ایران سے پابندیاں ہٹانے کا آغاز

عالمی برادری نے ایران سے پابندیاں اٹھائے جانے کا خیرمقدم کیا جب کہ امریکا نے ایران پر کچھ نئی پابندیاں عائدکردی ہیں


Editorial January 19, 2016
ایران کو مغرب سے دوبارہ جوڑنے اور دنیا میں اپنے نئے سیاسی کردار کی ادائیگی کے لیے اب مناسب گنجائش مہیا کرنی پڑیگی۔ فوٹو: فائل

BEIJING: ایٹمی توانائی کے عالمی ادارے نے ہفتہ کو اس بات کی تصدیق کی کہ ایران نے8.5 ٹن افزودہ یورینیم روس بھیج دیا چنانچہ اب ایران ایٹم بم نہیں بناسکے گا،اس نے12 ہزار سینٹری فیوجز ناکارہ بنادیے جب کہ ارزک کے یورینیم بنانے کی صلاحیت رکھنے والے ایٹمی ری ایکٹر پر منوں مٹی ڈال دی ہے۔ بلاشبہ ڈپلومیسی کی اعصاب شکن جنگ میں ایران و امریکا کے درمیان ایٹمی معاہدہ 2015 ء تاریخ کے اوراق میں زریں عنوان سے لکھا جائے گا ۔ یہ ایٹمی تنازع کے پر امن حل کی جانب ایک عہد آفریں فیصلہ ہے ۔

عالمی برادری نے ایران سے پابندیاں اٹھائے جانے کا خیرمقدم کیا جب کہ امریکا نے ایران پر کچھ نئی پابندیاں عائدکردی ہیں۔ امریکی صدر بارک اوباما نے کہا ہے کہ ایران کے خلاف عالمی پابندیاں ختم ہوگئیں،اب ایران دنیا کے ساتھ نئے تعلقات بنائے، جوہری معاہدہ کامیاب سفارت کاری کا نتیجہ ہے تاہم ایران اورامریکا کے درمیان اختلافات اب بھی برقرار ہیں۔ نیویارک ٹائمز نے اپنے اداریہ میں لکھا کہ شکر ہے ایران امریکا ایٹمی معاہدہ سے دنیا محفوظ ہوگئی لیکن حقیقت میں جب تک امریکا اور مغربی ممالک اسرائیل کی جارحیت کو لگام نہیں ڈالیں گے اور امریکا اس کی پشت پناہی سے دست کش نہیں ہوگا دنیا محفوظ نہیں رہ سکے گی۔

ایرانی صدر حسن روحانی نے کہا کہ چیلنجز اور سازشوں کے باوجود دنیا کی طرف دوستی کا ہاتھ بڑھایا ہے، پابندیوں کے خاتمے کے بعد دنیا کے ساتھ نئے باب کا آغاز ہوگا ۔ادھر اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل بان کی مون نے اسے ایک سنگ میل قرار دیا ہے۔برطانیہ اور فرانس نے بھی خیر مقدم کیا ہے تاہم اسرائیلی وزیراعظم بنجمین نیتن یاہو نے کہا کہ ایران اب بھی جوہری ہتھیار بنانا چاہتا ہے مگر ہم ایران کو ایٹم بم نہیں بنانے دیں گے۔ عالمی برادری کو دیکھنا چاہیے کہ چیلنجز کے باوجود امریکا ایران معاہدہ ایک اہم برک تھرو کی شکل میں سامنے آیا ہے ۔

اگرچہ چیلنجز اب بھی درپیش ہیں، ایران کے ایٹمی پروگرام کے خلاف مغربی میڈیا نے ویسا ہی طرز عمل اختیار کیا اور اتنے ہی ہولناک انکشافات کیے جو عراق کی بربادی کا سبب بن گئے مگر بعد میں عالمی قوتوں کو شرمسار ہوکر اعتراف کرنا پڑا کہ سب کچھ غلط تھا، اب جب کہ دی ہیگ میں ایران اور امریکا میں1981ء سے جاری مالی تنازع حل کرلیا گیا ہے، اس کے تحت امریکا ایران کو400 ملین ڈالر کے ساتھ 1.3 ارب ڈالرسود کی مد میں ادا کرے گا نیز دنیا بھر میں امریکا نے ایران کے100 ارب ڈالر غیرمنجمد کیے ہیں۔ چنانچہ ایران کو مغرب سے دوبارہ جوڑنے اور دنیا میں اپنے نئے سیاسی کردار کی ادائیگی کے لیے اب مناسب گنجائش مہیا کرنی پڑیگی۔