دو آزمائشیں سعودی عرب اور امریکا

معلوم نہیں یہ کس مکتب کی کرامت تھی کہ میں ثابت قدم رہا اور ِان ان دیکھے خطروں سے بچا رہا۔


Abdul Qadir Hassan October 31, 2012
[email protected]

ISLAMABAD: میں ان دنوں بیک وقت تین ملکوں میں مقیم ہوں۔

ایک پاکستان دوسرے سعودی عرب اور تیسرے امریکا۔ پاکستان میں تو خود مقیم ہوں ہی سعودی عرب میں میرا بیٹا ہے جو عمرے کے لیے گیا تھا لیکن وہاں جا کر حج کرنے لگا۔ وہ لاہور سے ڈینگی بخار کی جاں توڑ بیماری سے صحت یاب ہوا لیکن اس بیماری نے اس نوجوان کو ہلا کر رکھ دیا ہڈیوں تک میں تکان گویا جم گئی بظاہر وہ بھلا چنگا دکھائی دیتا تھا لیکن ذرا سی جسمانی مشقت بھی اس سے برداشت نہیں ہوتی تھی۔ معلوم ہوا کہ ڈینگی بخار کا وائرس انسانی جسم میں پھیل جاتا ہے اور اسے ادھ موا کر دیتا ہے اس سے مکمل صحت یابی کے لیے کوئی چھ ماہ کا عرصہ درکار ہے۔

وہ بھی احتیاط کے ساتھ اور آرام کے ساتھ۔ مناسب غذا اور کسی حد تک ادویات بھی ضروری ہوتی ہیں لیکن اس نوجوان نے حج بیت اللہ کے شوق میں اپنی پروا نہ کی جب کہ میں نے اپنے حج کے تجربے کے مطابق اسے بتایا کہ حج ایک بہت بڑی جسمانی مشقت کا نام ہے مجھے تو ضعیف العمر پاکستانیوں پر حیرت ہوتی ہے جو بڑھاپے میں حج کر گزرتے ہیں۔ یہ سب غالباً کسی روحانی مدد کے ذریعے ممکن ہوتا ہے۔ بہر کیف اطہر حسن نے حج تو کر لیا ہے لیکن وہ ابھی تک حج کے جسمانی اثرات کو دور کرنے کے لیے سعودی عرب میں اپنے ادارے پی آئی اے کے ساتھیوں کے ہمراہ آرام کر رہا ہے یا شاید مجھے بتائے بغیر کسی ڈیوٹی پر ہے۔ میں اس کے ڈینگی بخار اور پھر حج کی جسمانی مشقت سے گھبرایا ہوا تھا لیکن معلوم ہوا کہ وہ ان رکاوٹوں کو ذہنی طور پر عبور کر گیا تھا۔ اللہ تبارک تعالیٰ نے اس فرض کی ادائیگی میں اس کی مدد کی اور وہ اب الحاج ہے لیکن دوسری بار اب مجھے یہ معلوم نہیں کہ ڈبل حاجی کو بھی صرف الحاج ہی کہتے ہیں یا کچھ اور بھی بہر کیف اللہ کا فضل ہوا اور وہ دو بار حج کر گیا۔

اب میرے ساتھ امریکا چلیے۔ ہوا یوں کہ میرے سب سے پیارے نواسے نے جب لاہور کے ایچی سن کالج سے تکمیل کر لی تو سوال پیدا ہوا کہ اسے اب کہاں بھیجا جائے۔ وہ باپ کی طرح ڈاکٹر بننا چاہتا تھا اور کراچی میں ڈاکٹری کی تعلیم کا اچھا انتظام تھا لیکن کراچی شہر کا انتظام بہت برا تھا وہاں کسی بچے کو قیام کے لیے اکیلے بھیجنا عقلمندی نہیں تھی۔ اس لیے جب طے ہوا کہ اسے بیرون ملک میں بھیجنا ہے تو پھر امریکا ہی بھجوا دیں۔ امریکا میں داخلے کے لیے اس بچے انس حمید نے امریکا کی یونیورسٹیاں چھان ماریں۔ انٹرنیٹ زندہ باد، مکمل تفصیلات اس نے گھر والوں کے سامنے رکھ دیں اور ان کی جیب کی طرف دیکھ کر بیٹھ گیا۔ اب اہل خانہ کی باری تھی بہر کیف قدرت نے اسباب فراہم کر دیے اور وہ ایک پرانے تعلیمی ادارے میں داخل ہو گیا اور پڑھائی شروع کر دی۔ اس ادارے میں مخلوط تعلیم تھی جس سے ہم سب پاکستانی گھبرا گئے لیکن اس نے ماں سے کہا کہ آپ لوگ فکر نہ کریں۔

یہ خوبصورت پاکستانی لڑکا بہر حال اس ماحول میں گھل مل گیا اور نئے ماحول میں اس نے اپنے آپ کو آراستہ کر لیا۔ یہاں تک تو سب ٹھیک تھا لیکن پھر امریکا میں وہ طوفان آ گیا کہ جس نے امریکیوں کو سچ مچ ڈرا دیا۔ معلوم ہوا کہ ایسا طوفان تو کبھی آیا ہی نہیں۔ طوفان آتے رہے لیکن اس قدر طاقت ور طوفان کبھی نہیں آیا۔ امریکا کی عمارتیں پھٹ گئیں اور کئی گھر ملیامیٹ ہو گئے۔ اس طوفان کی تباہی امریکی میڈیا اتنی نہیں دکھاتا تھا جتنی پاکستانی میڈیا اور اس نے سچ مچ ڈرا دیا۔ دن اور رات ایک ہو گئے، نہ رات کو چین نہ دن کو لیکن اس کا کالج نیو یارک کی بلند ترین پہاڑیوں پر تھا اور یہ بتا دیا تھا کہ یہ علاقہ محفوظ ہے بلکہ لوگوں سے کہا گیا کہ وہ نارتھ کی طرف جا سکیں تو چلے جائیں۔

طوفان کی آمد کے وقت انسں اپنے پاکستانی دوستوں کے ساتھ تھا، ایک پاکستانی خاندان جو اس کے باپ کا دوست تھا ان لوگوں نے اسے فوراً کالج پہنچا دیا اور فکر یہ پیدا ہو گئی کہ اس کے مہربان میزبانوں کا کیا حال ہے۔ بہر کیف قیامت کے یہ دن رات گزر ہی گئے زندگیاں بچ گئیں۔ دنیا کی فکر نہیں انس نے کمال حوصلے کے ساتھ ان قطعاً غیر متوقع حالات کا مقابلہ کیا اور کامیاب رہا۔ مسلمانوں کے اندر ایک ایسی قوت بھی ہوتی ہے جو ان کو ہر مشکل میں سہارا دیتی ہے۔ اس قوت نے اس لڑکے کو بھی حوصلہ دیا جب کہ وہ ابھی ایک ماہ سے بھی کم وقت میں امریکا میں قیام کے بعد اس طوفان بلا سے دو چار ہو گیا۔ اب وہ دسمبر کی چھٹیوں میں پاکستان آئے گا تو امریکا کی تاریخ کے اس سب سے بڑے تباہ کن طوفان کا حال بتائے گا اور اپنا بھی کہ اس نے اجنبی دیس میں حالات کا کس طرح مقابلہ کیا۔

میں اللہ تبارک تعالیٰ کا شکر گزار ہوں کہ اس نے مجھے کسی جان لیوا آزمائش سے بچا لیا۔ ورنہ میں اب ایسی بڑی آزمائشوں کے قابل نہیں رہا جس میں آپ کی اولاد خطرے میں ہو۔ اللہ فضل فرمائے اور آزمائشوں سے محفوظ رکھے۔ اب کسی خطرے کی گنجائش نہیں ہے۔ معلوم نہیں یہ کس مکتب کی کرامت تھی کہ میں ثابت قدم رہا اور ِان ان دیکھے خطروں سے بچا رہا۔

مقبول خبریں