پٹھان کوٹ پیش منظر و پس منظر
بھارت میں آج کل ایک ایسی حکومت قائم ہے جسے مذہبی انتہا پسندی کا عالمی سرٹیفکیٹ حاصل ہے
بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی ایک طے شدہ اتفاق کے تحت کابل سے دہلی جاتے ہوئے لاہور میں رکتے ہیں اور وزیر اعظم نواز شریف کی رہائش گاہ رائے ونڈ میں ڈیڑھ گھنٹہ قیام کے دوران دونوں وزرائے اعظم اس بات پر اتفاق کرتے ہیں کہ جامع مذاکرات کے ٹوٹے ہوئے سلسلے کو بحال کرنے کے لیے جنوری 2016ء کے دوسرے ہفتے میں خارجہ سیکریٹریوں کی سطح پر ملاقات ہو۔
اس اتفاقی ملاقات کے حوصلہ افزا نتیجے پر دونوں ملکوں کے عوام خوش تھے کہ چلو دونوں ملکوں کے درمیان مذاکرات کا ٹوٹا ہوا سلسلہ دوبارہ جڑ گیا ہے، سو دونوں ملکوں کے عوام پوری توجہ اور دلچسپی سے جنوری کے دوسرے ہفتے کا انتظار کر رہے تھے کہ 2 جنوری کو تاریخی شہر پٹھان کوٹ کے ایئربیس پر دہشت گردوں کا حملہ ہو جاتا ہے اور بھارت کے مذہبی انتہا پسندوں کے ہاتھوں میں پاکستان دشمنی کی ڈگڈگی آ جاتی ہے اور وہ اسے بجانے لگ جاتے ہیں لیکن ہم اسے اتفاق کہیں یا حسن اتفاق کہ اس بار بھارتی حکومت مذہبی انتہا پسندوں کے سُر میں سُر ملاتے ہوئے پاکستان پر پٹھان کوٹ حملے کا الزام لگانے کے بجائے اس عزم کا اظہار کرتی ہے کہ دہشت گردی کا کوئی واقعہ پاک بھارت مذاکرات کی راہ میں حائل نہیں ہو سکتا۔ دونوں ملکوں کی مذاکراتی تاریخ میں یہ ایک نادر اور اچھوتا واقعہ ہے کہ بھارتی سرکار نے دہشت گردی کے اس حادثے کو مذاکرات ملتوی یا ختم کرنے کے لیے استعمال نہیں کیا جو ایک خوش آیند بات ہے۔
اسے بھی ہم اتفاق ہی کہہ سکتے ہیں کہ بھارت میں آج کل ایک ایسی حکومت قائم ہے جسے مذہبی انتہا پسندی کا عالمی سرٹیفکیٹ حاصل ہے اور اس کا شمار ان طاقتوں میں ہوتا ہے جن کا اولین مقصد پاکستان دشمنی ہوتا ہے اور اس کی اتحادی بھی ایسی جماعتیں ہیں جو وقت ضرورت دونوں ملکوں کے تعلقات کی راہ میں بارودی سرنگیں بچھانے کا نیک فرض ادا کرنے کی ماہر ہیں اور آج بھی وہ دبی زبان ہی میں سہی یہ فرض ادا کر رہی ہیں۔
پٹھان کوٹ کو یہ ''اعزاز'' حاصل ہے کہ تقسیم کے بعد جب مجاہدین نے کشمیر پر قبضہ کرنے کے لیے جہاد کا آغاز کیا تو اس جہاد کا مقابلہ کرنے کے لیے ہندوستان کے پاس کشمیر تک پہنچنے کا کوئی زمینی راستہ نہیں تھا۔ اس مشکل کی گھڑی میں پٹھان کوٹ کام آیا اور بھارتی فوجیں اس شہر سے گزر کر کشمیر پہنچیں۔ اس حوالے سے پٹھان کوٹ بھارت کے لیے بڑا مقدس اور تاریخی شہر ہے۔
غالباً دہشت گرد بھی پٹھان کوٹ کی اس حیثیت سے واقف ہیں اسی لیے انھوں نے اس بار اس تاریخی شہر کے ایئربیس کو اپنا نشانہ بنایا۔ دہشت گردوں کا خواہ وہ کوئی بھی ہوں خواہ ان کا تعلق کسی بھی جہادی یا غیر جہادی تنظیم سے ہو مقصد یہی ہو گا کہ جنوری کے دوسرے ہفتے میں ہونے والے ممکنہ مذاکرات میں کھنڈت ڈالی جائے لیکن اس حوالے سے اس بار یہ مخلوق اپنے مقصد میں کامیاب نہیں ہو سکی۔ بھارت کی مودی سرکار لگتا ہے سر سے انتہا پسندی کی پگڑی اتار کر اعتدال پسندی کی ٹوپی پہننے کی کوشش کر رہی ہے جو صرف ہندوستان پاکستان ہی کے لیے نہیں بلکہ اس پورے خطے کے لیے نیک شگون ہے۔
اگر مودی حکومت چونکہ چنانچے کے حصار سے باہر نکل کر طے شدہ پروگرام کے مطابق جنوری کے دوسرے ہفتے ہی میں ''جامع مذاکرات'' کے لیے تیار ہو جاتی ہے تو اس کا اور کوئی فائدہ ہو یا نہ ہو دہشت گردوں کی امیدوں کو نقصان ضرور پہنچے گا، اگر ایسا ہوا تو ہم اسے جامع مذاکرات کی ایک قابل ذکر کامیابی کہہ سکتے ہیں۔
پٹھان کوٹ حملے میں کتنے لوگوں کا جانی نقصان ہوا ان کی درست تعداد کا تو اب تک پتہ نہیں چل سکا لیکن جانی نقصان خواہ وہ چھوٹا ہو یا بڑا ہندوستان کا ہو یا پاکستان کا قابل افسوس ہی نہیں بلکہ قابل مذمت بھی ہے رہی دہشت گردوں کے جانی نقصان کی بات تو اس کا افسوس بے کار ہے۔
مذاکرات اور جامع مذاکرات کی جو مشق 68 سال سے جاری ہے اسے دیکھ کر ہمیں وہ مہربان ماں یاد آتی ہے جو اپنے بھوک سے بے حال بچوں کو تسلی دینے کے لیے ہانڈی میں پانی بھر کر چولہے پر چڑھا دیتی ہے اور چمچہ چلاتے ہوئے بچوں کو بتاتی ہے کہ بیٹا کھانا پک رہا ہے حوصلہ رکھو بس ابھی تمہاری بھوک ختم ہونے والی ہے۔
ان بھوکے بچوں کی ماں کے پاس ہانڈی میں پکانے کے لیے کچھ نہ تھا اور وہ ہانڈی میں پانی اور پتھر ڈال کر انھیں پکا رہی تھی تا کہ بچوں کو جھوٹا دلاسا دے لیکن ہندوستان اور پاکستان کی ماؤں کے پاس اپنے ایک ارب سے زیادہ بھوکے بچوں کو کھلانے کے لیے اناج کے ذخیرے بھرے پڑے ہیں انھیں جامع مذاکرات کو ہانڈی میں پانی اور پتھروں کی طرح پکانے کی کوئی ضرورت نہیں اگر وہ خلوص نیت سے اپنے ایک ارب سے زیادہ بھوکے ننگے بچوں کا پیٹ بھرنا ان کے تن پر کپڑا ڈالنا چاہتے ہیں تو پھر جامع مذاکرات کو غریب ماں کی ہانڈی بنانے کے بجائے آسودہ ماں کی ہانڈی بنانا ہو گا۔
کیونکہ ہانڈی میں پکانے اور ایک ارب بچوں کی بھوک مٹانے کے لیے ان کے پاس اناج کے گودام بھرے ہوئے ہیں صرف ہانڈی کے منہ کو بند رکھنے والے ڈھکن ''کشمیر'' کو ہانڈی کے منہ سے ہٹانے کی ضرورت ہے اور یہ کام محض رسمی جامع مذاکرات سے نہیں ہو سکتا اس کے لیے ہندو مسلمان پاکستانی ہندوستانی کے آسمان سے اتر کر زمین پر آنا ہو گا ۔
پٹھان کوٹ پر حملہ کرنے والوں کا تعلق کسی بھی شیطانی گروہ سے ہو ان کا کوئی مذہب ہوتا ہے نہ ملک۔ یہ فکری اندھے ہوتے ہیں ان کے اندھے پن کا عالم یہ ہوتا ہے کہ وہ ہندو مسلمان کی تمیز بھی کھو دیتے ہیں بس انھیں انسانی خون کی پیاس ہوتی ہے بھارت کے انتہا پسند اندھوں کو بھی یہ احساس ہونا چاہیے کہ ان اندھوں کا شکار پٹھان کوٹ ایئربیس کے چند لوگ ہی نہیں نہ ممبئی حملوں کے چند سو بے گناہ ہیں ان نظریاتی اندھوں نے پاکستان کے 50 ہزار سے زیادہ بے گناہوں کو بھی خاک و خون میں نہلا دیا ہے۔