1971 کے سنگین حوالے

سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ نواز شریف کی حکومت سندھ سے سردمہری کوئی اتفاقی بات تھی یا مصروفیت اس کی وجہ تھی؟


Zaheer Akhter Bedari January 11, 2016
[email protected]

سندھ اور وفاق کے درمیان رینجرز کے اختیارات کے حوالے سے جو کھینچا تانی شروع ہوئی تھی وہ اب پھیل کر سینیٹ اور پختونخوا کے ذمے دار لوگوں تک پہنچ گئی ہے۔ سیاسی حلقے اس خوش گمانی کا شکار تھے کہ وزیر اعظم کی کراچی آمد سے یہ مسئلہ حل کی طرف جائے گا لیکن نواز شریف کی وزیراعلیٰ سندھ کی طرف بے اعتنائی نے ان حلقوں کی خوش گمانی کو مایوسیوں میں بدل کر رکھ دیا۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ نواز شریف کی حکومت سندھ سے سردمہری کوئی اتفاقی بات تھی یا مصروفیت اس کی وجہ تھی؟

اس سوال کے جواب میں پاکستان کی پوری تاریخ سامنے آ جاتی ہے۔ مشرقی پاکستان ملک کا ایک بڑا صوبہ تھا اور مغربی پاکستان سے سیکڑوں میل دور تھا جس تک پہنچنے کا کوئی آزادانہ زمینی راستہ بھی نہیں تھا اس صورت کے پیش نظر ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ مرکز کی طاقتیں مشرقی پاکستان کو زیادہ سے زیادہ اختیارات دے کر اس کا اعتماد برقرار رکھنے کی کوشش کرتیں لیکن ہوا یہ کہ ون یونٹ بنا کر اس کی آبادی کی سیاسی طاقت توڑنے کی کوشش کی گئی اور اس نامنصفانہ سیاست کی وجہ مرکز مشرقی پاکستان کی سیاسی طاقت توڑنے کی دھن میں اس قدر آگے نکل گیا کہ پاکستان ہی ٹوٹ گیا۔

1971ء کے اس تلخ تجربے کے بعد باقی رہ جانے والے پاکستان کی سیاست کا قبلہ درست کر کے چھوٹے صوبوں کا اعتماد حاصل کیا جاتا لیکن بدقسمتی سے ہو یہ رہا ہے کہ چھوٹے صوبوں کے ساتھ ایسی سیاست کی جا رہی ہے کہ چھوٹے صوبوں کی قیادت مرکز کی اس سیاست سے سخت بدگمان ہو رہی ہے جس کا اندازہ ان صوبوں کے حکمرانوں اور سیاستدانوں کے بیانات سے لگایا جا سکتا ہے۔ خورشید شاہ کا شمار صوبے کے سنجیدہ سیاستدانوں میں ہوتا ہے لیکن رینجرز کے اختیارات کے حوالے سے خورشید شاہ کے بیانات ناراضگی کی حدود سے نکل کر نافرمانی کی حدود میں داخل ہونے لگے تھے اسی قسم کے بیانات وزیراعلیٰ سندھ اور ان کے مشیروں کی طرف سے سامنے آتے رہے ہیں وزیراعلیٰ سندھ اس امید کے ساتھ اسلام آباد گئے تھے کہ متنازعہ مسائل کا کوئی معقول حل نکل آئے گا لیکن وزیراعلیٰ سندھ کو اسلام آباد سے خالی ہاتھ لوٹنا پڑا۔

تناؤ اور کشیدگی کی یہ صورتحال اب کس مرحلے میں داخل ہو گئی ہے اس کا اندازہ چیئرمین سینیٹ میاں رضا ربانی کے اس بیان سے لگایا جا سکتا ہے جس میں موصوف نے کہا ہے کہ ''صوبائی خودمختاری واپس لی گئی تو وفاق کے سر پر کالے بادل منڈلانے لگیں گے۔'' رضا ربانی کا شمار بھی پاکستان کے سنجیدہ سیاستدانوں میں ہوتا ہے، اگرچہ ان کا تعلق پیپلز پارٹی سے ہے اور پیپلز پارٹی سندھ میں برسر اقتدار بھی ہے لیکن رضا ربانی ملک کے ایک اعلیٰ ادارے سینیٹ کے چیئرمین بھی ہیں، اس تناظر میں سیاسی حلقے ان سے سنجیدگی اور اعتدال کی توقع رکھنے میں حق بجانب ہیں لیکن ان کے بیانات میں جو تلخی نظر آ رہی ہے اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ چھوٹے صوبوں اور وفاق کے درمیان کشیدگی اور بے اعتمادی کن حدوں کو چھو رہی ہے۔ رضا ربانی نے کہا ہے کہ صحت اور تعلیم کے شعبے صوبائی حکومتوں کی تحویل میں ہوتے ہیں لیکن ان شعبوں پر وفاق نے قبضہ جما رکھا ہے۔ ربانی کا کہنا ہے کہ ملک صوبائی خودمختاری پر مزید تجربات کا متحمل نہیں ہو سکتا۔ رضا ربانی نے کہا کہ آج ملک میں حالات 1970ء کی دہائی جیسے ہیں۔

پختونخوا کے وزیر اعلیٰ پرویز خٹک نے کہا ہے کہ اقتصادی راہداری سے ہمیں فائدہ نہ ہوا تو ہم کسی کو اس کا فائدہ نہیں ہونے دیں گے۔ اس راہداری میں منصفانہ حصہ نہ ملا تو راہداری کو ہم اپنے صوبے سے گزرنے نہیں دیں گے، ہمیں مغربی روٹ چاہیے ہمیں صرف سڑکوں پر نہ ٹرخایا جائے۔ سب کچھ ''بڑا بھائی'' ہڑپ کر جاتا ہے، آواز اٹھانے پر غدار کہا جاتا ہے۔ میں پختونخوا کے حقوق کی جنگ ہر صورت لڑوں گا۔ وفاق جان لے کہ ہم اپنا حق چھینیں گے ہی نہیں بلکہ حق نہ ملا تو راہداری کو اپنے صوبے سے گزرنے بھی نہیں دیں گے۔ خٹک نے کہا کہ وفاق اقتصادی راہداری کے پورے معاہدے کو منظر عام پر لائے اس معاہدے کو آج تک اسمبلی یا کسی دوسرے فورم پر لایا ہی نہیں گیا۔ لگتا ہے صرف دال میں کچھ کالا نہیں بلکہ پوری دال کالی ہے۔ مرکزی حکومت پنجاب کی ترقی ہی کو پورے پاکستان کی ترقی سمجھتی ہے۔ پنجاب کے حوالے سے یہ ذاتی اعتراض بھی اٹھائے جاتے رہے ہیں کہ بڑا بھائی ملک کا وزیراعظم ہے اور چھوٹا بھائی ملک کے سب سے بڑے صوبے کا وزیراعلیٰ ہے۔

سندھ اور پختونخوا کے اعلیٰ اکابرین کی طرف سے مرکز اور پنجاب کے خلاف اس قسم کے سخت بیانات اور عدم اعتماد سے بلاشبہ 1971ء کا دور یاد آتا ہے، لیکن بدقسمتی یہ ہے کہ 1971ء میں مشرقی صوبے کی علیحدگی کے بعد بھی پاکستان باقی رہا تھا، اگر خدانخواستہ پاکستان اپنے رہنماؤں کی مہربانیوں سے ایک بار پھر 1971ء کے دور میں جاتا ہے تو اب باقی کیا بچے گا؟ چھوٹے صوبوں کے رہنماؤں کو مرکز کی ناانصافیوں کے خلاف آواز اٹھانے سے کوئی نہیں روک سکتا لیکن ان سیاسی مدبرین کو اس بات کا خیال رکھنا چاہیے کہ چھوٹے صوبوں کی آزادی اور حقوق کا دائرہ کار کیا ہے؟

یہ سوال اس لیے برحق ہے کہ سندھ میں جو کشیدگی پھیلی ہے اس کا آغاز رینجرز کے دائرہ کار سے ہوا ہے سندھ کی حکومت رینجرز کے اختیارات کا دائرہ سیاستدانوں کی کرپشن تک بڑھتا نہیں دیکھنا چاہتی۔ مرکز کرپشن کو رینجرز کے دائرہ اختیار میں شامل سمجھتا ہے اور اسی پس منظر میں مرکز رینجرز کے اختیارات کا تعین کرنے پر اصرار کر رہا ہے اور اس حوالے سے ڈاکٹر عاصم حسین کی ذات سامنے آتی ہے جن پر کرپشن کے علاوہ دہشت گردوں کی مدد وغیرہ کے الزامات ہیں۔ صوبوں کے اختیارات میں مرکز کی دخل اندازی کی کوئی حمایت نہیں کر سکتا لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا کرپشن بھی صوبائی خودمختاری میں شامل ہے؟

پاکستان میں 68 سال سے لوٹ مار کا جو بازار گرم ہے اس کی وجہ سے اس ملک کے 20 کروڑ غریب عوام کی زندگی محرومیوں کا شکار ہو کر رہ گئی ہے۔ غربت، مہنگائی، بے روزگاری نے غریب عوام کی زندگی کو عذاب بنا کر رکھ دیا ہے۔ اس عذاب سے عوام کو نکالنے کے لیے اربوں کھربوں کی کرپشن کو روکنا پڑے گا لیکن کرپشن کا دائرہ کار اگر صرف سندھ تک محدود رکھا جائے گا تو پھر سندھ کے رہنما یہ اعتراض کرنے میں حق بجانب ہوں گے کہ ان کے ساتھ نہ صرف امتیازی سلوک کیا جا رہا ہے بلکہ انتقام لیا جا رہا ہے اس الزام سے بچنے کے لیے کرپشن کے خلاف آپریشن کو پورے پاکستان تک وسیع کرنا ضروری ہے یہی ایک طریقہ ہے جو کم از کم سندھ میں موجود کشیدگی کو کم یا ختم کر سکتا ہے ورنہ بقول خورشید شاہ بات دور تک چلی جائے گی۔

مقبول خبریں