افغانستان میں قیام امن…چند معروضات

اگر افغانستان میں امن ہو گا تو پاکستانی سرمایہ کاروں کے لیے وسط ایشیا تک زمینی روٹ محفوظ ہو جائے گا


Editorial January 20, 2016
ضرورت یہ ہے کہ افغانستان میں قیام امن کے لیے حقیقی معنوں میں عملی اقدامات کیے جائیں۔ فوٹو : فائل

افغان مفاہمتی عمل کی بحالی کے سلسلے میں تشکیل کردہ ''چار ملکی رابطہ کمیٹی'' نے تمام طالبان گروپوں پر زور دیا ہے کہ وہ اختلافات کو افغان عوام کی منشاء اور خواہشات کے مطابق سیاسی طور پر حل کرنے کے لیے افغان حکومت سے جلد از جلد امن مذاکرات کاآغاز کریں۔

پاکستان،افغانستان، امریکا اور چین پر مشتمل چار رکنی کمیٹی کی جانب سے یہ مطالبہ کمیٹی کے پیر کو کابل میں ہونے والے دوسرے اجلاس کے بعد جاری ہونے والے مشترکہ اعلامیے میں کیا گیا۔دفتر خارجہ کے مطابق اجلاس میں سیکریٹری خارجہ اعزاز احمد چوہدری، افغان نائب وزیر خارجہ حکمت خلیل کرزئی، افغانستان میں امریکی سفیر مائیکل میکنلے اور چین کے خصوصی نمایندہ برائے افغانستان ڈینگ ژی جن نے شرکت کی۔کمیٹی نے طالبان سے امن بات چیت کے ''روڈ میپ'' کاجائزہ لیا۔ کمیٹی کا اگلا اجلاس6فروری کواسلام آباد میں ہوگا۔اجلاس میں طالبان سے مذاکرات کے لیے سازگارماحول فراہم کرنے پرزور دیا گیا۔

ادھرافغان وزیر خارجہ صلاح الدین ربانی کا کہنا ہے کہ پاکستان نے امن عمل میں ہمیشہ ہماراساتھ دیا،پر امن افغانستان خطے اور پاکستان میں امن کی بحالی کی اولین شرط ہے۔طالبان کومذاکرات پر راضی کرلیں گے۔طالبان جتنا امن عمل سے دور رہیں گے اتناہی افغان عوام کی نظروں میں اپنی اہمیت کھودینگے۔دیرپا امن کے حصول کے لیے صبر کی ضرورت ہے لیکن یہ بات ذہن میں رہنی چاہیے کہ افغان عوام بے نتیجہ عمل ہرگز قبول نہیں کریں گے۔بی بی سی کے مطابق افغان وزیرِ خارجہ نے امید ظاہر کی کہ بات چیت کا نتیجہ مثبت نکلے گا۔

افغان وزیر خارجہ کی باتیں خاصی حد تک درست ہیں تاہم یہ بھی حقیقت ہے کہ افغان حکومت کو بھی طالبان کے حوالے سے مزید آگے بڑھنا چاہیے کیونکہ تالی دونوں ہاتھوں سے بجتی ہے۔افغانستان کی حکومت اگر مذاکرات کو بامعنی بنانے کے لیے کچھ لو اور کچھ دو کا فارمولہ اپنائے تو طالبان کے ساتھ مذاکرات کامیابی کی طرف بڑھ سکتے ہیں۔ چار رکنی کمیٹی کو بھی زیادہ واضح موقف اختیار کرنے کی ضرورت ہے کیونکہ جب تک فریقین کو ان کی حدودکا احساس نہیں دلایا جاتا' اس وقت تک فریقین کی قابل قبول حل تک نہیں پہنچ سکتے۔

افغانستان کی حکومت میں شامل افغان گروپوں کو بھی یہ احساس دلایا جائے کہ وہ طالبان کی حقیقت کو تسلیم کریں' اس کے ساتھ ساتھ طالبان کو بھی اس حقیقت کا پتہ ہونا چاہیے کہ وہ اپنے بل بوتے پر افغانستان پر کنٹرول حاصل نہیں کر سکتے۔ اس لیے ان کے لیے بہتر یہی ہے کہ وہ افغان عوام کی بھلائی کے لیے امن کا راستہ اختیار کریں۔ جہاں تک پاکستان کا تعلق ہے تو افغانستان کے وزیرخارجہ صلاح الدین ربانی نے تسلیم کیا ہے کہ پاکستان نے امن عمل میں ہمیشہ افغانستان کا ساتھ دیا ہے۔ بلاشبہ پاکستان اب بھی یہ چاہتا ہے کہ افغانستان میں امن قائم ہو کیونکہ افغانستان نے امن پاکستان کے مفادات کے تحفظ کے لیے انتہائی ضروری ہے۔

اگر افغانستان میں امن ہو گا تو پاکستانی سرمایہ کاروں کے لیے وسط ایشیا تک زمینی روٹ محفوظ ہو جائے گا اور اس طرح وسط ایشیاء کے سرمایہ کار بھی زمینی روٹ کے ذریعے پاکستان با آسانی آ جا سکتے ہیں اور یہاں سے وہ گوادر یا کراچی کا سمندری راستہ استعمال کر کے مشرق وسطیٰ اور افریقہ تک رسائی حاصل کر لیں گے'اسی طرح افغانستان میں قیام امن سے پاکستان میں بھی دہشت گردی کے واقعات میں کمی آئے گی اور پاکستان کا افغانستان سے ملحقہ سرحدی علاقے پرامن ہو جائے گا۔

لہٰذا یہ کہنا کہ پاکستان افغانستان میں امن نہیں چاہتا خلاف حقیقت بات ہے۔ اصل معاملہ یہ ہے کہ افغانستان کی حکومت میں شامل لوگ اور طالبان دونوں گروپوں کو امن کی قدر و قیمت سے آگاہی ہونی چاہیے۔ دونوں گروپ چونکہ افغان ہیں' اس لیے ان پر سب سے زیادہ ذمے داری عائد ہوتی ہے کہ وہ اپنے وطن اور یہاں بسنے والے عوام کے مفادات کا خیال کریں' امن سب سے زیادہ ضرورت افغانوں کی ہے' امریکا یا چین اور پاکستان بہر حال وہ فریق ہیں جو افغانستان کے دوست یا ہمدرد ضرور ہیں لیکن افغانستان میں ہونے والی جنگ کا سب سے زیادہ نقصان افغانستان کے اپنے لوگوں کو ہے'اس لیے افغانستان میں قیام امن کے لیے افغانستان کے لوگوں کو اپنی اناؤں اور مفادات کی قربانی دینی ہو گی۔

افغانستان کی حکومت کو چاہیے کہ وہ پاکستان کے مفادات کو بھی دیکھے۔ افغانستان میں مولوی فضل اللہ اور اس کے ساتھی روپوش ہیں' افغانستان کو ایسے شرپسند گروپوں کا خاتمہ کرنے کے لیے کارروائی کرنی چاہیے۔ یہ اسی وقت ممکن ہے جب افغانستان میں حکومت پورے ملک میں اپنی رٹ قائم کرے گی۔ بہرحال چار ملکی رابطہ کمیٹی درست سمت میں اپنا کام کر رہی ہے ' اب ضرورت یہ ہے کہ افغانستان میں قیام امن کے لیے حقیقی معنوں میں عملی اقدامات کیے جائیں۔