوان کرد لڑکی ترک سیکیورٹی فورسز کے دو فوجیوں کے درمیان کھڑی ہے۔ یہ بات قابل غور ہے کہ نوجوان کرد لڑکی شدید سرد موسم میں بھی احتجاج کے لیے سڑک پر آئی ہے اور اس نے سیکیورٹی فورسز کی بھی پرواہ نہیں کی۔ یہ منظر دیاربکر شہر کا ہے۔

دیکھنے کی بات یہ ہے کہ کرد بھی مسلمان ہیں اور ترک بھی انھی کے مذہب سے تعلق رکھتے ہیں لیکن کس قدر افسوس کی بات ہے کہ کردوں کو یہاں نسلی تعصب کا نشانہ بنایا جا رہا ہے اور کردوں کی یہ اذیت صرف ترکی تک محدود نہیں بلکہ یہ قوم عراق اور شام میں بھی مظالم اور تعدی کا شکار ہے۔

ہم سمجھتے ہیں کہ ترک'شامی اور عراقی مہذب لوگ ہیں ایسی صورت میں وہاں کردوں کی یہ حالت قابل فہم نہیں ہے۔ یہاں اس بات کا ذکر بھی ضروری ہے کہ کرد وہ قوم ہے جس سپہ سالار صلاح الدین ایوبی نے مغربی فوج کو شکست دی تھی۔ ترک صدر رجب طیب اردگان نے کہا ہے کہ کرد باغی پہاڑوں میں پناہ لے رہے ہیں مگر وہ ترکی کے امن کے لیے خطرہ ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ فوج نے کردوں کی جماعت پی کے کے کے مضبوط گڑھ پر حملہ کر کے باغیوں کو بہت نقصان پہنچایا ہے۔ کردوں کی اس حالت زار کا ان 43 مسلمان ممالک کو نوٹس لینا چاہیے۔

جنہوں نے دہشت گردی کے خلاف مشترکہ محاذ بنایا ہے۔ اگرچہ سرکاری اعداد و شمار میں ہلاک کیے جانے والے باغیوں کی تعداد تین ہزار سے کچھ زائد بتائی گئی ہے تاہم میڈیا کے ذرایع کا کہنا ہے کہ جہاں کردوں کی قتل و غارت جاری ہے وہاں جا کر صحیح تعداد معلوم کرنے کا کوئی ذریعہ نہیں ہے۔اصل مسئلہ وہی ہے کہ عراق' شام اور ترکی میں حکومتوں نے کردوں کو اپنا تسلیم نہیں کیا۔ کردوں کا المیہ یہ ہے کہ وہ تین ملکوں میں تقسیم ہو گئے ہیں حالانکہ تینوں مسلمان ہیں۔

ہونا تو یہ چاہیے کہ ان تینوں مسلم ممالک کو کردوں کے مسئلے کا حل نکالنا چاہیے۔ ادھر عجیب بات یہ ہے کہ کسی مسلمان ملک 'عرب لیگ یا او آئی سی نے بھی کردوں کے بارے میں خیر کے کلمات نہیں کہے۔مسلم ممالک کی توجہ اپنے اپنے مفادات کے حصول پر مرکوز ہے ۔کم و بیش تمام مسلم ممالک بھی نسل اور زبان اور مسلک کے معاملے میں تعصبات کا شکار ہیں۔یہی وجہ ہے کہ مسلم امہ کبھی متحد نہیں ہو سکی۔