کالا دھن سفید کروالو

خبر ہمیں تو بڑی اچھی لگی اگرچہ ’’دھن‘‘ کے معاملات کچھ زیادہ ہماری سمجھ میں نہیں آتے چاہے


Saad Ulllah Jaan Baraq January 07, 2016
[email protected]

KARACHI: خبر ہمیں تو بڑی اچھی لگی اگرچہ ''دھن'' کے معاملات کچھ زیادہ ہماری سمجھ میں نہیں آتے چاہے وہ کالا دھن ہو، سفید دھن ہو یا نیلا پیلا یا چتکبرا ... لیکن پھر بھی ''دھن'' چیز ہی ایسی ہے کہ دیکھ سن کر آدمی ... پھر دیکھئے انداز گل افشانی گفتار ہو جاتا ہے، خبر میں لکھا ہے کہ کالا دھن سفید کرنے کی اسکیم متعارف کرائی جا رہی ہے اور اس نیک کام کے لیے ''بل'' قومی اسمبلی میں پیش کیا گیا ہے۔

قومی اسمبلی کے بارے میں بھی ہم ''چھوٹا منہ بڑی بات'' کا مظاہرہ نہیں کرنا چاہتے کہ وہاں سارے قوم کے منتخب نمایندے ہوتے ہیں جب کہ ہم منتخب تو کیا غیر منتخب بلکہ غیر مستحب نمایندے بھی نہیں ہیں یوں کہئے کہ وہ ''شیر'' جیسی بات ہے، کہتے ہیں گاؤں کے دو شریر اور ہتھ چھٹ بھائیوں نے ایک مسکین میراثی کو آتے دیکھا تو اسکیم بنائی کہ اسے کسی بہانے ''پیٹنا'' ضرور ہے، اسکیم یہ تھی کہ اگر اس نے ایک بھائی کی بات کو غلط کہا وہ اسے پیٹ ڈالے گا اور اگر دوسرے کی تردید کی تو وہ اسے دھنک کر رکھ دے گا۔

میراثی قریب پہنچا تو ایک بولا دیکھو ہم دونوں بھائیوں میں ایک جھگڑا چل رہا ہے میں کہتا ہوں کہ شیر انڈے دیتا ہے جب کہ یہ میرا بھائی کہتا ہے کہ شیر انڈے نہیں بچے دیتا ہے، ذرا تم ہی فیصلہ کرو کہ ہم میں سے کس کی بات صحیح ہے اور کس کی غلط۔ میراثی بھی اچھا خاصا تجربہ کار تھا سمجھ گیا کہ مجھے پیٹنے کے بہانے ہیں، کیوں کہ وہ ایسے تجربات سے گزرتا رہا تھا اس لیے مسکین سی صورت بنا کر بولا ... نائیک جی شیرایک زور آور جانور ہے جب جی چاہتا ہے انڈے دے دیتا ہے اور جب چاہتا ہے بچے دے دیتا ہے، معلوم نہیں کہ اس کے بعد ان بھائیوں نے میراثی کو پیٹا یا نہیں لیکن ضرور پیٹا ہو گا کیونکہ زور آور کو تو پیٹنے سے غرض ہوتا ہے جائز یا ناجائز سے نہیں، ہمارا بھی قومی اسمبلی اور زور آور منتخب نمایندوں کے بارے میں یہی خیال ہے کہ زور آور لوگ ہیں جو چاہیں کر سکتے ہیں۔

اس لیے کالا دھن سفید کرنے کا یہ جو بل ہے اس کے بارے میں کچھ نہ ہی کہیں تو بہتر ہے کہ انکم اور ٹیکس اور دھن کے معاملات ہمارے لیول سے کافی اونچے ہیں لیکن پھر بھی معاملہ چونکہ ''دھن'' کا ہے اور دھن کا نام کسے اچھا نہیں لگتا ہے خاص طور پر ہم جیسے نردھنوں کے لیے تو دھن کا ذکر ایسا ہے جیسے کسی بھوکے کو کھانوں کا ذکر اچھا لگتا ہے، ایک بہت ہی پرانا گانا ہے جو ہمیںاب بھی بہت اچھا لگتا ہے کہ

سونے جیسا روپ ہے تیرا چاندی جیسے بال
تو ہی ایک دھنوان ہے گوری باقی سب کنگال

اور اس میں نہ ہمیں بال اچھے لگتے ہیں نہ روپ اور نہ اور کچھ ... اگر اچھا لگتا ہے تو وہ ''دھنوان'' کا لفظ ہے جو بمقابلہ کنگال اور بھی ذائقے دار ہو جاتا ہے، ظاہر ہے کہ ''کنگال'' والے کیٹیگری میں ہم بھی ہیں اور ہر منفی کا مثبت سے گہرا تعلق ہوتا ہے جیسے کالا اور سفید ... جس کا ذکر ہم اس وقت کر رہے ہیں ویسے یہ بات بھی ہماری سمجھ میں نہیں آتی کہ کالے دھن کو سفید کرنے کی ضرورت کیا آپڑی ہے کیوں کہ کالا ہو یا سفید یا کسی بھی رنگ کا بھی ہو، ہوتا تو دھن ہی ہے، کم از کم ہمارا اپنا خیال تو یہ ہے کہ اگر کالا دھن واقعی کوئی ناپسندیدہ چیز ہے تو ہمیں دیا جائے ہمیں کالا بھی پسند ہے۔

وہ ایک شخص کا قصہ تو آپ نے سنا ہی ہو گا جو شادی کے لیے بہت ہی اتاؤلا تھا لیکن ''نردھن'' ہونے کی وجہ سے کوئی اسے اپنی بیٹی نہیں دے رہا تھا، ایک دن کسی جگہ کسی عورت کی لاش پڑی پائی گئی جسے کسی نے قتل کیا تھا اس ارمان بھرے دل والے نے دیکھا تو بولا ظالمو ایسی ہی فالتو تھی تو مجھے دے دیتے، مارنے کی کیا ضرورت تھی، اور ہمارا بھی یہی عندیہ ہے کہ اگر یہ کالا دھن اتنا ہی فالتو اور ناپسندیدہ ہے تو ہمارے متھے مارا جائے ہماری طرف سے سو بار قبول ہے قبول ہے قبول ہے۔

ایک بات جو خاص طور پر ہمارے ذہن میں آرہی ہے کہ کالا دھن اس ملک میں اتنا بڑھ گیا ہے کہ اس کی گونج قومی اسمبلی تک سنائی دی اور منتخب نمایندے باقی سب کچھ چھوڑ چھاڑ اس انتہائی ضروری اہم اور قوم و ملک کے لیے زندگی اور موت جیسے مسئلے کے درپے ہو گئے۔ اس کا صاف مطلب یہ ہوا کہ ہم جیسے کنگالوں کو پتہ ہی نہیں ہے کہ کالا دھن کتنا زیادہ تکلیف دہ ہو گیا ہے ورنہ کہاں قومی اسمبلی اور کہاں کالا دھن، اور یہ کمال دیکھئے بلکہ منتخب نمایندوں کی فرض شناسی کہ ایک فیصد کمیشن پر پانچ کروڑ تک کا کالا دھن سفید کیا جا سکتا ہے۔

یعنی منتخب نمایندوں نے ''بسولا'' اپنی طرف ہی مارا ہے ورنہ پانچ کروڑ کا کالا دھن کس کے پاس ہو سکتا ہے سوائے ... (فل ان دی بلینک) بسولا اپنی طرف مارنا تو آپ سمجھتے ہیں نا ... بسولا ترکھان کا وہ اوزار ہوتا ہے جس سے لکڑی تراشی جاتی ہے پشتو میں اسے ''ترخزہ'' کہا جاتا ہے اور یہ اس وقت بولا جاتا ہے جب کوئی شخص سارا فائدہ اپنی جھولی میں ڈال رہا ہو کیوں کہ لکڑی تراشتے ہوئے برادہ بسولا مارنے والے ہی کی جھولی میں گرتا ہے، ہاں اگر کوئی انصاف کے ساتھ ففٹی کر رہا ہو تو اسے آرہ چلانا کہتے ہیں کیوں کہ آرے کا برادہ دونوں طرف گرتا ہے۔

آپ چاہیں تو اس اصول پر پارٹیوں کا تجزیہ بھی کر سکتے ہیں کہ آرہ کون ہے اور بسولا کون؟ ہم یہ تو نہیں کہیں گے کہ منتخب نمایندوں نے بسولا مارا ہے کیوں کہ ان میں کوئی پانچ کروڑ والی آسامی بمشکل ہی دستیاب ہو گی، پانچ کروڑ تو آج کل بلدیاتی نمایندوں کے پاس بھی ہوتے ہیں لیکن لوگوں کا کیا ہے لوگ تو بسولا بسولا کہتے رہیں گے، اس معاملے میں جو سب سے بڑا سب سے اہم اور سب سے حیران کن سوال ابھرتا ہے وہ یہ ہے کہ آخر اس انقلابی اقدام کی ضرورت کیوں آن پڑی ... کیا حکومت کے مقرر کردہ احتسابی اور ''امداد'' کرپشن والے ادارے کم پڑ گئے یہ دھونے دھلانے اور کالے کو سفید کرنے کی ذمے داری تو ان کی تھی اور جہاں تک ہمیں معلوم ہے وہ یہ کام نہایت ''حسن و خوبی'' کے سرانجام بھی دے رہے ہیں کیوں کہ ابھی دو تین دن پہلے ہی خبر آئی تھی کہ احتسابی ادارے کے بہت سارے افسران عالی مقام نے بہتی گنگا میں ہاتھ ہی نہیں دھوئے ہیں بلکہ باقاعدہ غوطے بھی لگائے ہیں، لگتا ہے منتخب نمایندے فارسی جانتے ہیں اور انھوں نے حافظ کا یہ شعر سنا ہوا ہے کہ

ز قسمت ازلی چہرہ سیہ بختاں
بہ شست شوئی نہ گردد سپید ایں مثل است

یعنی جن بد بختوں کے چہرے پیدائشی طور پر کالے ہوتے ہیں انھیں کتنا بھی دھویا جائے کبھی سفید نہیں ہوں گے، ہماری پشتو میں اس کار لاحاصل کو ''کوا نہلانا'' کہتے ہیں، کوے کو آپ کسی بھی صابن یا ڈیٹرجنٹ سے نہلائیں اور دھوئیں وہ کوا ہی رہے گا فاختہ کبھی نہیں بن پائے گا۔ یہاں ایک کہانی بھی بری طرح دم ہلا رہی ہے لیکن ہم سنائیں گے نہیں کیوں کہ اس کہانی کا سب کو پتہ ہے صرف یاد دلانا ہی کافی ہے، یہ وہی کنوئیں میں پڑنے والے کتے اور دو سو ڈول پانی نکالنے والی کہانی ہے۔

جس کنوئیں کی تہہ میں کتے کی لاش پڑی سڑ رہی ہو اس سے جتنا بھی پانی نکالاجائے مردار ہی رہے گا، اس سے آگے ہم شاید کچھ کہہ نہیں پائیں گے کیونکہ ہمارے منہ میں بھی پانی بھر آیا ہے اور قلم کی نوک بھی پانی پانی ہونے لگی ہے کہ آخر اس ملک میں کتنا کالا دھن ہے کہ مدتوں سے حکومتیں، ادارے، منتخب نمایندے اور بینک لگے ہوئے ہیں اور ختم ہونے میں نہیں آرہا ہے، یہ ملک ہے یا کوئلے کی کان ... کہ سب کالا ہی کالا ہے، ویسے آپ اس ملک، اس قانون و آئین اور اس نظام کو کیا کہیں گے جہاں حکومت چوروں کو سزا کے بجائے ''رشوت'' دے رہی ہو۔