سری لنکا میں چیف جسٹس کیخلاف مواخذے کی کارروائی شروع

حکومت اور عدلیہ میں جاری محاذآرائی میں شدت،چیف جسٹس پر اختیارات سے تجاوز کا الزام


Online November 02, 2012
حکومت اور عدلیہ میں جاری محاذآرائی میں شدت،چیف جسٹس پر اختیارات سے تجاوز کا الزام فوٹو فائل

سری لنکا کی حکومت نے ملک کی چیف جسٹس شیرانی بندرانائیکے کے خلاف مواخذہ کی کارروائی کا آغاز کر دیا ہے۔

حکومت اور عدلیہ کے درمیان جاری محاز آرائی کے بعد حکومت نے چیف جسٹس پر الزام عائد کیا ہے کہ انھوں نے اپنے عہدے کے اختیارات سے تجاوزکیا حکومتی ترجمان کیہلیا رامبوکویلا نے کہا کہ مواخذے کیلیے دستاویزات جمعرات کو پارلیمان کے اسپیکر کے حوالے کردیے گئے ہیں۔

حکومتی ترجمان نے کسی قسم کے معین الزامات کا ذکر نہیں کیا مگر کہا کہ اس کارروائی کو پچھتر ممبران پارلیمان کی تائید حاصل ہے یاد رہے کہ سری لنکا کے صدر کو چیف جسٹس کی تعیناتی کا تو اختیار حاصل ہے مگر انھیں ہٹانے کا نہیں اور پارلیمان میں مواخذے کی کارروائی ایک حاضر سروس چیف جسٹس کو ہٹانے کا واحد راستہ ہے گزشتہ کچہ عرصہ سے سری لنکن حکومت اور چیف جسٹس کے درمیان معاملات کافی کشیدہ ہیں جنہوں نے حکومت کے خلاف کافی فیصلے کیے ہیںشیرانی بندرانائیکے سری لنکا کی پہلی خاتون چیف جسٹس ہیں جنہیں پچھلے سال اس عہدے پر تعینات کیا گیا تھاصدر مہیندا راجاپکشے کی جماعت کے پاس پارلیمان میں اکثریت ہے۔

جس کی بنا پر وہ یہ مواخذہ کی کارروائی کو کامیاب بنا سکیں مگر اس سارے عمل میں کئی ماہ لگ سکتے ہیںعالمی بار ایسوسی ایشن کے انسانی حقوق انسٹیٹیوٹ نے بی بی سی کو بتایا کہ اس اقدام کو عدلیہ کی آزادی پر قدغن لگانے کے طور پر دیکھا جا سکتا ہے ، سری لنکا کی حکومت ان آرا سے متفق نہیں ہے اور انھوں نے ان الزامات کو افسوسناک کہہ کر مسترد کر دیا ہے حال ہی میں سپریم کورٹ نے پارلیمان میں پیش کیے گئے ایک بل جس کے تحت اہم اختیارات صوبوں سے مرکزی حکومت کو منتقل کرنے کی تجویز دی گئی تھی کہ حوالے سے یہ فیصلہ دیا تھا کہ اس معاملے کی پہلے صوبائی کونسل سے توثیق کرائی جائے۔

مقبول خبریں