یہ دن ضرور آئے گا

پاکستان میں بھی بے گناہ شہریوں پر اپنی شریعت نافذ کرنے اور ان کی بالادستی تسلیم نہ کرنے والوں کو ذبح کیا جارہا ہے۔


Zahida Hina October 30, 2012
[email protected]

اقتدار کی خاطر شامی حکومت جس طرح اپنے ہی لوگوںکا قتل عام کررہی ہے، اس پر یقین نہیں آتا۔

بستیوں کی بستیاں شامی فوج کی بمباری سے تباہ ہورہی ہیں۔ لکڑی کی چھتوں والے صدیوں پرانے تاریخی 'سوق' (بازار) جل کر راکھ ہورہے ہیں۔ شہریوںکی ہلاکتیں ہزاروں تک جا پہنچی ہیں لیکن حکومت کو اس قتل و غارت گری کی روک تھام سے کوئی دلچسپی نظر نہیں آتی۔

پاکستان کے شمالی علاقوں میں بھی بے گناہ شہریوں پر اپنی شریعت نافذ کرنے اور ان کی بالادستی تسلیم نہ کرنے والوں کو ذبح کیا جارہا ہے، قتل کیا جارہا ہے، بارودی دھماکوں سے اڑایا جارہا ہے، اور دور کیوں جائیے ہمارا کراچی جس طرح لہولہان ہے، روزانہ لاشیں گررہی ہیں، ان کے پیارے ان پر گریہ کررہے ہیں اور حکومت کے لیے ان جانوں کی کوئی اہمیت نہیں۔

2001 کے بعد عالمی سطح پر عراق، افغانستان اور پاکستان میں جس بڑے پیمانے پر لوگ ہلاک کیے گئے۔ اس سے پہلے سرائیوو میں جس نوعیت کی خون آشامی ہم نے دیکھی وہ انسانیت پر سے اعتماد اٹھا دیتی ہے اور یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا دنیا میں قاتلوں کی تعداد تیزی سے بڑھ رہی ہے۔ عراق اور افغانستان کی جنگ کے دوران یہ بات بہت شدت سے ہونے لگی کہ دنیا میں دہشت گردوں اور نہتے شہریوں کے قاتلوں کی اکثریت ہوگئی ہے اور متعدد ملکوں میں زندگی گزارنا اور اپنی اگلی نسلوں کے مستقبل کا تصور کرنا ایک اذیت ناک صورت حال ہے ۔

یہاں سوال یہ اُٹھتا ہے کہ کیا واقعی دنیامیں ہر طرف دہشت گرد اور قاتل گھوم رہے ہیں؟ کیا امن پسند لوگ اور انسانی زندگی کا احترام کرنے والے واقعی اب اقلیت میں ہیں؟ کیا یہ سچ ہے کہ انسانی فطرت میں قتل و غارت شامل ہے؟ کیا ہمیں اس بات پر حیران نہیں ہونا چاہیے کہ لوگ اپنے ہی جیسے لوگوں کو قتل کیوں کررہے ہیں؟ اس مسئلے پر میں بعض حقائق کو جاننے اور سمجھنے کی کوشش کرتی رہی ہوں اور ان حقائق کا بار بار ذکر بھی کرتی رہی ہوں۔

ایک طرف یہ سوالات ہیں، دوسری طرف علم سیاسیات اور فلسفے سے تعلق رکھنے والے بعض ماہرین ہیں جو اس بات سے قطعاً اختلاف کرتے ہیں۔ مختلف اقوام اور تہذیبوں پر تحقیق کرنے والے ماہرین سیاسیات، فلسفی اور تاریخ داں اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ بیشتر انسان قتل نہیں کرتے۔ وہ تمام انسان جواس وقت زندہ ہیں اور ہم سے پہلے گزرنے والے بیشتر انسانوں کی ایک بہت چھوٹی سے اقلیت قاتل رہی ہے۔

ہم کسی سماج میں ہونے والے قتل کے اعداد و شمار پر نظر ڈالیں یا جنگ میں ہونے والی ہلاکتوں پر غور کریں تو اندازہ ہوتا ہے کہ بیشتر انسانوں کو قتل پر آمادہ سمجھنا یا یہ فرض کرلینا کہ سب کے سب جنگ میں ذوق شوق سے شرکت کرنا چاہتے ہیں، ایک غلط مفروضہ ہے ۔ دنیا بھر میں پھیلے ہوئے فوجی عجائب خانوں یا علم البشریات کے کسی بھی میوزیم سے اس بات کاثبوت مشکل سے ملے گا کہ کسی بھی زمانے میں دنیا کی نصف آبادی یعنی عورتیں کبھی بھی لڑاکا یا جنگجو رہی ہیں ۔ یہ بات درست ہے کہ بہت سی عورتوں نے قتل کے ہیں، یہ بھی درست ہے کہ بعض سماج ایسے رہے ہیں جن میں عورتوں حتیٰ کہ بچوں نے بھی شکست خوردہ دشمنوں پر تشدد کیا ہے ۔ عراق میں ابوغریب کے جیل خانے میںایک قیدی کی گردن میں پٹہ ڈال کر اس پر تشدد کرنے والی لڑکی کو بھلا ہم کیسے بھول سکتے ہیں ۔

یہ بھی درست ہے کہ بہت سی جدید فوجوں میں قتل و غارت کے لیے خواتین کی خدمات حاصل کی جارہی ہیں لیکن اس کے ساتھ ہی یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ دنیا میں آج تک خواتین کی غالب اکثریت قاتل یا جنگجو نہیںرہی ہے ۔ اسی طرح ہم جب مردوں کا جائزہ لیتے ہیں تو ان کی بھی ایک نہایت قلیل تعداد جنگ میں حصہ لیتی ہے ۔ جنگ میں حصہ لینے والے ان مردوں میں سے بھی بہت کم ایسے ہوتے ہیں جو براہ راست قتل کرتے ہیں ۔

دو بدو مقابلے میں دشمن کو ہلاک کرنے والے ایسا کرتے ہوئے ہچکچاہٹ میں مبتلا ہوتے ہیں، اور اگر وہ اپنے سامنے آنے والے دشمن کو قتل کردیں تو اس کے بعد ضمیر کی ملامت سہتے ہیں ۔ یہی عالم ان لوگوں کا ہوتا ہے جو بمبار طیارے اُڑاتے ہیں اور ہزارہا فٹ کی بلندی سے شہروں پر بے تحاشا بم برساتے ہیں ۔ ہیروشیما اور ناگاساگی پر ایٹم بم گرانے والے پائلٹوں کی پشیمانی کا احوال آپ کی نظرسے یقینا گزرا ہوگا ۔ میدان جنگ میں دشمنوں کو ہلاک کرنے والوں کے بارے میں جو اعداد و شمار اکٹھا کیے گئے ہیں ان سے یہی بات سامنے آتی ہے کہ زیادہ سے زیادہ دو فی صد فوجی ایسے ہوتے ہیں جو کسی پشیمانی اور ضمیر کی ملامت کے بغیر دوبارہ قتل کا ارتکاب کرسکیں ۔

اس بارے میں ایک فوجی افسر کا کہنا ہے کہ جنگ ایک ایسی صورت حال ہے جو کچھ ہی عرصے میں اُن 98فیصد افراد کو ذہنی طور پر کمزور کر دیتی ہے جنہوں نے جنگ میں شرکت کی ہوتی ہے ۔ ایسے لوگ جو دوران جنگ پاگل ہوئے ان میں سے بیشتر کسی بھی جنگ میں حصہ لینے سے پہلے ہی دماغی خلل ،جارحیت یا دیوانگی میں مبتلا ہوچکے تھے ۔ یہ کہنا کہ انسان فطری اور پیدائشی طور پر قاتل ہوتا ہے ایک قطعاً غلط مفروضہ ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ فوجی تربیت کا بنیادی مقصد ایک عام فرد کے اندر اس گہری مزاحمت اور ناپسندیدگی کو ختم کرنا ہوتا ہے ، جو وہ قتل کے خلاف رکھتا ہے ۔

ہم اس بات کو یوں کہہ سکتے ہیں کہ انسان اگر فطری طور پر قتل کرنے کا رحجان رکھتا اور اگر انسانوں کی صرف نصف آبادی بھی قتل کو ایک پسندید فعل سمجھتی تو دنیا میں انسان کا وجود باقی رہنا ممکن نہ تھا ۔ باپ بیٹوں کا قتل کراتے اور شوہر بیویوں سے چھٹکارا حاصل کرلیتے ، والدین بچوں کو ہلاک کرنے میں کوئی ہچکچاہٹ محسوس نہ کرتے اور بچے ، والدین کے قتل کو بھیانک جرم نہ سمجھتے ۔

اس تمام ہلاکت خیز رویہ کے برعکس دنیا کی آبادی میں سال بہ سال اور صدی بہ صدی اضافہ ہوا ہے اور انسان زندگی کی مسلسل تخلیق اور اس کی پرورش میںمصروف رہا ہے ۔

اس مفروضے کو درست ثابت کرنے کے لیے ماہرین سیاسیات اور تحقیق و جستجو کرنے والوں نے اس بات کا تخمینہ لگانے کی کوشش کی کہ اب تک دنیا میں کتنے انسان پیدا ہوچکے ہیں اور اندازاً ان میں سے کتنے قاتل تھے اور کتنے قاتل نہیں تھے۔ اس تخمینے کے لیے 10لاکھ سال قبل مسیح سے 2000 بعد مسیح تک انسانوں کی آبادی اکیانوے (91)ارب فرض کی گئی۔ اس کے بعد یہ اندازہ لگایا گیا کہ جنگوں،خانہ جنگیوں اور انفرادی طور پر قتل کرنے کے واقعات کو جوڑا جائے اور اسے پچاس کروڑ فرض کرلیاجائے اورپھر دوسرے بہت سے تخمینے لگائے جائیںتو ان سب کو جمع کرنے کے بعد یہ بات سامنے آتی ہے کہ دس لاکھ سال قبل مسیح سے اب تک دنیا میں تین ارب قاتل پیدا ہوئے ہیں۔ ظاہر ہے کہ یہ درست اعداد و شمار نہیں، اس کے باوجود یہی بات سامنے آتی ہے کہ لاکھوں برس کی اس مدت میں کم از کم 95فیصد انسان ایسے تھے جنہوں نے قتل جیسے گھنائونے جرم میں حصہ نہیں لیاتھا۔

امریکا میںقتل کی وارداتوں کا جائزہ لیا گیا تب بھی یہی بات سامنے آئی کہ وہاں ایک لاکھ انسانوں میںسے دس افراد قاتل ہوتے ہیں یعنی آبادی کا اعشاریہ صفر ایک فیصد حصہ قتل کا ارتکاب کرتا ہے ۔ اس نوعیت کی تحقیقات سے یہ بات سامنے آتی ہے کہ تمام انسانوں میںسے بہ مشکل ایک یازیادہ سے زیادہ دو فیصد انسان قتل کاارتکاب کرسکے ہوں گے ۔

کسی نہ کسی شکل میں مذاہب دنیاکے ہر خطے میں موجود رہے ہیں اور ان کا ہمیشہ یہی پیغام رہا ہے کہ انسانی جان ہرچیزسے زیادہ مقدس ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ تمام مذہبی صحیفوں میںبندوں کو یہی پیغام دیا گیا کہ قتل ایک گناہ عظیم ہے اور کسی بھی قیمت پراس کا ارتکاب مت کرو ۔ قدیم ترین مذہبی تعلیمات میں سے ایک یہ ہے کہ جو شخص بھی کسی ایک کی جان بچاتا ہے وہ انسانوںکی ایک بڑی تعداد کی جان کی حفاظت کرتا ہے ۔ جب کہ وہ شخص جو کسی ایک فرد کی جان لے تو یہ ایسا ہی ہے جیسے اس نے پوری دنیا کو تباہ کردیاہو۔

سماجی سائنسدانوں میں ابھی تک اس مفروضے پر بحث جاری ہے کہ انسان کی جبلت میں خون ریزی اور قتل و غارت شامل ہے ۔ بعض ماہرین نفسیات نے اس بارے میں متعدد تجربات کیے ہیںاور ان تجربات سے یہ بات ثابت کی ہے کہ انسان بنیادی طور پرایک امن پسند ذی روح ہے ۔اس نوعیت کے تجربے دل کو تقویت دیتے ہیں۔ یہ امکان پیدا ہوتا ہے کہ آج انسان انسان پر جو ظلم کررہا ہے، ملکوںکو جس سفاکی سے تہس نہس کیا جارہا ہے، شہروں پر بارود برسایاجارہا ہے اور حب وطن اور دہشت گردی کے خلاف جنگ کے نام پر انسانوں کو جس طرح تہ تیغ کیاجارہا ہے ، یہ سب کچھ آخر کار ختم ہونے والا ہے اور انسانی زندگی کا احترام دنیا کی سب سے بڑی حقیقت کے طور پر سامنے آکر رہے گا۔

یہ نہیں کہا جاسکتا کہ یہ دن کب آئے گا لیکن اس کا یقین رکھیے کہ یہ دن ضرور آئے گا۔

مقبول خبریں