میئر و ڈپٹی میئرز کے انتخابات میں تاخیر کیوں

بلدیاتی حکومتوں کے فنڈ سے بغیر تصدیق کے بڑے بڑے بل ادا کرکے مقامی وسائل کا بے دریغ استعمال کیا جارہا ہے


Editorial January 12, 2016
انتخابات سپریم کورٹ کے احکام پر ہوئے ہیں لہٰذا سپریم کورٹ بھی انتخابات کے اگلے مرحلوں میں تاخیری ہتھکنڈوں کے خلاف ایکشن لے۔ فوٹو: فائل

خدا خدا کرکے چاروں صوبوں میں بلدیاتی انتخابات کا انعقاد عمل میں آیا جس پر عوام خوش و مطمئن تھے لیکن انتخابات کے اگلے مرحلوں میں تاخیر کے باعث انتشار اور چہ میگوئیاں گردش میں ہیں، یہاں تک کہ متحدہ قومی موومنٹ کی رابطہ کمیٹی کے سینئر ڈپٹی کنوینر ڈاکٹر فاروق ستار نے بلدیاتی انتخابات کے ابتدائی 3مرحلوں کے بعد مخصوص نشستوں اور میئر، ڈپٹی میئرز کے انتخابات میں تاخیر کو ممکنہ دھاندلی کا پیش خیمہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ عوامی مسائل کے حل میں تاخیر کی سازش کی جارہی ہے۔

اور یہ بات تو حقیقت ہے کہ اب تک بلدیاتی حکومت صرف کاغذوں تک محدود ہے، اگر یکم جنوری سے مقامی حکومتوں کا کام شروع ہوگیا ہوتا تو عوام کے مسائل کے حل اور وسائل کا صحیح استعمال بھی شروع ہوچکا ہوتا، جون میں مقامی حکومتوں کے لیے بجٹ پیش کرنے کی تیاری بھی کرلی جاتی اور عوام بھی ان کے ساتھ ہوتے۔

اس قسم کی سازش آئین کے آرٹیکل 140Aکی سراسر خلاف ورزی ہے۔ اس پر ایکشن لینے کی ضرورت ہے کہ انتخابات کو ڈیڑھ ماہ کا عرصہ گزر چکا ہے اور اس دوران جو فنڈز بلدیاتی وزیر نے استعمال کیے ہیں وہ عوامی ووٹ کی نفی، عوامی وسائل پر قبضہ کرنے اور بلدیاتی نمائندوں کو ان کے جمہوری حق سے محروم کرنے کے مترادف ہے کیونکہ ان وسائل اور فنڈ کو بیوروکریٹس استعمال کر رہے ہیں اور بلدیاتی حکومتوں کے فنڈ سے بغیر تصدیق کے بڑے بڑے بل ادا کرکے مقامی وسائل کو بے دریغ استعمال کیا جارہا ہے تاکہ نئی آنے والی بلدیاتی حکومت کے پاس فنڈکی کمی ہوجائے۔

واضح رہے نو منتخب بلدیاتی نمائندے جمعرات کے روز اپنے عہدوں کا حلف اٹھائیں گے۔ حلف برداری کے بعد مخصوص نشستوں کے لیے شیڈول جاری کیا جائے گا، پنجاب اورسندھ حکومتوں کی جانب سے مخصوص نشستوں کی تعداد سے متعلق ابھی تک نوٹیفکیشن جاری نہیں کیا گیا ہے۔

دوسری جانب الیکشن کمیشن نے پنجاب اور سندھ کی صوبائی حکومتوں کو کہا ہے کہ وہ بلدیاتی انتخابات کے انتخابی عمل کی تکمیل کے لیے مخصوص نشستوں کی تعداد کا نوٹیفکیشن جاری کریں بصورت دیگر الیکشن کمیشن خود جمعہ کو نوٹیفکیشن جاری کرکے شیڈول جاری کردے گا۔ مناسب ہوگا کہ تاخیر کے باعث پیدا ہونے والی افواہوں کے سدباب کے لیے مخصوص نشستوں کے انتخابات اور میئر، ڈپٹی میئرز و دیگر انتخابات کے لیے شیڈول کا فوری اعلان کیا جائے۔ چونکہ انتخابات سپریم کورٹ کے احکام پر ہوئے ہیں لہٰذا سپریم کورٹ بھی انتخابات کے اگلے مرحلوں میں تاخیری ہتھکنڈوں کے خلاف ایکشن لے۔