قربانی اور قربانی کی کھالوں پر تحقیق
ہمارے ملک کی ہر صنعت اور کاروبار کے ڈانڈے کہیں نہ کہیں ’’کھال‘‘ سے جڑتے ہیں۔
آپ یقین کریں کہ ہمیں بالکل بھی یقین نہیں ہے لیکن علامہ بریانی عرف برڈفلو کا کہنا ہے کہ یہ روایت ان کو اپنے والد محترم مولانا حلوہ پوری سے ملی ہے۔
جو ان کے خاندان میں سینہ بہ سینہ پانچویں جد امجد ملا زردہ پسند خان نے بچشم خود ایک مستند کتاب میں پڑھی تھی جو بعد میں کچھ کفار قسم کے دیمک کا شکار ہو گئی تھی ۔کتاب کا نام غرائب المسائل تھا اور اسے کسی مولانا عجائب الحق نے تحریر فرمایا تھا، چونکہ ہم علامہ کے باوثوق اجداد کو کچھ زیادہ باوثوق نہیں سمجھتے، اس لیے اس روایت پر یقین کرنے کے لیے کسی اور حوالے کی ضرورت محسوس کر رہے ہیں، اس لیے عوام الناس سے استدعا ہے کہ اگر ان کو اس کتاب غرائب المسائل مولفہ مولانا عجائب الحق کے بارے میں علم ہو تو بتا دیں، کیوں کہ ہم ''قربانی کی کھالوں'' پر ایک تحقیقی کتاب لکھنا چاہتے ہیں بلکہ اگر قربانی کی کھالوں کے ساتھ ہر کھال کے بالوں کی کھال بھی نکالنا پڑے تو ہم کیا کریں گے۔
روایت یہ ہے کہ زمانہ قدیم میںایک بزرگ جانور قربان کر رہے تھے تو وہاں پہلے ہی سے ایک تمبو لگایا ہوا تھا جس پر چاروں طرف کاغذ کے بڑے بڑے پوسٹر لگے ہوئے تھے اور عین سامنے سفید کپڑے پر سرخ روشنائی میں یہ تحریر موجود تھی کہ قربانی کی کھالیں یہاں جمع کر کے ثواب دارین حاصل کریں، وہ بزرگ تو اپنا فرض نبھانے میں مصروف تھے 'اس لیے ٹینٹ پر اور ان تحریروں پر زیادہ توجہ نہیں دے پائے لیکن ساتھ آنے والے کچھ لوگوں نے پتہ کیا تو ٹینٹ لگانے والوں اور قربانی کی کھالوں کے یہ داعی پاکستان سے آئے ہوئے بتائے گئے، دیکھنے والوں نے تو صرف واقعہ بیان کیا ہے وہ یہ ہر گز نہیں جان پائے کہ پاکستان کہاں ہے نہ ہی انھوں نے یہ معلومات حاصل کیں کہ یہ ٹینٹ والے کس ذریعے سے وہاں پہنچے تھے۔
لیکن ہم جب اس زمانے کے علم کے مطابق قیاس لگاتے ہیں تو ایسا لگتا ہے جیسے ان لوگوں نے ضرور کوئی ٹائم مشین قسم کی چیز استعمال کی ہو گی، روایت میں یہ بھی صاف نہیں ہے کہ وہاں صرف ایک ہی ٹینٹ لگا ہوا تھا یا قربانی کی کھالیں انتہائی نیک کاموں کے لیے جمع کرنے والے کچھ اور ٹینٹ بھی تھے، ہمیں اس روایت سے اور تو کوئی لینا دینا نہیں ہے لیکن اس بات کا تجسس ضرور ہے کہ پاکستان سے ٹائم مشین کے ذریعے اس دور میں پہنچنے والے کس دور سے تعلق رکھتے تھے اگر یہ معلوم ہو جائے اور روایت کی تمام ضعیفی نکل جائے تو ہمارے لیے یہ بڑے فخر کا مقام ہے کہ یہ فخر صرف ہم ہی کو حاصل ہے کہ ہم قربانی کی کھالوں کے قدر دان ہیں، ہماری قارئین سے استدعا ہے کہ وہ اپنے گھروں لائبریریوں اور ردی کی دکانوں میں تلاش کریں اور اس کتاب غرائب المسائل مولفہ مولانا عجائب الحق کا کوئی نسخہ ہمیں ضرور پہنچائیں یا ہو سکے تو فوٹو کاپی ہی بھجوا دیں کیوں کہ بڑی اہم ترین بات ہے اور قربانی کی کھالوں پر لکھی جانے والی ہماری کتاب کے لیے بڑی اہمیت رکھتی ہے۔
صرف علامہ بریانی کی روایت پر ہم بھروسہ کر نہیں سکتے جب تک کسی اور جانب سے اس کی تائید نہ ہو جائے یا اس کتاب غرائب المسائل مولفہ عجائب الحق کا کچھ پتہ نہ چل جائے، ہماری یہ تحقیقی کتاب انتہائی اہمیت کی حامل ہے، اس میں ہم قربانی کی کھالوں کی پوری تاریخ کے ساتھ ساتھ یہ بات بھی ریکارڈ پر لانا چاہتے ہیں کہ قربانی محض قربانی نہیں بلکہ ایک بہت بڑا اقتصادی پہلو بھی رکھتی ہے اور یہ بھی واضح ہو جائے گا کہ ہمارے ہاں یہ جو کھال اتارنے اور پھر ان کھالوں سے انتہائی نیک کام کرنے کی روایت کتنی قدیم اور طاقت ور ہے، مسئلہ اگر صرف قربانی یا جانوروں کی کھالوں کا ہوتا تو ہمیں اس پر کتاب لکھنے کا ہر گز خیال نہ آتا لیکن اس قربانی اور اس کی کھالوں سے ہم مسلمانوں میں اور پھر خصوصاً پاکستان میں اس عظیم الشان صنعت کا آغاز ہوتا ہے۔
جسے کھال اتارنے جمع کرنے اور کام میں لانے کی صنعت کہہ سکتے ہیں جو اصل میں تمام صنعتوں کی ''ماں'' یعنی مدر انڈسٹری ہے، آپ اس بات کو ''ایزی'' بالکل نہ لیں کیوں کہ یہ بڑا ہی گہرا معاملہ ہے اگر آپ نے غور کرنے کی زحمت کی اگرچہ عوام ہونے کے ناطے آپ کو اس کی یعنی ''غور کرنے'' کی عادت نہیں ہے اگر یہ عادت آپ میں ہوتی تو آپ کی یہ حالت نہ ہوتی، لیکن پھر بھی تھوڑا سا غور کریں تو معلوم ہو جائے گا کہ ہماری مملکت عزیز کی ہر صنعت و حرفت اور کاروبار کے ڈانڈے ہر جگہ اور ہر مقام پر گھوم گھام کر کہیں نہ کہیں ''کھال'' سے جڑتے ہیں بلکہ یوں کہئے کہ ہم مسجد سے لے کر حجرے تک مدرسے سے لے کر یونی ورسٹی تک اور چھابڑی سے لے کر کارخانے تک جو کچھ بھی کرتے ہیں اس میں کہیں نہ کہیں کھال اتارنے کی کیفیت پائی جاتی ہے۔
مثلاً لیڈر جب تقریر کر رہا ہوتا ہے، جب الیکشن لڑتا ہے، جب اسمبلی میں بولتا ہے، جب فنڈز لے کر تقسیم کرتا ہے تو سب کچھ دراصل ''کھال اتارنے'' ہی کا سلسلہ ہوتا ہے۔ کوئی دکان بناتا ہے، کارخانہ لگاتا ہے، سڑک تعمیر کرتا ہے، اسپتال قائم کرتا ہے مطلب یہ کہ جو کچھ بھی کرتا ہے تو کسی نہ کسی طرح بات کھال اتارنے اور جمع کرنے تک پہنچتی ہے۔ یوں ہم کہہ سکتے ہیں ہر کوئی ہر روز جب گھر سے نکلتا ہے تو اس کے پاس کسی نہ کسی شکل میں کھال اتارنے کے آلات ہوتے ہیں بلکہ آپ سے کیا پردہ ہم تو جس چیز پر بھی نظر ڈالتے ہیں وہ ہمیں ''کھال'' ہی جیسی دکھائی دیتی ہے حتیٰ کہ جب روٹی کھاتے ہیں تو اس میں کھال کا ذائقہ ہوتا ہے۔ کسی بلڈنگ کو دیکھتے ہیں تو لگتا ہے جیسے ''کھالوں'' کی بنی ہوئی ہو سڑک تو صاف طور پر ''کھال'' دکھائی دیتی ہے۔
اب آپ شاید پوچھنے لگیں کہ کیسی کھال کون سی کھال کس کی کھال تو ۔۔۔۔ اس میں پوچھنے اور بتانے کی کیا بات ہے اس ملک میں ایک ہی تو جانور ہے جس کی کھال میں سب کی کھال ہے اور اس جانور کا نام عوام کالانعام ہے، کیا عجیب و غریب بلکہ جادوئی کھال ہے کہ ادھر اتارو تو ادھر سے دوسری کھال چڑھتی ہے ایک قصائی اتار کر جاتا ہے تو دوسرے کے لیے پھر کھال تیار، لیڈروں سے لے کر تاجروں تک، عالموں سے لے کر فاضلوں تک، مدرسوں سے لے کر یونی ورسٹیوں تک اور ڈسپنسریوں سے لے کر اسپتالوں تک لوگ اتارنے اتارتے تھک گئے لیکن اس جانور کی کھال ہے کہ عود کر کے پھر آتی چلی جاتی ہے، قرآن میں خدا نے فرمایا ہے کہ دوزخی لوگوں کی ایک کھال جلے گی تو خدا دوسری کھال چڑھائے گا اس سے کبھی کبھی گمان ہوتا ہے کہ کیا ہم کہیں دوزخ میں تو نہیں ہیں۔
معاملہ تو کچھ ویسا ہی ہے کہ سال کے بارہ مہینے ہماری کھال تراشی یا کھال کھچائی جاری رہتی ہے لیکن پھر بھی ہم کھال کے اندر ہوتے ہیں اور کسی کے لیے بھی کھال کا کال نہیں پڑتا، جہاں تک قربانی کی کھالوں کا تعلق ہے تو وہ بھی صرف عید بقر تک محدود نہیں ہے بلکہ سارا سال قربانیاں بھی چل رہی ہیں اور کھالیں بھی ادھر ادھر ہو رہی ہیں، آپ نے تو لیڈروں کے دہان مبارک اور زبان مبارک سے سنا ہی ہو گا کہ ہم قوم کے لیے ہر وقت قربانی دینے کے لیے تیار ہیں یا ہر طرح کی قربانی دینے کو راضی ہیں یا کسی بھی قربانی سے دریغ نہیں کریں گے اور یہ صرف زبانی کلامی بات نہیں بلکہ واقعی وہ ہر وقت قربانیاں ہی دیتے رہتے ہیں اور قربانی ہمیشہ جانوروں کی دی جاتی ہے، اب اگر لوگ لیڈروں کی قربانی کو کچھ اور سمجھ لیتے ہیں تو یہ ان کی سمجھ کا قصور ہے، وہ تو صاف صاف ''قربانی'' کا لفظ استعمال کرتے ہیں اور ساتھ ہی ''دینے'' کی بات کرتے ہیں، کسی نے کبھی بھی ''قربان ہونے'' کے لیے تیار نہیں کیا ہے اور قربانی دینے والا کبھی خود قربان نہیں ہوتا ہے بلکہ دوسرے کو قربان کرتا ہے اور پھر کھال کھنیچ کر کھالوں کی تجارت کرتا ہے۔