اقتصادی راہداری کا کوئی منصوبہ رجسٹریشن کیلیے نہیں بھیجا گیا اسٹیٹ بینک

جعلی کرنسی کی روک تھام کے لیے حکمت عملی تیار کرلی،نوٹوں کی تصدیقی مشینیں نصب


Business Reporter January 08, 2016
ریکروٹمنٹ طریقے میں کمزوریوں کے باعث نیشنل بینک بورڈ پربغیراجازت افسران کی ترقی،تقرری وتبادلے پرپابندی لگادی،سینیٹ کی قائمہ کمیٹی خزانہ کوبریفنگ فوٹو: فائل

FAISALABAD: گورنر اسٹیٹ بینک ڈاکٹر اشرف وتھرا نے سینیٹ کی اسٹینڈنگ کمیٹی برائے خزانہ کو آگاہ کیا ہے کہ پاک چائنا اقتصادی راہداری کا کوئی منصوبہ رجسٹریشن کے لیے تاحال مرکزی بینک کے پاس نہیں بھیجا گیا۔

سینیٹ کی قائمہ کمیٹی خزانہ کا اجلاس چیئرمین سینیٹر سلیم مانڈوی والا کی زیرصدارت اسٹیٹ بینک کراچی میں ہوا۔ گورنر اسٹیٹ بینک نے کمیٹی کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ جعلی کرنسی کی روک تھام کے لیے حکمت عملی تیار کی گئی ہے ۔

جس کے تحت پہلے مرحلے میں جنوری 2017 تک 30 بڑے شہروں میں نوٹوں کی تصدیق کی مشینیں نصب کی جائیں گی جبکہ جنوری 2018 کے بعد صرف مشینوںسے جاری ہونے والے نوٹ ہی قابل قبول ہوں گے، جعلی کرنسی کی روک تھام کے لیے تمام اے ٹی ایمز پر بھی جدید لاک اپ سسٹم نصب کیا جائے گا۔

اجلاس میں کمرشل بینکوں کے سربراہان بھی شریک ہوئے جنہوں نے کمیٹی کو بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ جعلی کرنسی کی روک تھام کے لیے مرکزی بینک کی ہدایات کے مطابق نوٹوں کی تصدیق کی مشینیں نصب کی جارہی ہیں جبکہ اے ٹی ایمز پر بھی یہ نظام لگایاجائے گا۔ کمیٹی نے سفارش کی کہ جعلی کرنسی کی آڑ میں عام صارفین کو ہراساں نہ کیا جائے جبکہ قوانین میں بھی ترمیم کی جاسکتی ہے۔

چیئرمین کمیٹی سینیٹر سلیم مانڈوی والا نے اسٹیٹ بینک سے زرمبادلہ کے ذخائر کی صورتحال کے بارے میں سوال کیا جس پر اسٹیٹ بینک کے حکام نے بتایا کہ ملکی زرمبادلہ کے ذخائر 21ارب ڈالر تک پہنچ چکے ہیں، مرکزی بینک کے پاس 16 ارب ڈالر کے زرمبادلہ ذخائر ہیں جن میں سے 8 ارب ڈالر کے واجبات بھی ہیں۔ ڈاکٹر اشرف وتھرا نے کہا کہ پاک چائنا اقتصادری راہداری کا کوئی منصوبہ رجسٹریشن کے لیے تاحال مرکزی بینک کے پاس نہیں بھیجا گیا۔

انہوں نے کہا کہ نیشنل بینک کے ریکروٹمنٹ کے طریقہ کار کے عمل میں کمزوریوں کے باعث سیکشن 41 کا نفاذ کیا گیا ہے جس کے تحت نیشنل بینک کے بورڈ کو کسی بھی افسر کی تعیناتی، ترقی یا تبادلے سے قبل مرکزی بینک سے اجازت لینا ہوگی، اگر نیشنل بینک اس عمل کو بہتر کر لے تو یہ پابندی اٹھا دیں گے۔ کمیٹی کو بتایا گیا کہ نیشنل بینک نے احسان قادر نامی ایک شخص کو ایگزیکٹو وائس صدرٹریننگ کے عہدے پر تعینات کیا ہے جن کا اس شعبے میں کوئی تجربہ نہیں ہے۔

اسٹیٹ بینک کے حکام نے کمیٹی کو کرنسی سواپ ایگریمنٹس پر بھی بریفنگ دی۔ کمیٹی کو بتایا گیا کہ ان معاہدوں کے تحت تمام بینکوں اورتاجروں کو کرنسی سواپ کا آپشن فراہم کردیا گیا ہے، وہ جب چاہیں اس کو استعمال کرسکتے ہیں، آئندہ برسوں میں کرنسی سواپ کی اہمیت میں اضافہ ہوگا خاس طور پر چینی سرمایہ کار پاک چین اقتصادی راہداری کے منصوبوں میں اس سے فائدہ اٹھا سکیں گے۔ اجلاس میں سینیٹر نزہت صادق، سینیٹر فتح محمد حسنی، سینیٹر اسلام الدین شیخ، سینیٹرنسرین جلیل اور سینیٹر محسن لغاری نے شرکت کی۔