ملک بھر میں بجلی کی طویل بندش

مملکت خداداد کے ارباب بست و کشاد توانائی بحران سے جلد از جلد نجات حاصل کرنے کے لیے ملٹی آپشنز پر غور و فکر کر رہے ہیں


Editorial January 17, 2016
صورت حال یہ ہے کہ کراچی میں بھی بجلی کا بحران موجود ہے۔ شہر کے کئی علاقوں میں لوڈ شیڈنگ ہورہی ہے۔ فوٹو: فائل

مملکت خداداد کے ارباب بست و کشاد توانائی بحران سے جلد از جلد نجات حاصل کرنے کے لیے ملٹی آپشنز پر غور و فکر کر رہے ہیں اور ابتدائی طور پر ایران سے بلوچستان کے لیے لی جانے والی 700 میگاواٹ بجلی کو 1000 میگاواٹ تک بڑھانا چاہتے ہیں۔

لیکن مزید بجلی کے حصول سے کہیں زیادہ اہم بات یہ ہے کہ اندرون ملک بجلی کی ٹرانسمشن لائینوں اور وائرنگ کے نظام کو درست کیا جائے جس کی وجہ سے بجلی کا وافر حصہ لائن لاسز میں ضایع ہو جاتا ہے جب کہ محکمے کے حساب دان لائن لاسز کو بھی صارفین کے بلوں میں ڈال کر اپنا حساب سیدھا کر لیتے ہیں۔ اور اب گزشتہ روز جو ملک بھر میں بجلی کی بندش کا جو واقعہ ہوا ہے اخباری خبر کے مطابق مظفر گڑھ کے قریب مین ٹرانسمیشن لائن ٹوٹنے پر منگلا اور چشمہ پاور پلانٹ پر دباؤ بڑھنے سے دونوں پاور پلانٹس ٹرپ کر گئے جس کی وجہ سے ملک کا 70 فیصد علاقہ کئی گھنٹے تک بجلی سے محروم ہو گیا جب کہ 15 سے زائد پاور پلانٹس بھی بند ہو گئے۔

پنجاب سمیت اسلام آباد، آزاد کشمیر اور خیبر پختونخوا کے کئی شہروں میں بجلی بند ہو گئی جو کئی گھنٹوں بعد بحال کی جا سکی۔ ایئرپورٹس پر بھی پروازیں تاخیر کا شکار ہو گئیں۔ متعدد شہروں میں بجلی 8 سے 10 گھنٹے تک غائب رہی۔ صورت حال یہ ہے کہ کراچی میں بھی بجلی کا بحران موجود ہے۔ شہر کے کئی علاقوں میں لوڈ شیڈنگ ہورہی ہے ۔یہاں بھی بحران کی وجہ جہاں بجلی کی کم پیداوار ہے وہاں ناقص ٹرانسمیشن لائنیں ہیں۔ حکومت کو اس صورت حال پر توجہ دینی چاہیے۔