چرسیوں کا باغ اور شریر لڑکا
کہاوت تو ایک ہندی کی بھی ہے کہ بستی ابھی بسی نہیں ہے اور ڈاکو یا فقیر آگئے
QUETTA/
KARACHI:
کہاوت تو ایک ہندی کی بھی ہے کہ بستی ابھی بسی نہیں ہے اور ڈاکو یا فقیر آگئے لیکن اس کہاوت میں تھوڑا سا ٹیڑھا پن ہے کیوں کہ جو بات ہم کرنے والے ہیں اس میں یہ پتہ ذرا مشکل سے چلے گا کہ فقیر کہیں یا ڈاکو ... کیونکہ دونوں ہی بڑے ٹھیک بیٹھ رہے ہیں لیکن خوف خلق خدا کے پیش نظر اس کہاوت کو گولی ماریئے اس کی جگہ ایک پشتو کہاوت پر گزارہ کیجیے
لنڈے لا حلال نہ دے
او یار خانک پہ سر را روان دے
اب ''لنڈے'' اور ''خانک'' کا ترجمہ اردو میں تو مشکل ہے لیکن اس کا مفہوم تھوڑا بہت پیش کر سکتے ہیں کہ جانور ابھی ذبح نہیں ہوا ہے اور گوشت مانگنے والے ''لگن'' سر پر رکھے آنا شروع ہو گئے ہیں، آپ چاہیں تو تجارتی کاریڈور یا راہدری کا ترجمہ ''لنڈے'' کر سکتے ہیں، رہے لگن سر پر اٹھا کر آنے والے بلکہ باہم جوتم پیزار کرنے والے تو جو آپ کی مرضی ...کسی کو بھی قرار دیں ہمیں کوئی اعتراض نہیں، آپ تو جانتے ہیں کہ ہم تجارت کے ''ت'' سے بھی واقف نہیں ہیں اور ثبوت آپ کے سامنے ہے کہ واقف ہوتے تو اپنے آپ کو بیج نہ ڈالتے اچھے سے داموں پر... لیکن یونہی بیکار سٹر رہے ہیں تو اس لیے کہ سب کچھ سیکھا ہم نے ... نہ سیکھی ہوشیاری، سچ ہے دنیا والو کہ ہم ہیں اناڑی ، حالاں کہ ایسے بھی ہوتے ہیں کہ
آج میں نے اپنا پھر سودا کیا
اور پھر میں دور سے دیکھا کیا
لیکن پھر بھی جب اڑوس پڑوس میں اتنا شور شرابا ہو تو کان دھرنا ہی پڑتے ہیں بلکہ اب تو یہ شور شرابا، تو تو میں میں یعنی یو یو آئی آئی کے دائرے سے نکل کر کچھ ''جو تم پیزار''تک پہنچتا ہوا نظر آرہا ہے۔
کبھی کبھی ہم سوچتے ہیں کہ یہ چین والے بھی سوچیں گے کہ کن بے چین لوگوں سے پالا پڑا ہے، ہم نہیں جانتے کہ چین میں چرسی ہوتے ہیں یا نہیں لیکن چینی اور کسی زمانے میں افیمی بہت ہوا کرتے تھے حتیٰ کہ ایک پوری جنگ بھی افیون کے ٹائٹل پر لڑی گئی تھی ورنہ ان کو چرسیوں کا وہ لطیفہ یاد آجاتا جو خالص اپنے ہاں کی پروڈکٹ ہے۔
کہتے ہیں چرسیوں کا ایک ٹولہ ایک جگہ دم لگانے بیٹھتا تھا، ایک دن ایک چرسی بولا بڑی اچھی جگہ ہے دیکھو پانی کا چشمہ بھی بہہ رہا ہے اگر سامنے والی زمین پر ایک باغ لگایا جائے تو پھر دم لگانے کا مزہ آجائے، دوسرے چرسیوں نے بھی تائید کی کہ واقعی باغ لگانے سے یہاں چرس پینے کا مزہ ہی کچھ اور ہو جائے گا اس کے بعد کش بھی لگاتے گئے اور باغ کا نقشہ بھی ترتیب دینے لگے کہ اس طرف سیب ہوں گے وہاں مالٹے کے پیڑ ہوں گے وہاں گلاب اور دوسرے پھول ہوں گے... سوٹا ختم ہوتے ہوتے باغ مکمل ہو گیا، بلکہ پیڑوں پر پھل بھی لگ گئے ادھر نشہ بھی پورا ہو چکا تھا اس لیے سامنے اپنے ''لگائے'' ہوئے باغ کا مزہ لینے لگے جو تھا ہی نہیں، پھر اچانک ایک چرسی کو خیال آیا کہ سامنے کچھ فاصلے پر ایک گھر بھی ہے۔
بولا یار باغ تو ٹھیک ہے لیکن یہ جو سامنے والا گھر ہے اس میں ایک شریر لڑکا رہتا ہے، دوسرے نے بھی تائید کی ہاں وہ بہت شیطان لڑکا ہے اور ہمارے باغ کا پھل ضرور توڑے گا، مسئلہ گھمبیر ہو گیا تھا اچھے خاصے پھل دار اور لہلہاتے ہوئے باغ کے لیے خطرہ پیدا ہو گیا تھا، ایک چرسی ان میں کچھ تیز مزاج کا تھا وہ بولا کیسے توڑے گا ہمارے باغ کا پھل۔ دوسرا بولا ضرور توڑے گا وہ بڑا ہی بدمعاش لڑکا ہے۔ تیز مزاج چرسی بولا میں اس کی ٹانگیں نہ توڑ دوں گا، بڑا آیا ہمارا پھل چرانے والا ۔ لیکن دوسرے چرسیوں کے اس کے بارے میں کچھ زیادہ ہی ''تحفظات'' تھے، چنانچہ تیز مزاج چرسی بولا ، ابھی اسی وقت اس کا فیصلہ ہو جائے گا آؤ میرے ساتھ۔ سب چل پڑے نشے کے خمار میں کچھ لڑکھڑاتے لہراتے اس گھر کے قریب پہنچ گئے، وہ لڑکا گھر کے سامنے ہی کھیل رہا تھا، تیز مزاج چرسی کی سربراہی میں یہ اس کے سر پر کھڑے ہوئے۔
کیوں بھئی تم ہمارے باغ کا پھل توڑو گے ۔ لڑکا حیران کھڑا تھا۔ ایک چرسی بولا ، یہ ضرور توڑے گا ۔ اس کی خاموشی بتا رہی ہے کہ اس کے دل میں چور ہے۔ ہاں ہاں یہ ضرور ہمارا پھل توڑے گا ۔ تیز مزاج چرسی نے لڑکے کو پکڑ کر کہا میں اسے ابھی مزہ چکھاتا ہوں ... اور لڑکے کو اٹھا کر پتھر پر پٹخ دیا۔ بے چارے کی اسی وقت جان نکل گئی، مبہوت کھڑے رہ گئے کہ باغ کا تو کہیں وجود بھی نہیں تھا اور پھل چرانے والے کو کیفر کردار تک پہنچا دیا گیا۔ لڑکے کا باپ گھر سے بندوق لیے نکل آیا اور اس نے چاروں چرسیوں کو کیفر کردار تک پہنچا دیا۔
بے چارے چینیوں کو اس کہانی کا بالکل بھی پتہ نہیں ہو گا کیونکہ وہ ''چرسی'' نہیں ہوتے صرف چینی ہوتے ہیں اور چینی بھی وہ جو ''خواب افیم'' سے جاگ چکے ہیں، لیکن چرسی تو اب بھی چرسی ہیں ان کو تو اپنے باغ کی فکر ہونی ہی چاہیے اس لیے باغ لگانے سے پہلے ہی اگر سارے ''تحفظات'' دور کیے جائیں تو بہتر رہے گا۔ ویسے ہم چاہتے تو ہیں کہ اقتصادی راہداری اور تحفظات پر کچھ کہیں لیکن بدقسمتی سے نہ تو ہم ماہر اقتصادیات ہیں نہ ماہر راہداریات اور نہ ہی ماہر تحفظات ، ہم تو صرف چرسیوں سے واقف ہیں چرسیوں کے باغ کے بارے میں بھی تھوڑا بہت جانتے ہیں اور وہ شریر لڑکا تو واقعی بڑا شریر ہے کیونکہ باغ سے پہلے بھی وہ ان چاروں چرسیوں کو پریشان کیے ہوئے ہے۔
اس لیے ہمیں فکر ہے کہ کہیں باغ لگانے کے بعد یہ لڑکا سارا پھل چرا نہ لے اس لیے اس کا کچھ کرنا ضرور چاہیے، کیا کرنا چاہیے؟ اس کی ہمیں فکر اس لیے نہیں ہے کہ جو کرنا چاہیے وہ چرسی کر ہی رہے ہیں تو پھر ہمیں پریشان ہونے کی کیا ضرورت ہے؟ اور کافی دیر سے ہم اپنے دل کو یہی سمجھانے کی کوشش کر رہے ہیں کہ آخر تم قاضی تو نہیں ہو جو شہر کے غم میں ''دبلے'' ہو رہے ہو ۔ کیونکہ قاضی کو تو اصولی طور پر دبلے ہونے کے بجائے موٹا ہونا چاہیے۔
لیکن کیا کریں ہماری طبیعت ہی ایسی ہے کہ ادھر خان کی گھوڑی بغیر دم اور کانوں کا بچہ دیتی ہے اور ادھر ہم کٹیا پکڑ کر یہ سوچنے لگتے ہیں کہ کل کو اگر یہ بچہ بڑا ہو کر کیچڑ میں پھنس گیا تو اسے کہاں سے پکڑ کر نکالیں گے، اسی لیے ہمیں بڑی چنتا ہو رہی ہے کہ چرسیوں کے باغ کا کیا بنے گا، شریر لڑکا تو اپنی شرارت سے باز آنے والا نہیں ہے اس کا پچھلا ریکارڈ ہی اس کا ثبوت ہے کہ آیندہ بھی یہ وہی کرتا رہے گا جو اب تک کرتا رہا ہے وجہ اس کی یہ ہے کہ اس کا گھر عین باغ کے کنارے بلکہ درمیان میں ہے جب تک چرسیوں کی خبر ہو گی پھل چرا چکا ہو گا۔
پتہ نہیں ہمیں دو اور کہانیاں کیوں یاد آرہی ہیں ایک تو وہ اسکول میں پڑھی ہوئی لالچی کتے کی کہانی ہے جس کے منہ میں روٹی کا ٹکڑا تھا اور ایک پل پر سے گزر رہا تھا جب کہ دوسری کہانی اس شخص کی ہے جسے ایک لال کیچڑ میں پڑا ہوا مل گیا تھا اور وہ اس لال کو دریا میں دھونے لگا تھا اور لال اس کے ہاتھ سے چھوٹ کر دریا میں گر گیا تھا، پھر وہ پاگل ہو کر پھرتا تھا اور یہی کہتا تھا کہ دھونے سے نہ دھونا ہی بہتر تھا۔