راہداری منصوبے پر اختلافات دور کیے جائیں

چینی حکومت کو بھی بخوبی ادراک ہے کہ پاکستان میں بہت سے اہم قومی منصوبے سیاستدانوں کے اختلافات کی بھینٹ چڑھ جاتے ہیں


Editorial January 11, 2016
پاک چین اقتصادی راہداری منصوبہ اپنی اہمیت کے لحاظ سے ایک بہت بڑا تجارتی منصوبہ ہے جس سے نہ صرف پورا ملک بلکہ ہمسایہ ممالک بھی استفادہ کریں گے۔ فوٹو: پی آئی ڈی

ABBOTABAD: پاکستان میں چینی سفارتخانے کے ترجمان نے ایک بیان میں پاکستان کی سیاسی جماعتوں پر زور دیا ہے کہ وہ اپنے اختلافات کو احسن طریقے سے حل کر کے پاک چین اقتصادی راہداری کے لیے موافق فضا قائم کریں' یہ منصوبہ پورے پاکستان کے لیے ہے اور اس کے فوائد اور ثمرات سے ساری پاکستانی قوم مستفید ہوگی۔

ترجمان نے کہا کہ چین کو یہ بھی امید ہے پاکستان میں تمام متعلقہ پارٹیاں اقتصادی راہداری پر اپنے روابط مضبوط کریں گی تا کہ اس اہم منصوبے کے لیے موافق حالات پیدا کیے جا سکیں، اس منصوبے پر پاکستان اور چین میں اتفاق رائے پایا گیا اور دونوں ممالک کے عوام سے بھرپور پذیرائی ملی، یہ منصوبہ پاکستان کو ایک اکائی کے طور پر دیکھ کر بنایا گیا اور یہ تمام پاکستانی عوام کے لیے فوائد لے کر آئے گا، اقتصادی راہداری سے متعلقہ منصوبوں پر تعمیراتی کام آگے بڑھانے کے لیے پاکستان کے ساتھ کام کرنے کے لیے تیار ہیں، اس منصوبے سے دونوں ممالک کے عوام کو بھرپور فائدہ ہو گا۔

گزشتہ چند روز سے اقتصادی راہداری منصوبے پر بعض سیاستدانوں بالخصوص خیبرپختونخوا حکومت کی جانب سے تحفظات کے اظہار کے بعد یہ خدشات جنم لینے لگے ہیں کہ کہیں یہ منصوبہ سیاست کی نذر نہ ہو جائے شاید یہی وجہ ہے کہ چین نے بھی ان ہی خدشات کو محسوس کرتے ہوئے اپنی تشویش کا اظہار کیا ہے اور پاکستانی سیاسی جماعتوں پر زور دیا ہے کہ وہ منصوبے کے لیے موافق فضا قائم کریں اور اپنے اختلافات کو احسن طریقے سے حل کرنے کی کوشش کریں۔ اس منصوبے پر چین بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کر رہا ہے اور وہ کبھی نہیں یہ چاہے گا کہ اس منصوبے کی راہ میں کوئی رکاوٹ پیدا ہو یا سیاسی جماعتیں کسی اختلاف کی بنا پر اسے سبوتاژ کرنے کی کوشش کریں۔

چینی حکومت کو بھی بخوبی ادراک ہے کہ پاکستان میں بہت سے اہم قومی منصوبے سیاستدانوں کے اختلافات کی بھینٹ چڑھ جاتے ہیں جیسا کہ کالا باغ ڈیم وفاقی حکومت کی تمام تر کوششوں کے باوجود سیاستدانوں کے شدید اعتراضات کے باعث شروع نہیں کیا جا سکا جب کہ اس کی فزیبلٹی رپورٹ تیار ہو چکی جس پر خطیر سرمایہ صرف ہو چکا ہے۔ گزشتہ دنوں پاک چین اقتصادی راہداری منصوبے پر اختلافات ختم کرنے کے لیے گورنر ہاؤس پشاور میں وفاقی اور خیبرپختونخوا حکومت کے درمیان مذاکرات ہوئے مگر یہ نتیجہ خیز ثابت نہ ہو سکے جس میں وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا پرویز خٹک نے وفاقی حکومت کی وضاحت کو غیر تسلی بخش قرار دیتے ہوئے اس کا موقف تسلیم کرنے سے انکار کر دیا جس کے بعد گورنر خیبر پی کے نے راہداری منصوبے پر صوبے کے تحفظات دور کرنے کے لیے ایک کمیٹی قائم کر دی جس میں وفاق اور صوبے کے نمائندے شامل ہیں۔

اب جب راہداری منصوبے پر اختلافات کی خبروں کا چین نے بھی نوٹس لے لیا ہے تو وفاقی حکومت پر یہ بھاری ذمے داری آن پڑی ہے کہ وہ اس منصوبے کے بارے میں پیدا ہونے والی ہر رکاوٹ کو دور کرنے کی کوشش کرے اور کوئی ایسا اقدام نہ کیا جائے جس سے اس کی راہ میں مسائل پیدا ہوں۔ اگرچہ اس امر میں کوئی شبہ نہیں کہ وفاقی حکومت خیبرپختونخوا حکومت کے تحفظات دور کرنے کی ہر ممکن کوشش کر رہی ہے مگر وہ کسی طور بھی مطمئن نہیں ہو رہی اور اس کا مطالبہ ہے کہ مغربی روٹ پر سب سے پہلے کام شروع کیا جائے اور مشرقی روٹ پر جو منصوبے شروع کیے جائیں گے وہ مغربی روٹ پر بھی تعمیر کیے جائیں۔ وفاقی حکومت اس سلسلے میں خیبرپختونخوا حکومت کو یقین دلا چکی ہے کہ مغربی روٹ پر کام سب سے پہلے مکمل ہو گا مگر معاملات ابھی تک کسی نتیجے پر نہیں پہنچ رہے جو تشویشناک امر ہے۔

راہداری منصوبے کا اعلان ہونے کے بعد جب خیبرپختونخوا حکومت اور وہاں کی مختلف سیاسی جماعتوں کی جانب سے تحفظات کا اظہار سامنے آیا تو وفاقی حکومت نے 28 مئی کو اے پی سی بلائی اور تمام جماعتوں کو مطمئن کرنے کی ہر ممکن کوشش کی۔ اگر اس مسئلے پر وفاقی حکومت اور صوبائی حکومت کے درمیان معاملات کسی نتیجے پر نہیں پہنچتے اور اختلافات شدت اختیار کرتے ہیں تو یہ نہ صرف ملکی ترقی اور خوشحالی کے لیے نقصان دہ ہو گا بلکہ غیر ملکی سرمایہ کاروں کو بھی منفی پیغام جائے گا اور وہ پاکستان میں سرمایہ کاری کرنے سے ہچکچائیں گے۔

سیاسی جماعتیں اپنے اختلافات کو مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کی کوشش کریں اور ایسی فضا کو جنم دیں کہ نہ صرف ملکی بلکہ غیر ملکی سرمایہ کار بھی یہاں بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کرنے کی طرف راغب ہوں۔ ہمیشہ امن اور سیاسی استحکام ہی سرمایہ کاری کے لیے راہ ہموار کرتا ہے جہاں امن نہ ہو اور حکومتیں آپس کے اختلافات کو ختم نہ کر سکیں وہاں قومی ترقی اور خوشحالی کا کوئی منصوبہ بھی پایہ تکمیل تک نہیں پہنچتا۔ پاک چین اقتصادی راہداری منصوبہ اپنی اہمیت کے لحاظ سے ایک بہت بڑا تجارتی منصوبہ ہے جس سے نہ صرف پورا ملک بلکہ ہمسایہ ممالک بھی استفادہ کریں گے۔ اس لیے پاکستان کی ترقی اور خوشحالی کے لیے یہ ناگزیر ہے کہ وفاقی حکومت' خیبرپختونخوا حکومت اور دیگر سیاسی جماعتیں اپنے اختلافات کو مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کی کوشش کریں اور اس منصوبے کو جلد از جلد پایہ تکمیل تک پہنچائیں۔