کیا فرماتے ہیں ماہرین آئین و قانون
وہ سب سے پہلے اسے حلوائی کی دکان سمجھ کر دادا جی کی فاتحہ پڑھنے لگتا ہے
ہم قانونی ماہر تو نہیں ہیں اور اس پر ہم خدا کا لاکھ لاکھ شکر ادا کرتے ہیں اور اس پر بھی مستزاد اللہ کا کرم یہ ہے کہ کبھی کوئی مقدمہ بھی نہیں لڑے ہیں اور اس لیے نہیں لڑے ہیں کہ جو ''لڑے'' ہیں وہ کیا لڑے ہیں ویسے ہی ''پڑے'' ہیں، اس کی وجہ یہ ہے کہ ہماری طبیعت حضرت یسوع مسیح ؑ کے اس قول کے مطابق ہے کہ کوئی ترے ایک گال پر طمانچہ مارے تو دوسرا بھی آگے کرو، اگر تمہیں ایک میل بیگار پر لے چلے تو دو میل چلے جاؤ، اگرچہ کچھ لوگ اس اصول میں ترمیم کر کے کہتے ہیں کہ کوئی اگر تمہارے ایک گال پر تھپڑ مارے تو دوسرا آگے کرو لیکن اگر اس پر بھی تھپڑ مارے تو تیسرا گال تو تمہارے پاس ہے نہیں، اس لیے ہاتھ آگے کرو لیکن مکا بنا کر ۔۔۔ لیکن ہم نے اس ترمیم شدہ قول میں ترمیم در ترمیم کرتے ہوئے ہاتھ آگے کرنے کو تو مان لیا ہے لیکن مکا بنا کر نہیں بلکہ ماتھے تک لے جانے یا دونوں ہی ہاتھ جوڑنے کی صورت دی ہوئی ہے۔
چنانچہ آج تک جن جن نے ہمیں تھپڑ مارے ہم نے ان کے ساتھ یہی کیا اور اتفاق سے یہ سارے تھپڑ ہمیں صرف ایک ہی ''شخص'' نے مارے ہیں جس کا نام نامی اور اسم گرامی ''حکومت'' ہے لیکن ہمیں کیا پتہ تھا کہ ہمارے اس ''صلح جو'' پالیسی کا اس پر الٹا اثر ہو گا اور تھپڑ مارنے کو عادت سی بنا لے گا چنانچہ تازہ ترین صورت حال یہ ہے کہ یہ جگہ، موقع، وقت اور ضرورت دیکھے بغیر ہمیں تھپڑ پر تھپڑ، تھپڑ پہ تھپڑ مارتی چلی جارہی ہے اور ہم سوائے ہاتھ جوڑنے اور کچھ بھی نہیں کر پا رہے ہیں بلکہ اب تو کبھی کبھی تھپڑ سے تسلی نہیں ہوتی تو ''مکا، لات'' تک بھی آجاتی ہے خصوصاً ''بل'' اور مہنگائی کی لاتیں تو اتنی زبردست مارتی ہے کہ گدھا اپنی لات پر شرما جائے اور ہم
غیر کو یارب وہ کیسے منع گستاخی کرے
گر حیا بھی اس کو آتی ہے تو شرما جائے ہے
مطلب اس سارے بتنگڑ کا یہ ہے کہ ہم قانون کے معاملے میں بالکل ویسے ہی کورے ہیں جیسے کوئی سیاسی لیڈر شر م سے کورا ہو سکتا ہے اس لیے جو مسئلہ اس وقت ہمیں پریشان کیے ہوئے ہیں اس کے بارے میں قانونی رائے لینے کے لیے آپ سے رجوع کر رہے ہیں۔ چلیے قانون کے ساتھ آئینی اور اصولی بھی کہہ دیجیے، مسئلہ یہ ہے کہ کیا حلوائی کی دکان پر دادا جی کی فاتحہ قانونی ہے یا غیر قانونی، کیونکہ عرصہ دراز سے جو بھی حکومت میں آتا ہے۔
وہ سب سے پہلے اسے حلوائی کی دکان سمجھ کر دادا جی کی فاتحہ پڑھنے لگتا ہے، وہ تو اچھا ہے کہ آئی ایم ایف عرف لکشمی دیوی ہمارے ساتھ ہے ورنہ اب تک حلوائی کی دکان میں ککھ بھی نہیں ہوتا، یہ انکم سپورٹ اسکیمیں، یہ ترقیاتی کام، یہ فنڈز کی لوٹ مار، یہ وزیروں اور منتخب نمایندوں کی مراعات اور حاتم طائیاں ، یہ وقتی اور غلط اسکیمیں اور پالیسیاں ، ماہرین آئین و قانون سے ہمارا بس اتنا سا سوال ہے کہ کیا ''جمہوریت'' اسی شتر بے مہار کا نام ہے کہ جہاں جی چاہے منہ مارے، اگر آپ کو بازار میں کوئی ایسی عورت نظر آئے جس کے تن پر ضروری لباس نہ ہو، چادر نہ ہو، دوپٹہ نہ ہو اور اس نے نہایت ہی خوب صورت جرابیں پہن رکھی ہوں، چمک دار ہائی ہیل پہن رکھے ہوں اور بالوں میں پھولوں کا گجرا لگا رکھا ہو تو آپ اس عورت کو کیا کہیں گے۔
چلیے سوال کو تھوڑا سا آسان کر دیتے ہیں۔ عورت نے نہایت ہی قیمتی لباس اور جوتے پہنے ہوئے ہیں، ہار سنگھار بھی برابر ہے، ہونٹوں پر لپ سٹک بھی لگا رکھی ہو، ہاتھوں میں مہندی اور انگلیوں میں قیمتی انگوٹھیاں بھی ہوں ہاتھ میں قیمتی پرس بھی لٹکا رکھا ہو اور ساتھ ہی اس کا بیٹا اس کی انگلی تھامے اس حالت میں ہو کہ اس کے تن پر میلے اور پھٹے ہوئے ناکافی کپڑے ہوں، بغیر جوتے کے پاؤں مسلسل ننگے رہنے کی وجہ سے میلے اور پھٹے ہوئے ہوں، سر پر ٹوپی نہ ہو ناک بہہ رہی ہو اور چہرہ میل سے اٹا ہوا ہو تو آپ اس کی اس بنی سنوری ماں کو کیا کہیں گے۔
تو پھر وہی کچھ کیوں اپنے لیڈروں اور حکمرانوں سے کیوں نہیں کہتے جو انکم سپورٹ اسکیموں، فضول صوابدیدیاں عبث قسم کے منصوبے، عشر و زکوٰۃ کے نام پر اسٹوپڈ قسم کی غلط بخشیاں تو بڑے ذوق و شوق سے کرتے ہیں لیکن اپنے ملک میں بے پناہ توانائی (پانی سورج اور ہوا) کے ہوتے ہوئے بھی تاجکستان وغیرہ سے بجلی لانے کے منصوبے بنا رہے ہیں، منصوبے بھی نہیں صرف شیخ چلیاں بلکہ لاف و گزاف بلکہ عوام کو دھوکا دینے کی کوششیں کرتے ہیں۔
لوریاں دیتے رہتے ہیں اور ملک میں اندھیرا کیے ہوئے ہیں یہ بھی عجیب طرفہ تماشا ہے کہ گھر میں روشنی نہیں اور آپ اندھیرے میں لپ سٹک لگائے جارہے ہیں، سڑک پر دیوالیاں منا رہے ہیں اور گھر میں اندھیرا ہے، ایک کہانی یاد آرہی ہے پتہ نہیں اس بات سے اس کا کچھ تعلق ہے یا نہیں لیکن اندھیرے گھر کے تعلق سے یاد آیا ہے تو کچھ نہ کچھ تعلق تو ضرور ہو گا، کہتے ہیں ایک پیشہ ور چور ایک رات اپنے جواں ہوتے ہوئے بیٹے کو بھی واردات پر ساتھ لے گیا تاکہ باپ دادا کا یہ ''فن شریف'' وہ بھی سیکھ لے، چلتے چلتے باپ نے بتایا وہ دیکھو جس مکان کی کھڑکی سے روشنی آرہی ہے۔
اسی گھر میں چوری کریں گے، بیٹے نے پوچھا مگر وہاں تو روشنی ہو رہی ہے پھر ہم کیسے چوری کر پائیں گے؟ ۔ باپ نے کہا، یہ گھر ایسا ہی ہے، میں چار پانچ مرتبہ اسی طرح روشنی کے باوجود اس میں چوری کر چکا ہوں، دیا ایسا ہی جلتا رہتا ہے اور میں اپنا کام کر کے نکل لیتا ہوں۔ بیٹے نے معصومیت سے کہا، بابا آپ اس گھر میں چار پانچ بار چوری کر چکے ہیں اور پھر بھی اس کا دیا جل رہا ہے لیکن چار پانچ بار چوری کے باوجود ہمارے گھر میں دیا نہیں جلتا، کہانی کا تعلق آپ جوڑیں ہم تو صرف اتنا پوچھنا چاہتے ہیں کہ جب ایک حکومت چار پانچ سال کے لیے آتی ہے تو کیا قانونی اور آئینی طور پر وہ ایسے فیصلے کرنے کی مجاز ہے؟ جس کے اثرات صدیوں تک یہ بدنصیب ملک اور بدنصیب ترین عوام بھگتتے رہیں گے، بے نظیر توقتل ہو گئیں۔
یہ جانے دیجیے کہ کس نے مارا؟ کیوں مارا؟ کیسے مارا؟ یہ کہانی پھر سہی، لیکن حلوائی کی دکان پر جو خیر خیرات کا سلسلہ شروع ہوا اور صاف ظاہر ہے کہ قرض ادھار پر شروع ہوا ، یہ رہنے دیجیے کہ اس سے فائدہ کیا؟ یا ملک میں روشنی ضروری تھی یا دادا جی کا فاتحہ ۔ لیکن یہ تو ہم پوچھ سکتے ہیں کہ یہ قرضہ جو دادا جی کے فاتحہ پر خرچ ہو رہا ہے، یہ ہم اور ہماری آیندہ تین چار پشتیں ادا کریں گی، کیا کسی نے ''ادائیگی'' کرنے والوں سے پوچھا ہے کہ یہ قرضہ تم ادا کرو گے تو ''لینے'' کے بارے میں کیا خیال ہے، ہم یہ بھی نہیں پوچھیں گے کہ جب مرحومین عظام اور شہدائے کرام کی اپنی جائیدادوں کا نہ کوئی حساب ہے نہ حد ، تو فاتحہ حلوائی کی دکان پر کیوں؟ اور وہ بھی حلوائی سے پوچھے بنا ۔کیا فرماتے ہیں ماہرین آئین و قانون بیچ اس مسئلے کے۔