جنگل کے مذاکرات جنگل کے معاہدے

انسان نے جنگل کے قانون کو مسترد تو کردیا لیکن صدیوں سے طاقت کی برتری کا قانون مہذب شہروں میں جاری ہے ۔


Zaheer Akhter Bedari November 01, 2012
[email protected]

جنگل کی زندگی میں نہ کوئی قانون ہوتا ہے، نہ کوئی انصاف، نہ کوئی تہذیب ہوتی ہے نہ کوئی اخلاق، یہاں صرف طاقت ہی قانون ہوتا ہے، طاقت ہی انصاف، طاقت ہی تہذیب ہوتی ہے اور طاقت ہی یہاں کا اخلاق ہوتا ہے۔

اس سسٹم کو مہذب انسان جنگل کا قانون کہہ کر اس سے نفرت کا اظہار کرتا ہے۔ جنگل میں چرند بھی ہوتے ہیں، پرند بھی، درند بھی۔ چرند تعداد میں درند سے بہت زیادہ ہوتے ہیں لیکن درند کے آگے بے بس ہوتے ہیں۔ ایک جنگل میں ایک درندہ جانوروں کا ہر روز شکار کرتا تھا۔ جانوروں کا خون بہانا اس کی ہابی بن گئی تھی۔ عموماً جنگل کے درندے جانوروں کا شکار اپنا پیٹ بھرنے کے لیے کرتے ہیں۔ جب ان کا پیٹ بھرجاتا ہے تو یہ درندے جانوروں کا مزید شکار نہیں کرتے لیکن جس درندے کا ہم یہاں ذکر کررہے ہیں، وہ اس عادتِ بد کا شکار تھا کہ وہ تفریحِ طبع کے لیے جانوروں کو مارتا تھا۔ جانوروں کے اس بے دریغ نقصان پر اہلِ جنگل بہت پریشان تھے۔

ایک دن جانوروں نے اس ظلم، اس درندگی کے خلاف ایک اجلاس کیا۔ اس اجلاس میں درندے کے ظلم کے خلاف بہت ساری تجاویز پر غور ہوتا رہا، ہر جانور اپنی تقریر کے آخر میں اس نکتے پر آکر رک جاتا کہ اس درندگی کو روکنا ممکن نظر نہیں آتا۔ آخر چند امن پسند جانوروں نے یہ تجویز پیش کی کہ اس مسئلے پر درندے سے مذاکرات کیے جانے چاہئیں۔ بی لومڑی نے سوال کیا کہ مذاکرات کس سے کیے جائیں۔ جنگل میں تو بہت سارے درندے ہیں ایک سے مذاکرات کریں گے تو دوسرا ہمیں کھاتا رہے گا۔ اگر درندہ ایک ہو تو مذاکرات ہوسکتے ہیں۔ جب درندوں سے جنگل بھرا ہو تو مذاکرات کس کس سے کیے جائیں؟ ایک گائے نے روتے ہوئے کہا کہ اس درندے نے اس کے معصوم چھوٹے سے بچّے کو کھالیا ہے، جس سے میں بہت محبت کرتی تھی لیکن سوال یہ ہے کہ درندہ گھاس نہیں کھاسکتا، درختوں کے پتوں پر گزارا نہیں کرسکتا۔

اس کے پیٹ کا میکنزم ہی ایسا ہے کہ گوشت اور خون کے بغیر اس کا پیٹ نہیں بھر سکتا۔ لومڑی نے بلکہ کچھ لومڑیوں نے درندے کی اس جبلت کو سمجھنے کے باوجود اس بات پر اصرار کیا کہ مذاکرات ہونے چاہئیں۔ آخر مذاکرات کرنے کا فیصلہ ہوا، اس کے لیے ایک وفد ترتیب دیا گیا۔ یہ وفد درندے کی خدمت میں حاضر ہوا اور جھک جھک کر سلام کرنے کے بعد بولا۔ حضور ہم آپ کی مجبوری سے واقف ہیں آپ کا پیٹ صرف گوشت ہی سے بھر سکتا ہے۔ ہم اپنا گوشت آپ کی خدمت میں ہر روز پیش کرنے کے لیے تیار ہیں، ہماری گزارش صرف اس قدر ہے کہ آپ اپنی بھوک بلکہ حیوانی بھوک سے زیادہ ہمارا جانی نقصان نہ کریں۔ آپ ہمارے پیچھے چھلانگیں لگانے، ہمارے ریوڑوں پر حملہ کرنے اور بلاوجہ بہت سارے جانوروں کو مارنے کے بجائے ایک جگہ آرام سے تشریف رکھیں۔ جہاں آپ فرمائیں ہم ایک جانور ہر روز آپ کی خدمت میں پیش کردیا کریں گے۔

درندے نے دل ہی دل میں اس پیشکش پر غور کیا اور انتہائی عیّارانہ انداز میں بولا۔ چلو ہمیں تمہاری یہ تجویز منظور ہے۔ یوں جنگل کا یہ معاہدہ امن طے پایا اور ہر روز ایک جانور بادشاہ حضور کی خدمت میں جان کا نذرانہ پیش کرنے جانے لگا۔ ایک دن جنگل کی لومڑی کا نمبر آیا۔ لومڑی بڑی پریشان تھی کہ آج اسے اپنی جان سے ہاتھ دھونا پڑے گا۔ وہ بہت دیر تک سوچتی رہی پھر اپنے منصوبے کے مطابق درندے کی خدمت میں بہت لیٹ حاضر ہوئی۔ درندے کو لومڑی کی اس گستاخی پر بڑا غصّہ آیا، اس نے دھاڑتے ہوئے لومڑی سے کہا۔

تو اتنی دیر میں کیوں آئی، لیٹ آنے کی تجھ میں ہمت کیسے ہوئی۔ لومڑی نے اپنے منصوبے کے تحت درندے سے کہا، حضور میں تو وقت پر نکلی تھی، راستے میں ایک اور درندہ مل گیا۔ وہ مجھے کھانا چاہتا تھا، میں بڑی مشکلوں سے بھاگ آئی ہوں کہ امن معاہدے کی خلاف ورزی نہ ہو۔ درندہ غرّایا، کس درندے کی یہ ہمت کہ وہ میرے شکار کو کھائے۔ چل بتا وہ درندہ کہاں ہے؟

لومڑی دل ہی دل میں بہت خوش ہوئی اور درندے کو ایک بڑے کنویں کے پاس لے آئی۔ بولی حضور اس کے اندر ہے۔ حضور نے غصے سے جب پانی پر نظر ڈالی تو اسے پانی میں ایک درندہ نظر آیا۔ دوسرے درندے کو دیکھ کر جب اس نے غصّے سے اس پر چھلانگ لگائی تو سیدھے کنویں میں جاگرا۔ لومڑی نے کنویں میں جھانکتے ہوئے کہا حضور کنویں میں کوئی شیر نہ تھا بلکہ یہ آپ کی موٹی عقل کا پھیر تھا، لومڑی کی ترکیب سے درندہ کنویں میں مر گیا لیکن جنگل درندوں سے بھرا ہوا تھا۔ جنگل کے جانور کس کس سے معاہدہ کرتے، لومڑی کس کس کو کنویں میں گراتی۔

انسان نے ہزاروں سال کی کوششوں کے بعد ایک انسانی تہذیب کی نشوونما کی، ایک تہذیب کی بنیاد ڈالی اور جنگل کے قانون کا شہروں میں انسانی بستیوں میں داخلہ بند کیا۔ انسان نے جنگل کے قانون کو حقارت سے مسترد تو کردیا لیکن صدیوں سے یہ قانون یعنی طاقت کی برتری کا قانون مہذب شہروں میں جاری ہے۔ آج اس قانون کی ایک بدترین شکل کا ہمیں سامنا ہے۔ یہ بارودی گاڑیوں کا قانون ہے۔ یہ ٹائم بموں کا قانون ہے، یہ خودکش حملوں کا قانون ہے۔ اس حیوانی قانون سے سیکڑوں انسان مارے جارہے ہیں۔ انسانی بستیوں میں درندے گھس آئے ہیں اور اپنے اعلیٰ اور مقدس آدرش کے لیے بے گناہ انسانوں کو مار رہے ہیں۔

ان درندوں کو درندگی سے روکنے کے سارے جتن ناکام ہورہے ہیں، بار بار مذاکرات ہوئے، بار بار معاہدے ہوئے لیکن حیوان ان معاہدوں کی خلاف ورزی کرتے رہے۔ اب بھی بعض اہل عقل مذاکرات پر زور دے رہے ہیں، بلاشبہ مذاکرات ہی ہر مسئلے کا حل ہیں لیکن مذاکرات انسانوں کے درمیان ہوتے ہیں۔ حیوانوں اور انسانوں کے درمیان نہیں، پھر مذاکرات کس کس سے کروگے۔ ہمارے سامنے بے شمار غولِ بیابانی کھڑے ہیں، ہر ایک کا ایجنڈا انسانی خون ہے۔ مقصد ساری دنیا پر غلبے کا حصول ہے۔

جب یہ مقصد واضح ہے تو مذاکرات کا مقصد کیا ہوگا؟ اب ان احمقانہ اور غیر حقیقت پسندانہ منصوبوں ، بہانوں کا وقت نہیں۔ ہم ایک ایسی جگہ کھڑے ہیں جہاں اینٹ کا جواب پتھر سے دینے کے سوا کوئی راستہ نہیں۔ ہاں اس بات پر آپس میں مذاکرات کرو کہ اینٹ کا جواب پتھر سے کس طرح دیا جائے کہ سانپ بھی مر جائے لاٹھی بھی نہ ٹوٹے۔ حیوانوں کا خاتمہ بھی ہوجائے، بے گناہ انسانوں کا جانی نقصان بھی نہ ہو یا کم سے کم ہو۔

مقبول خبریں