اور اب جھاڑکھنڈ میں پاک بھارت نمائش پر حملہ

موجودہ حالات میں دونوں ملکوں کی قیادت دور اندیشی کا مظاہرہ کر رہی ہے‘ جو بڑی اچھی بات ہے


Editorial January 11, 2016
انتہا پسندوں کی کوشش ہے کہ کوئی ایسا کام کیا جائے جس سے پاکستان اور بھارت کے درمیان مذاکرات کا عمل شروع نہ ہوسکے۔ فوٹو : فائل

لاہور میں بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کے کابل سے نئی دہلی جاتے ہوئے چند گھنٹوں کا اسٹاپ اوور لینے سے پاک بھارت تعلقات میں بہتری کی جو امید پیدا ہوئی تھی اسے پٹھانکوٹ ائیر بیس پر دہشت گردی کے حملے نے خراب کرنے کی کوشش کی مگر اس بار بھارت کا سرکاری رد عمل قدرے محتاط رہا جس سے ان عناصر کی تسلی نہ ہو سکی جو تعلقات کی کشیدگی کو اپنے لیے مفید تصور کرتے ہیں لہذا انھوں نے اگلے روز بھارتی ریاست جھاڑکھنڈ میں ہونے والی پاک بھارت نمائش پر دھاوا بول دیا، توڑ پھوڑ کی اور پاکستانی اسٹال بند کرا دیا۔

اصل میں یہی انتہاپسند عناصر دونوں ملکوں کے غریبی و ناداری کی دلدل میں پھنسے ہوئے کروڑوں عوام کے حقیقی دشمن ہیں جو ان کی زندگی میں کسی بہتری کے امکان کے مخالف ہیں۔ پٹھانکوٹ حملے کے فوراً بعد بھارتی میڈیا نے اپنی توپوں کا رخ سیدھا پاکستان کی طرف کر دیا اور ہماری سیکیورٹی ایجنسیوں کو ملوث کرنے کی روایتی کوشش کی۔ لیکن شیوسینا نے جو کچھ کیا' وہ بھارتی انتہا پسندوں کی ذہنیت کو آشکار کرنے کے لیے کافی ہے۔ رپورٹ کے مطابق شیوسینا کے کارکنوں نے دھرادون میں ہونے والی پاک بھارت نمائش پر حملہ کر کے اسٹال بند کرا دئے اور پاکستان کے خلاف نعرے بازی کی اور توڑ پھوڑ بھی کی۔ بعد میں انتظامیہ کی جانب سے سیکیورٹی فراہم کی گئی تا کہ نمائش کو جاری رکھا جا سکے۔

شیوسینا کے دل کو پھر بھی تسلی نہ ہوئی اور نمائش کا نام ہی بدلوا کر دم لیا۔ انڈو پاک نمائش سات جنوری کو شروع ہوئی تھی جسے اتوار کو ختم ہونا تھا۔ پاک بھارت تعلقات معمول پر لانے کے صرف بھارتی انتہا پسند ہی خلاف نہیں بلکہ اسی سوچ کے حامی سرحد کے اِس جانب بھی موجود ہیں اس حوالے سے دونوںپڑوسی ممالک کے لیے مشکلات موجود ہیں۔ حالات کا تقاضا یہ ہے کہ دونوں ملکوں کی قیادت باہمی مذاکرات کا عمل شروع کرے اور کسی اشتعال میں نہ آئے۔ انتہا پسندوں کی کوشش ہے کہ کوئی ایسا کام کیا جائے جس سے پاکستان اور بھارت کے درمیان مذاکرات کا عمل شروع نہ ہوسکے۔

موجودہ حالات میں دونوں ملکوں کی قیادت دور اندیشی کا مظاہرہ کر رہی ہے' جو بڑی اچھی بات ہے لیکن بھارتی حکومت کو اپنے ہاں شیوسینا اور اس جیسی دیگر تنظیموں کی سرگرمیوں پر کڑی نظر رکھنی چاہیے۔ بھارتی انتہا پسند ماضی میں اپنے ہی ملک میں دہشت گردی کی واردات کرچکے ہیں' مدھیہ پردیش میں مالیگاؤں میں ایسا ہی ہوا تھا۔ بھارتی ریاست گجرات میں گودھرا ٹرین حادثہ بھی مشکوک تھا اور یہ کہا جا رہا ہے کہ اس حادثے کے پس منظر میں بھارتی انتہا پسند تھے۔ بہر حال پاکستان اور بھارت کی قیادت کو موجودہ حالات میں انتہائی دور اندیشی اور زیرکی کا مظاہرہ کرنا چاہیے تاکہ انتہا پسندوں کے عزائم کو ناکام بنایا جا سکے۔