بلدیاتی اختیارات کے لیے جدوجہد

ہماری سیاسی اشرافیہ بلدیاتی نظام سے صرف اس لیے ہی خوفزدہ نہیں


Zaheer Akhter Bedari January 09, 2016
[email protected]

KARACHI: متحدہ کے رہنما اورکراچی کے نامزد میئر وسیم اختر نے کہا ہے کہ بلدیاتی اختیارات کے حصول کے لیے ہم دوسری سیاسی جماعتوں سے رابطے کر رہے ہیں تاکہ بلدیاتی اختیارات کے حصول کے لیے اجتماعی کوششیں کی جاسکیں۔

سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ مفاد پرست اور اختیارات کلی کی خواہش مند جماعتیں آئین اور قانون کے احترام کے بجائے اس کی کھلم کھلا خلاف ورزی کیوں کر رہی ہیں؟ دنیا کے کسی جمہوری ملک میں بلدیاتی نظام کا تصور مالی اور انتظامی اختیارات کے بغیر نہیں کیا جاسکتا کیونکہ بلدیاتی نظام میں مالی اور انتظامی اختیارات علاقائی مسائل حل کرنے میں شرط اول کی حیثیت رکھتے ہیں۔

سابق ڈکٹیٹر جنرل (ر) پرویز مشرف نے جو بلدیاتی نظام متعارف کرایا تھا، اس میں بلدیاتی اداروں کو مکمل مالی اور انتظامی اختیارات فراہم کیے گئے تھے یہی وجہ تھی کہ ناظمین پر مشتمل اس نظام کے ذریعے منتخب نمایندوں نے بھرپور طریقے سے نہ صرف علاقائی مسائل حل کرنے میں کامیابی حاصل کی بلکہ شہری علاقوں میں اس تیزی سے ترقیاتی کام کیے کہ شہروں کا حلیہ ہی بدل گیا۔

اس حوالے سے کراچی کی مثال ہمارے سامنے ہے۔کراچی کے میئر مصطفی کمال نے ایسا کمال کر دکھایا کہ وہ نہ صرف ملک کے اندر بلکہ ساری دنیا میں ایک کامیاب ترین میئر کی حیثیت سے مقبول ہوئے۔ اس دور کی بلدیاتی کارکردگی سے ہماری سیاسی اشرافیہ سخت خوفزدہ تھی کیونکہ اس دور کا بلدیاتی نظام کرپشن اور نااہلی کے سمندر میں ایک ایسا جزیرہ بن گیا تھا جہاں سیاست کے مارے ہوئے 20 کروڑ عوام کو یہ موقع مل گیا تھا کہ وہ صوبائی حکومتوں کے رحم و کرم پر رہنے کے بجائے اپنے علاقائی مسائل خود حل کرنے کے قابل بن گئے تھے، ہماری سیاسی اشرافیہ کو ہرگز یہ گوارا نہ تھا کہ کوئی ادارہ اس کے لیے خطرہ بن جائے۔

اسی ذہنیت کی وجہ سے 8-7 سال تک مختلف بہانوں سے بلدیاتی انتخابات میں رکاوٹیں ڈالی جاتی رہیں جب یہ حربہ ناکام ہوا تو اب بلدیاتی نظام کو ناکام بنانے کے لیے اسے اختیارات سے محروم کرنے کا خطرناک کھیل کھیلا جا رہا ہے۔

ہماری سیاسی اشرافیہ بلدیاتی نظام سے صرف اس لیے ہی خوفزدہ نہیں کہ منتخب نمایندے اپنی بہتر کارکردگی سے مقبول عوام ہوکر اس کے لیے خطرہ بن جائیں بلکہ اس کا اصل خوف یہ ہے کہ یہ نظام نچلی سطح سے قیادت ابھارنے کے لیے ایک سیڑھی کا کام انجام دیتا ہے اور ہماری جمہوری اشرافیہ کے ولی عہدی نظام کو ایک ایسا خطرہ لاحق ہوجاتا ہے جسے ابتدا ہی میں نہ روکا گیا تو خاندانی اور موروثی قیادت درہم و برہم ہوکر رہ جاتی ہے، یہی وہ نفسیات ہے جو ہماری سیاست ہماری جمہوریت کو عوامی بننے سے روکتی ہے۔

قومی انتخابات کی طرح بلدیاتی انتخابات میں بھی دھاندلیوں کے الزامات لگتے رہے اور ریاستی مشینری کا بھی استعمال کیا گیا۔ جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ حکمران جماعتیں اپنے اپنے زیر تسلط علاقوں میں کامیاب رہیں لیکن اس نظام کی ایک خوبی یا کمزوری یہ ہے کہ ہماری اشرافیہ اسے ایک ایسا کمتر نظام بھی سمجھتی ہے جس کے نچلی سطح کے انتخابات کو وہ اپنے شایان شان نہیں سمجھتی یہی وجہ ہے کہ اشرافیہ کے شہزادے شہزادیاں کسی کونسلر، کسی یوسی لیول کے انتخابات میں شرکت نہیں کرتیں، البتہ ان کی کوشش ہوتی ہے کہ ٹاؤن اور سٹی کے میئر کی جگہوں پر قبضہ کرلے تاکہ نام اور ناواں کے مواقعے دستیاب ہوں۔

ہماری حکمراں بڑی جماعتوں نے بعض صوبوں میں بہت بڑی کامیابیاں حاصل کی ہیں اور بڑی تعداد میں اپنے کونسلر اور ضلع میئر وغیرہ منتخب کرانے میں کامیاب رہی ہیں اور ان کامیابیوں کے لیے انتخابی مہم پارٹیوں کی زیر سرپرستی چلائی گئی غریب اور نچلے طبقات سے جو لوگ کونسلر اور سٹی میئر منتخب ہونے میں کامیاب ہوئے ہیں انھیں پارٹی ڈسپلن اور اخلاقی حوالوں سے وہی کچھ کرنا پڑے گا جو پارٹی چاہے گی یوں منتخب نمایندوں کے لیے اپنی صلاحیتوں اپنی ایمانداری اور خلوص کا آزادانہ مظاہرہ ممکن نہیں رہتا اورکونسلر اور ضلع میئر وغیرہ اپنے خلوص اپنی صلاحیتوں سے جو کارکردگی دکھائیں گے وہ سب پارٹی کے کھاتے میں چلی جائے گی۔

پاکستان 68 سالوں سے جس سیاسی دلدل میں پھنسا ہوا ہے، اس سے نکلنے کی ہر کوشش کو ہماری سیاسی اشرافیہ ناکام بنا دیتی ہے بلدیاتی نظام ایک ایسا ذریعہ ہے جو نچلی سطح سے غریب عوام کو آگے آنے کے مواقع فراہم کرتا ہے اور اس حقیقت سے سیاسی اشرافیہ پوری طرح واقف ہے اور اس کی پوری پوری کوشش یہی ہے کہ بلدیاتی نظام اس کے ماڈرن ولی عہدی نظام کے لیے خطرہ نہ بن سکے۔ بلدیاتی انتخابات کو 8-7 سال تک روکے رکھنے کے بعد اب اسے بے اختیار بناکر رکھنا اسی سازش کی ایک کڑی ہے۔

بلدیاتی اداروں کی بے اختیاری کسی ایک پارٹی کا مسئلہ نہیں ہے بلکہ یہ ان ساری پارٹیوں کا مسئلہ ہے جو بلدیاتی نظام کی آفادیت کو سمجھتی ہیں اور اسے بااختیار اور مستحکم بنانا چاہتی ہیں۔ اس تناظر میں کراچی کے نامزد میئر وسیم اختر کا یہ بیان کہ وہ بلدیاتی اختیارات کے حصول کے لیے دیگر سیاسی پارٹیوں سے رابطے کر رہے ہیں ایک مثبت اپروچ ہے جس کا سیاسی جماعتوں کو مثبت جواب دینا چاہیے۔

ہم نے بار بار اس حقیقت کی نشان دہی کی ہے کہ قانون ساز اداروں تک پہنچنے یعنی قانون ساز اداروں کے انتخابات میں شرکت سے پہلے یہ شرط لازمی ہونی چاہیے کہ قانون ساز اداروں کے انتخابات میں شرکت سے پہلے امیدوار حضرات بلدیاتی کونسلرز اور ضلع میئر کے انتخابات میں حصہ لیں اور ان انتخابات میں کامیابی کے بعد بلدیاتی اداروں کے ذریعے عوامی خدمات اور سیاسی تجربات سے بہرہ مند ہوں تاکہ جب وہ قانون ساز اداروں مثلاً صوبائی اسمبلیوں قومی اسمبلی اور سینیٹ میں پہنچیں تو انھیں سیاست کا تجربہ اور عوامی خدمات کا اعزاز حاصل رہے۔

مشکل یہ ہے کہ ہمارے اہل علم اہل دانش اور اہل قلم سیاست کی خرابیوں کو تو منظر عام پر لاتے ہیں لیکن ان خرابیوں کوتاہیوں کو دور کرنے کے لیے مثبت اور موثر طریقہ کار کو سامنے لانے سے دانستہ یا نادانستہ گریزاں رہتے ہیں۔ اختیارات کو اپنے یعنی صوبائی حکومت کی تحویل میں رکھنے کی کوشش کا مطلب پاکستان میں سیاسی وڈیرہ شاہی کی گرفت کو مضبوط بنانا ہے جسے ہر قیمت پر ناکام بنانا ضروری ہے۔

مقبول خبریں