منی پاکستان میں ٹارگٹ کلنگ کا ناسور
2008 میں پیپلز پارٹی کے اقتدار میں آنے کے ساتھ ہی کراچی کے اطراف کے علاقوں میں لڑی جانے والی لڑائی شہر میں داخل ہوئی۔
لاہور:
کراچی میں اس سال 1897 قتل ہوئے۔
کہا جاتا ہے کہ قتل ہونے والوں میں 500 کے قریب افراد ٹارگٹ کلنگ کا نشانہ بنے۔ کراچی میں ٹارگٹ کلنگ کی مختلف نوعیت ہیں، شہر میں فرقہ وارانہ، لسانی اور سیاسی بنیادوں پر لوگوں کو قتل کیا جارہا ہے۔ اس سال کراچی کا سابق ضلع وسطی فرقہ وارانہ ٹارگٹ کلنگ کا محور رہا ہے مگر باقی علاقوں میں فرقہ وارانہ بنیادوں پر لوگوں کو قتل کرنے کے ساتھ ساتھ لسانی اور سیاسی بنیادوں پر بھی قتل کیا جارہا ہے۔ تاجروں کا کہنا ہے کہ بھتہ نہ دینے اور اغوا برائے تاوان کے مقدمات میں بھی تاجر اور دکاندار قتل ہورہے ہیں۔ کراچی کی رپورٹنگ کرنے والے بعض صحافی اس خدشے کا اظہار کررہے ہیں کہ بندرگاہ جانے والی قدیم سڑک ایم اے جناح روڈ کے اطراف کی تاریخی مارکیٹوں پر جرائم پیشہ افراد جلد قبضہ کرلیں گے۔ سپریم کورٹ نے تسلیم کیا ہے کہ کراچی میں نوگو ایریاز اب بھی قائم ہیں۔
کیا کراچی میں ریاست کی رٹ قائم ہوسکتی ہے؟ یہ سوال آج زیادہ اہم ہوگیا ہے۔ کراچی کی صورتحال 80ء کی دھائی سے خراب ہونا شروع ہوئی تھی۔ اس زمانے میں سابقہ ضلع وسطی میں فرقہ وارانہ فسادات کو روکنے کے لیے مہینوں کرفیو نافذ رہا۔ پھر 1986 سے شہر میں لسانی فسادات پھوٹ پڑے۔ ان فسادات کی بنا پر پولیس کا نظام شدید متاثر ہوا۔ متحدہ قومی موومنٹ کی پہلے بے نظیر حکومت سے تصادم، پھر نواز شریف کے دور میں کراچی میں فوجی آپریشن، بے نظیر بھٹو اور پھر میاں نواز شریف کے دوسرے دورِ حکومت میں ایم کیو ایم کے خلاف قانون نافذ کرنے والے اداروں کے آپریشن کے بعد شہر میں امن و امان کی صورتحال ابتر ہوگئی تھی۔
نواز شریف کے دوسرے دور میں کراچی الیکٹرک سپلائی کارپوریشن کے ایم ڈی ملک شاہد حامد، پاکستان اسٹیٹ آئل کے سربراہ شوکت مرزا، ممتاز سماجی شخصیت حکیم محمد سعید اور مختلف جماعتوں کے رہنمائوں اور سیکڑوں کارکنوں کے قتل، شہر میں بوری بند لاشیں ملنے، پولیس اور رینجرز کی گاڑیوں پر راکٹ لانچر کے ذریعے حملوں کی بنا پر شہر میں امن و امان کی صورتحال انتہائی خراب ہوگئی تھی جس کے نتیجے میں بہت سے صنعتی ادارے پنجاب منتقل ہوگئے اور سیکڑوں پروفیشنل جان بچانے اور روزگار کی تلاش میں گلف، امریکا اور کینیڈا کو سدھار گئے۔ بے نظیر بھٹو کے دوسرے دور میں وزیر داخلہ میجر جنرل ریٹائرڈ نصیر اﷲ بابر کی زیر نگرانی مشترکہ آپریشن ہوا۔
اگرچہ اس آپریشن کے نتیجے میں کچھ عرصے کے لیے کراچی میں خوفناک نوعیت کا امن تو قائم ہوا مگر ریاستی جبر اور انسانی حقوق کی خلاف ورزی کی سیاہ صورتحال کی بنا پر جنرل بابر کے یہ اقدامات ساحل پر ریت کے گھروندے ثابت ہوئے۔ میاں نواز شریف کے دوسرے دورِ حکومت میں امن و امان کے قیام کے لیے مربوط حکمت عملی نہ ہونے کی بنا پر صورتحال مزید خراب ہوئی۔پرویز مشرف حکومت کے وزیر داخلہ لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ معین حیدر نے کراچی سمیت دوسرے علاقوں کو اسلحہ سے پاک کرنے کا عزم کیا مگر ان کی حکمت عملی اور ایجنسیوں کے لائحہ عمل میں ٹکرائو ہوا۔
انتہاپسند مذہبی تنظیموں کی سرگرمیوں کو روکا نہیں جاسکا اور ایک انتہاپسند کے جنون کا نشانہ لیفٹیننٹ جنرل معین حیدر کے بڑے بھائی بن گئے۔ 2002 کے انتخابات کے بعد سندھ میں علی محمد مہر کی قیادت میں ایک کمزور حکومت قائم ہوئی۔ کچھ عرصے بعد تھرپارکر کے ڈاکٹر ارباب رحیم وزیراعلیٰ بن گئے۔ اس دورِ حکومت میں نیشنل ہائی وے، سپر ہائی وے اور ناردرن بائی پاس کے وسیع و عریض علاقے کی خالی زمینوں پر مافیاز کی لڑائی شروع ہوئی۔ کچھ عرصے بعد تمام سیاسی جماعتوں نے ان لینڈ مافیاز کی ملکیت کو قبول کرلیا۔ سندھ میں ارباب رحیم اور مرکز میں شوکت عزیز کی حکومت نے اسٹیبلشمنٹ کے مخصوص مفادات کے تابع ہو کر کراچی کے اطراف میں لینڈ مافیا کی لڑائی سے آنکھیں پھیر لیں۔ 12 مئی 2007 کو چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی کراچی آمد پر ہونے والے ہولناک تصادم کے بعد کراچی میں لسانی نفرت خلیج گہری ہوگئی۔
50 سے زاید افراد سیاسی جماعتوں کی لڑائی اور وکلا تحریک کی نذر ہوگئے ، قانون کی رٹ خاک چاٹنے لگی۔ 2008 میں پیپلز پارٹی کے اقتدار میں آنے کے ساتھ ہی کراچی کے اطراف کے علاقوں میں لڑی جانے والی لڑائی شہر میں داخل ہوئی۔ گلستانِ جوہر، ابوالحسن اصفہانی روڈ اور دوسرے علاقوں میں متحرک سیاسی جماعتوں کے کارکنوں نے اپنی اپنی کمین گاہیں قائم کیں۔ اگرچہ صدر زرداری نے پیپلز پارٹی کی قیادت میں سندھ میں قائم ہونے والی حکومت میں سندھ اسمبلی میں نمایندگی کرنے والی تمام جماعتوں کو شامل کیا تھا مگر ایم کیو ایم، پیپلز پارٹی اور اے این پی کے درمیان اختلافات شدید ہوگئے، یوں شہر میں ٹارگٹ کلنگ کا سلسلہ شروع ہوا جس کی نوعیت تو تبدیل ہوئی مگر پیپلز پارٹی کی حکومت اقتدار کے پانچ سال پورے ہونے کے باوجود اس پر قابو نہیں پاسکی۔ ڈاکٹر ذوالفقار مرزا نے بحیثیت وزیر داخلہ لیاری امن کمیٹی کو متحرک کرکے جنوبی کراچی کو شہر کے خطرناک حصے میں تبدیل کردیا۔
گزشتہ سال کراچی کے لیے بدترین سال تھا جب شہر کے مختلف علاقوں میں لسانی فسادات، سیاسی اور فرقہ وارانہ ٹارگٹ کلنگ میں مرنے والے افراد کی تعداد چار ہندسوں سے تجاوز کرگئی۔ دنیا کٹی پہاڑی، چیل چوک اور رابعہ سٹی کے ناموں سے روشناس ہوئی، صرف کٹی پہاڑی کے علاقے میں کئی دنوں تک ہونے والے تصادم میں 22 بچے جاں بحق ہوئے اور ہزاروں بچے مہینوں اپنے اسکولوں میں جانے سے محروم ہوگئے۔ یہ وہ وقت تھا جب کراچی میں بسوں میں شناختی کارڈ دیکھ کر بے گناہ افراد کو قتل کیا جاتا تھا۔ کئی مظلوم تو ٹارچر سیلوں میں جاں بحق ہوئے۔ کراچی کے کچھ علاقوں میں اسپتال اور مساجد بھی تقسیم ہوگئیں۔ گزشتہ سال سپریم کورٹ کے کراچی کی صورتحال پر ازخود سماعت کے مقدمے کے فیصلے کے بعد حکومت کے اقدامات کے نتیجے میں صورتحال قدرے بہتر ہوئی مگر لسانی، سیاسی اور فرقہ وارانہ بنیادوں پر ٹارگٹ کلنگ کا سلسلہ آج تک نہ رک سکا۔
اس کے ساتھ ہی تاجروں اور صنعت کاروں سے بھتے وصول کرنے، سڑکوں سے موبائل فون، پرس اور گاڑیاں چھیننے اور اغوا برائے تاوان کی وارداتوں میں بھی اضافہ ہوا۔ گزشتہ دنوں چیف آف آرمی اسٹاف جنرل کیانی نے سائٹ کے علاقے میں صنعت کاروں میں بھتے کے مسئلے کو حل کیا تھا مگر اب یہ مسئلہ پھر پورے شہر میں پھیل گیا ہے۔ہر بھتہ خور کے پیچھے کوئی نہ کوئی سیاسی طاقت موجود ہے۔ کراچی جنوبی میں قائداعظم کے آبائی گھر کے اطراف کی تاریخی مارکیٹوں کے کئی تاجر بھتہ نہ دینے پر قتل کردیے گئے۔
اگرچہ صرافہ بازار اور دوسرے بازاروں کی حفاظت کے لیے پولیس اور رینجرز کی چوکیاں قائم ہیں مگر بھتے وصول کرنے والے دیدہ دلیری سے وارداتیں کرتے ہیں۔ کراچی میں کرائم رپورٹنگ کرنے والے سینئر صحافیوں کا کہنا ہے کہ کراچی کے اس تجارتی مرکز کو بچانے کے لیے ٹھوس اقدامات نہ کیے گئے تو ان مارکیٹوں پر جرائم پیشہ افراد کا قبضہ ہوجائے گا۔ یہی وجہ ہے کہ اس علاقے سے بہت سے دکاندار شہر کے دوسرے علاقوں میں منتقل ہورہے ہیں۔
شہر میں اسلحے کی بھرمار ہے، حکومت نے اسلحے کی فراہمی کو روکنے کے لیے خاطرخواہ اقدامات نہیں کیے۔ پولیس اور انٹیلی جنس نیٹ ورک کتنا کمزور ہے اس کا اندازہ گورنر ہائوس، وزیر اعلیٰ ہائوس، آئی آئی چندریگر روڈ اور اطراف کے علاقوں میں موبائل اور پرس چھیننے کی مسلسل وارداتوں سے ہوتا ہے۔ سپریم کورٹ کے پانچ رکنی بنچ کے سربراہ جسٹس انور ظہیر جمالی نے کراچی میں امن و امان کے مقدمے کی سماعت کے دوران کہا کہ اسلحے کا لائسنس رکھنے والے ہزاروں افراد انتقال کرگئے مگر ان کے لائسنس منسوخ نہیں ہوئے۔
اسی طرح رکن صوبائی اسمبلی کی سفارش پر 200 اور رکن قومی اسمبلی کی سفارش پر 300 لائسنس کا اجرا کرپشن کا دروازہ کھولتا ہے، مگر شاید کراچی میں لائسنس کا اجرا بے معنی ہوگیا ہے، گواہی نہ دینے کی بنا پر 100 سے زائد افراد کے قاتل بھی رہا ہوجاتے ہیں۔ کراچی کو بچانے کے لیے ریاست کی Political Will انتہائی ضروری ہے۔ اس کے علاوہ پولیس کے محکمے کے نظام کو جدید تقاضوں کے مطابق ڈھالنے، گواہوں کے تحفظ کے لیے قانون سازی، عدالتی نظام کو شفاف بنانے، غیر قانونی اسلحہ رکھنے، اس کی خرید و فروخت کو سخت جرم قرار دینے، تمام سیاسی و مذہبی جماعتوں کی قانون کی پاسداری کرنے سے ہی شہر کو بچایا جاسکتا ہے۔