بیٹی سے کہنا اور بہو کو سنانا

مبارک ہو ہم نے آخر کار وہ طرز دشنام ڈھونڈ ہی لی ہے جس کے ذریعے ہم کسی کو کچھ بھی سنا سکیں گے


Saad Ulllah Jaan Baraq January 20, 2016
[email protected]

مبارک ہو ہم نے آخر کار وہ طرز دشنام ڈھونڈ ہی لی ہے جس کے ذریعے ہم کسی کو کچھ بھی سنا سکیں گے اور وہ کچھ بھی کہہ نہیں پائے گا، دراصل ایسے بہت سارے لوگ جن کو ہم کھری کھری سنانا چاہتے تھے لیکن ساتھ ہی ڈرتے بھی تھے کہ کہیں ایسا نہ ہو جائے، کہیں ویسا نہ ہو جائے، لیکن آخر کار کافی سوچ و بچار کے بعد ہم نے ایک الگ قسم کی طرز فغاں یا طرز دشنام ایجاد کر ہی لی، ہم یہ تو نہیں کہہ سکتے کہ ہم نے جو طرز فغاں کی ہے قفس میں ایجاد ... اب وہ سارے گلشن کی طرز فغاں ٹھہرے گی لیکن اتنا ہم جانتے ہیں کہ کم از کم اپنے جلے دل کے پھپھولے خوب خوب ہی پھوڑ سکیں گے۔

دراصل یہ کوئی نئی طرز فغاں یا طرز دشنام ہے بھی نہیں بلکہ ہم نے ایک پرانی طرز دشنام کو ڈویلپ کیا ہے، جسے اس ساس نے ایجاد کیا تھا جو بہو کو خوب خوب سنانا چاہتی تھی لیکن ڈرتی تھی چنانچہ وہ سب کچھ اپنی بیٹی کو سنانا شروع کیا جو اس کے دل میں ''بہو'' کے لیے اٹھتا تھا، بیٹی کو بھی اس نے اعتماد میں لیا ہوا تھا کہ میں کہتی تم سے ہوں لیکن ہدف کوئی ''اور'' ہے، اسی طرز کلام یا طرز دشنام کو اپناتے ہوئے ایک وزیر پر اپنے دل کی بھڑاس نکالنا چاہتے ہیں سو وہی کچھ ایک سابق وزیر کا نام لے کر سنائیں گے ویسے بھی لاحق اور سابق میں فرق ہی کیا ہے بقول ایک دو بیویوں کے ایک شوہر کے کہ

بیخ دے اوزی یو تربلہ
نہ آشہ خہ دہ نہ گلہ

یعنی خدا دونوں ہی کو غارت کرے نہ آشا اچھی ہے اور نہ گلہ... صرف ''کر چکا ہے'' اور ''کر رہا ہے'' کا تھوڑا سا فرق ہے

لیجیے سنیے اب افسانہ فرقت ہم مجھ سے
آپ نے یاد دلایا تو مجھے یاد آیا

تو یہ جو ''سابق وزیر'' ہے یہ بڑا ہی چور ہے بے ایمان ہے حرام خور ہے قوم و ملک کا دشمن ہے یہ جب وزیر تھا تو سرکاری خزانے کا اس نے وہ حال کر دیا تھا جو امریکا نے افغانستان کا کیا تھا، خورد برد کا شہنشاہ تھا، اپنے علاوہ اس نے اپنا پورا خاندان بلکہ پورا قبیلہ اس قوم پر چھوڑ رکھا تھا وغیرہ وغیرہ، آپ سمجھ گئے نا اگر سمجھیں ہیں تو دے تالی اور اگر نہیں سمجھے تو خدا آپ سے سمجھے... اور سابق وزیروں سے لٹوائے، یہ تو محض ایک نمونہ ہم نے پیش کیا ہے اس طرز دشنام کے ذریعے آپ کسی کو کچھ بھی سنا سکتے ہیں دیکھیے اب ہم بھارت کے لتے لیتے ہیں ''بھارت'' کی حکومت پہ تھو ہے ۔

اس کے وزیروں پر، مشیروں پر اور تیروں شہتیروں پر خدا کی مار ہے، ظالموں نے ملک کو تباہ کر کے رکھ دیا ہے عوام کے نام پر قرضے لیتے ہیں اور اسے عوام کے ذمے ڈال کر سوئس بینکوں میں پہنچاتے ہیں، اور اس کی کوئی تخصیص نہیں کہ کون سی حکومت؟ کیوں کہ یہاں جو بھی حکومت آتی ہے وہ کفن کش کا بیٹا ہوتی ہے جو باپ کو بخشوا کر اپنے ''بیٹے'' کو اپنے بخشوانے کے لیے چھوڑتی ہے، نام کی جمہوریت ہے ڈاکوؤں کی ٹولیاں آتی ہیں اور لوٹ کر چلی جاتی ہیں مختصر یہ کہ اس کم بخت ''بھارت'' کی حکومتوں کا بھگوان بیڑا غرق کرے ان کی قبر میں سوری... ''شمشان'' میں کیڑے پڑیں، اس دن کوئی بتا رہا تھا کہ ان بدبخت ''بھارتی حکومتوں'' نے ملک کو ٹریلین ٹریلین مقروض بنایا ہوا ہے آنے والی دس بارہ نسلیں تو مقروض ہی پیدا ہونگی۔

یہ جو بھارت کی حکومتیں ہیں پارٹیاں ہیں لیڈر ہیں بچہ سقہ کی سگی اولاد ہیں ڈاکو تھیں ڈاکو ہیں اور ڈاکو رہیں گی یہ ''بھارت'' یہ اس کی حکومت بلکہ حکومتیں جو کم سے کم سزا کی مستحق ہو سکتی ہیں وہ سرعام پھانسی ہے، لیکن یہ سزا کون دے، وہاں کی جو عدالتیں ہیں وہ بھی تو اسی دودھ کی بالائی ہیں ہر شاخ پر الو بیٹھا ہے اور ہر ہر مقام پر گدھ منڈلا رہے ہیں، لیکن کم بختوں کا جی ابھی تک نہیں بھرا ہے خود کیا کم تھے کہ لوٹنے کے لیے اور بھی مددگار بلدیاتی شکل میں بھی لا رہے ہیں گویا تمہارا باپ کچھ کم تھا جو تم نے اسے بھی رکھ لیا، بلکہ یوں کہیے کہ پورے کے پورے فراڈیے کھول دیے گئے اور اوپر سے

ہے اہل دل کے لیے اب یہ نظم بست و کشاد
کہ شنگ و خشت مقید ہیں اور سگ آزاد

ایک مزے کی بات آپ کو سنائیں کہ ان لٹیروں سے قوم کو نجات دلانے کے لیے جو نئے نئے نجات دہندے آتے ہیں دھرنے دیتے ہیں شور مچاتے ہیں سبز نیلے پیلے باغ دکھاتے ہیں، ٹھہریئے کہیں آپ کچھ اور تو نہیں سمجھ رہے ہیں ہم بھارت کی بات کر رہے ہیں اور دھرنوں کے سلسلے میں کسی اور کی طرف نہیں بلکہ ''انا ہزارے'' کی طرف اشارہ کر رہے ہیں، لیکن یہ ''انا ہزارے'' بھی نرے ہزارے بن کر رہ جاتے ہیں۔

یہ تو آپ کو پتہ ہے کہ ایک صوبے یعنی ''بھارت'' کے ایک صوبے جس کا نام ہمارے ذہن سے اتر گیا ہے غالباً کپک پردیش نام ہے اس کا ۔۔۔۔ اس میں ''انا ہزارے'' کی حکومت ہے جو اپنے وعدے اور دعوے کے مطابق ''نیا بھارت'' تعمیر کر چکی ہے وہ اب تک آنے والی تمام حکومتوں سے مختلف ہے کیوں کہ گزشتہ حکومتیں تو صرف لیڈی گاگا کی پرستار تھیں یعنی کہ ہم یہ کریں گے وہ کریں گے یہ ہو گا وہ ہو گا کرپشن کو ختم کریں گے جنت الفردوس تعمیر کریں گے عوام کو نہال کریں گے وغیرہ وغیرہ، لیکن یہ جو ''کپک پردیش'' میں نئی نیائے حکومت ہے وہ گاگا کے بجائے ''ہے ہے'' کی قوالی گا رہی ہے اور اتنی ڈھٹائی سے گا رہی ہے کہ آئینہ بالکل بھی نہیں دیکھتی ہوں گی ورنہ شرم سے اب تک ڈوب کر مر چکی ہوتی، اتنی دیدہ دلیری بے شرمی اور ڈھٹائی سے کہہ رہی ہے کہ ہم نے کرپشن کو بالکل ختم کر دیا ہے، لوگوں کو جنت مکین کر دیا ہے دودھ اور شہد کی نہریں بہا دیں، بلکہ سنا ہے کہ آج کل یہ تجویز زیر غور ہے کہ کیوں نہ پردیش کا نام ''سورگ پردیش'' رکھ دیا جائے ویسے بھی کپک پردیش کو نام بدلنے کی عادت پڑی ہوئی ہے، مطلب یہ کہ انا ہزارے بھی

بہر رنگے کہ خواہی جامہ می پوش
من انداز قدت را می شناسیم

جی تو اور بھی چاہتا ہے کہ اس کم بخت ''بھارت'' کو مزید کھری کھری سنا دیں لیکن فی الحال کے لیے اتنا ہی بس ہے اب تو ہم نے ابتدا کی ہے آیندہ اس کی وہ کلاس لیں گے کہ دنیا میں کسی کو منہ تو کیا ''پیٹھ'' تک دکھانے کے قابل نہیں رہے گا خود کو جمہوریت کہتا ہے بے شرم ... آخر میں ایک چھوٹا سا حقیقہ ہو جائے تو اس ''بھارت'' کی اور بھی جے کے بجائے ہے بلکہ ہے ہے ہو جائے گی۔

لوسنیں' ہمارے گاؤں کا ایک لڑکا تھا جو تھوڑا کھسکا ہوا تھا' اسے جب بھی کسی سے ڈانٹ پڑتی تھی تو وہ گھر آ کر سارا غصہ اپنی ایک بکری پر اتار دیتا تھا مثلاً باپ نے اسے کسی غلطی پر مار لگائی اور گالیاں دیں تو وہ فوراً گھر چل پڑتا تھا اور بکری پر پل پڑتا تھا اور جو بھی اس کے ساتھ ہو چکا ہوتا تھا وہ سب کچھ بکری کے ساتھ کر دیتا تھا، ایک دن اس نے کسی کو گالی دی جس پر باپ نے اسے خوب مارا اور لتاڑا، یہ سیدھا گھر پہنچا اور بکری پر پل پڑا کم بخت ناہنجار نابکار... تم لوگوں کو گالیاں کیوں دیتی پھرتی ہو ٹھہرو ابھی تجھے سیدھا کرتا ہوں۔