خوراک کی عالمی قیمتیں جون جولائی میں 10 فیصد بڑھیں

بلند قیمتوں سے جنوبی ایشیائی خطے کی فوڈ سیکیورٹی کوخطرہ لاحق ہے، فوڈ پرائس واچ


APP November 02, 2012
خراب موسم، تجارتی رکاوٹیں، آئل پرائسز اور بائیو فیول مہنگائی کا باعث ہیں، ورلڈبینک فوٹو : رائٹرز

اشیائے خوراک کی عالمی قیمتوں میں جون اور جولائی 2012 کے درمیان 10 فیصد اضافہ ہوا جبکہ گندم جیسی اجناس کی قیمتیں 25 فیصد تک بڑھ گئیں۔

ورلڈ بینک کے فوڈ پرائس واچ کے مطابق بلندقیمتیں جنوبی ایشیا بھر میں فوڈ سیکیورٹی پر اثرات مرتب کر رہی ہیں۔ ورلڈ بینک کا کہنا ہے کہ خراب موسم، تجارتی رکاوٹیں، آئل پرائسز اور بائیوفیول اشیائے خوراک کی مہنگائی کا باعث ہیں جس سے خطے کے لاکھوں افراد کی آمدنی غیرمتوازن ہونے کے باعث ان کی فوڈ سیکیورٹی خطرے میں پڑ گئی ہے، اشیائے خوراک کی بڑھتی ہوئی قیمتیں ترقی پذیر ممالک میں بلند کورانفلیشن کا باعث ہیں تاہم اتارچڑھائو نسبتاً غریبوں پر زیادہ دبائو کا باعث ہے جو ان کی غذائی ضروریات کے لیے بہت نقصان دہ ہے۔

ورلڈ بینک کے سینئراکنامسٹ جوز کیوسٹا کا کہنا ہے کہ جولائی میں اشیائے خوراک کی قیمتوں میں تیزی سے اضافہ ہوا، غربت پر اس کے اثرات 20 فیصد تک پہنچ سکتے ہیں، اسکول میں بچوں کی کارکردگی، ان کی نشوونما اور گروتھ پر اثرات عارضی نہیں بلکہ پوری زندگی پر حاوی ہو سکتے ہیں۔